روٹی ، کپڑا اور مکان

روٹی ، کپڑا اور مکان
روٹی ، کپڑا اور مکان

  

تحریر: عبدالباسط

”نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم “ اس سکیم میں آپ کو دو چیزیں با آسانی نطر آئیں گی  جس میں سے ایک وزیر اعظم عمران خان کا عزم ہے اور دوسرا بے گھر افراد کو با آسانی ملنے والی ان کے ذاتی چھت۔ پہلے بات کر لیتے ہیں عمران خان صاحب کے عزم کی ۔

30نومبر 1967ءکو پاکستان پیپلز پارٹی وجود میں آئی اس جماعت کے بانی ذولفقار علی بھٹو نے عوام کیلئے ایک نعرہ بلند کیا جسے ہم سب بخوبی جانتے ہیں ۔ انہوں نے کئیں جلسے ، عوامی اجتماع اور ریلوں میں نہایت بے باقی اور والہانہ انداز میں نعرہ لگایا ”روٹی ، کپڑا اور مکان “ یہ نعرہ اتنا مقبول ہوا کہ آج تک عوام اس کے آسیر سے نکل نہیں سکی اور اگر آپ سندھ کا دورہ کر لیں تو آپ کو باآسانی اس کے سیاسی اثرات آج 52سال بھی ملیں گے لیکن اس نعرے کے عملی اثرات آپ کو پورے پاکستان میں آج بھی کہیں میسر نہیں۔

حالیہ الیکشن میں ابھر کر نکلنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین نے بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرز پر چلتے ہوئے 50لاکھ گھر دینے کا عزم ظاہر کیا جو کہ کچھ عرصہ قبل تک صرف سیاسی نعرہ کی حیثیت رکھتا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان ناممکن کو ممکن بنانے کا ہنر رکھتے ہیں شاید اسی ہنر اور سچی نیت کے سبب اللہ پاک نے انہیں بے شمار کامیابیوں سے نوازا ہے ۔ میرے نزدیک چند روز قبل رینالہ میں 50لاکھ ہاﺅسنگ سکیم کی افتتاحی تقریب سے قبل یہ نعرہ صرف سیاسی تھا لیکن مجھے یقین ہے کہ تقریب کے بعد اس نعرہ کو عملی جامہ پہنایا جائے گا ۔اپوزیشن کی جانب سے کئی مرتبہ عمران خان کے اس عزم پر قدغن لگائی گئی لیکن وہ کپتان ہی کیا جو گھبرا جائے ۔

اب ذرا آپ اس سکیم کی جانب نظر دوڑائیں کہ اس میں کون سی بنیادوں پر یہ گھر فراہم کیے جائیں تو آپ کو یقین ہو جائے گا کہ یہ سکیم حکومت کی جانب سے عوام کیلئے تحفہ ہے۔ پنجاب میں نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم کے فیز 1کا افتاح وزیر اعظم عمران خان نے خودکیا جس کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کیلئے آزادانہ گھر 10%ڈاﺅن پیمنٹ میں دیے جائیں گے ۔ 3مرلہ پلاٹس میں سنگل سٹوری (ایک بیڈروم) سے لے کر ڈبل سٹوری(4بیڈ روم ) کے گھر 16سے 26لاکھ 64ہزار تک جبکہ 5مرلہ میں سنگل سٹوری (ایک بیڈ روم) سے لے کر ڈبل سٹوری (4بیڈروم ) تک کے گھر عوام کو 20لاکھ 70ہزار سے لے کر 35لاکھ 50ہزار تک عوام کو میسر ہوں گئی ۔ اس کے علاوہ ج علاقوں مین یہ گھر بنائے جائیں گے وہاں بنیادی سہولیات جن میں سرکیں ، سیوتیج اور واٹر سپلائی سمیت سکول، پارکس، مساجد، کمرشل ائیریا، کمیونٹی سنتر، فائبر آپٹک انٹر نیٹ سیکورٹی سسٹم ، بجلی و پانی کے محفوط اور بچت پر مبنی استعمال کی سہولیات شامل ہوں گی جبکہ درخواست گزار فارم بینک آف پنجاب کی نامزدہ برانچوں میں 31مارچ تک جمع کروا سکیں گے ۔ درخواست فارم بینک آف پنجاب کی متعلقہ ضلع کی تمام برانچوں اور پنجاب کے ڈویثرنل ہیڈکواٹرز کی برانچ سے مفت حاصل کیا جا سکے گا ۔ اس سکیم کی شفافیت اور حق دار افراد تک پہنچنے اور مستفید ہونا کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس سکیم میں حصہ لینے کیلئے درخواست گزار کا صوبہ پنجاب کا رہائشی ہونا ضروری ہے ۔ جس درخواست گزار کے نام کو پلاٹ یا مکان ہوگا وہ اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ درخواست گزار کا اپنے گھر میں رہائش رکھنا اور 5سال تک فروخت کرنا پر پابندی ہونا جبکہ درخواست گزار گورنمنٹ کی جانب سے مختص کردہ کوٹہ کے تحت بھی درخواست دے سکتے ہیں جن میں سرکاری ، پولیس، فوجی ملازمین معذور افرادیا شہید کے گھر والے اور عام معذور افراد شامل ہیں ۔یہ سکیم مکمل طور ریاست کی جانب سے عوام کو تحفہ ہے جس کے ثمرات آنے والے وقت میں دیکھائی دیں گے ۔

سکیم کی افتاح کے دوران صوبائی وزیرہاﺅسنگ میاں محمود الرشید نے عمران خان سے کہا کہ عوام کیلئے 50لاکھ گھر بنانا کوئی آسان کام نہیں جس پر خان صاحب نے دیا کہ” اگر یہ آسان کام ہوتا تو ہم سے پہلے کی حکومتیں یہ کر چکی ہوتیں “۔ میرے مطابق یہ ہے عزم، بصارت اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ۔

ریاست اور سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن سیاسی نعروں کو ریاست کی ذمہ داری بنانا اور اس عملی جامہ پہنانایہ ہر لیڈر کاکام نہیں ۔ پاکستان کے وجود سے اب تک آپ نے سیاسی بصیرت رکھنے والے کئی اعلیٰ پائے کے سیاست دان دیکھے ہوں گے اور آپ ان کی طلسماتی شخصیت سے متاثر بھی ہوں گے لیکن صرف وعدوں اور نعروں کی حد تک کیونکہ نہ تو اس سے آگے کسی سیاست دان نے کبھی کہا اور نہ عوام الناس نے کبھی سوچا اور اگر کسی نے کہا ، سوچا اور کر کے دیکھا یا تو صرف میرے کپتان وزیر اعظم عمران خان نے ۔

۔

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

.

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’dailypak1k@gmail.com‘ پر بھیج دیں۔

مزید : بلاگ