سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو غلط وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا گیا: ڈاکٹر حفیظ اے پاشا

سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو غلط وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا گیا: ...
سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو غلط وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا گیا: ڈاکٹر حفیظ اے پاشا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف معیشت دان ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کا کہنا ہے کہ سابق چیئرمین ایف بی آر جہانزیب خان کو غلط وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ جہانزیب خان پر یہ الزام درست نہیں کہ ان کے ادارے نے محصولات جمع کرنے کا مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا بلکہ ٹیکس وصولیوں میں کمی کی بڑی وجہ حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے منی بجٹ اور ٹیکس پالیسیوں میں تبدیلیاں ہیں۔
ڈاکٹر حفیظ اے پاشا نے محصولات کی وصولی میں کمی کی وجوہات پر ایک تفصیلی آرٹیکل لکھا ہے جس میں انہوں نے ٹیکس کلیکشن میں کمی کی وجوہات پر روشنی ڈالی ہے۔ حفیظ اے پاشا کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مالی سال 2012-13 سے 2017-18 کے دوران انتہائی مستعدی سے ٹیکس اکٹھا کیا۔ 2017-18 کے دوران جی ڈی پی کے 11 اعشاریہ 2 فیصد کے تناسب سے ٹیکس اکٹھا کیا گیا تاہم مالی سال 2018-19 کی پہلی تین سہ ماہیوں میں ٹیکس ریونیو کا گروتھ ریٹ انتہائی کم ترین سطح 3 فیصد پر آگیا حالانکہ شرح نمو کا ہدف 14 فیصد رکھا گیا تھا۔ اگر سال کے آخر تک یہی صورتحال رہی تو ٹیکس کلیکشن میں 450 ارب روپے کے خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا ۔
اگر پاکستان میں جمع ہونے والے ٹیکس کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے تو امپورٹ ڈیوٹی کی گروتھ 19 جبکہ ایکسائز ڈیوٹی کی گروتھ 12 فیصد رہی لیکن یہ بہت چھوٹے ٹیکسز ہیں۔ بڑے ٹیکسز جن سے آمدن کا زیادہ حصہ آتا ہے ان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انکم ٹیکس کی گروتھ 3 جبکہ سیلز ٹیکس کی نمو صرف ایک فیصد رہی ۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے انکم ٹیکس کی شرح 4 لاکھ سے کم کرکے 12 لاکھ روپے کردی گئی ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کی مد میں کم از کم 90 ارب روپے کا خسارہ ہوا۔ بڑی کمپنیوں پر عائد سپر ٹیکس بھی ختم کردیا گیا جس سے 15 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ستمبر 2018 میں پیش کیے گئے ضمنی بجٹ میں بھی بہت سے ٹیکس منہا کردیے گئے جس سے مالی سال 2018-19 میں 30 ارب روپے کا ٹیکس کم اکٹھا ہوگا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے باعث موبائل فون کارڈ سے ملنے والے انکم ٹیکس کی مد میں بھی 40 ارب روپے کی کمی ہوئی ہے۔ جنوری 2019 میں پیش کیے گئے منی بجٹ میں بینکوں سے کیش نکلوانے پر بھی ٹیکس ختم کردیا گیا جس کی وجہ سے رواں سال 10 ارب آمدنی میں کمی کا سامنا ہوگا۔ مذکورہ بالا ذرائع سے 185 ارب روپے کے ٹیکس خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ درآمدات، بینک ڈیپازٹ، برآمدات اور بجلی پر ٹیکس کی مد میں 80 ارب روپے کے ٹیکس کا الگ سے خسارہ ہوگا۔ ٹیکس پالیسی میں تبدیلی کے باعث 105 ارب روپے کے ٹیکسز اکٹھے نہیں ہوپائیں گے۔ روپے کی قدر گرنے کے باعث اہم درآمدات میں کمی آئی جس کے باعث 75 ارب روپے کا ٹیکس کم اکٹھا ہوگا۔
ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کے مطابق محصولات جمع نہ ہوپانے میں صرف ایف بی آر کی نااہلی ہی واحد وجہ نہیں ہے بلکہ حکومت کی جانب سے ٹیکس ریٹ کم کرنے اور بعض لوگوں کو ٹیکس میں چھوٹ دینے کے باعث مقررہ اہداف حاصل نہیں ہوپائے۔ حقائق کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ چیئرمین ایف بی آر جو کہ ایک تجربہ کار سول سرونٹ تھے ، انہیں غلط وجوہات کی بنا پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

مزید :

قومی -بزنس -