خدشات، خوش فہمیاں اور زمینی حقائق

خدشات، خوش فہمیاں اور زمینی حقائق

  

گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے کہا ہے کہ کورونا ابھی ختم نہیں ہوا، وبا پھیلنے کا خدشہ موجود ہے، اِس لئے ایس او پیز پر عمل کرنا ہو گا۔کورونا کے خلاف جنگ گھر بیٹھ کر جیتنی ہے، معاشی صورتِ حال دیکھ کر لاک ڈاؤن میں نرمی کی، آئندہ فیصلے بھی حالات دیکھ کر کریں گے، حکومت نے بزنس کمیونٹی اور چھوٹے تاجروں کو مزید معاشی مسائل سے بچانے کے لئے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا، مگر لوگ سمجھ رہے ہیں کہ شاید کورونا ختم ہو رہا ہے اور سڑکوں پر ہر گزرتے دن کے ساتھ لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ ریسکیو 1122 کے ذریعے گھروں تک سامان پہنچایا جا رہا ہے، روز گار ختم ہونے سے کروڑوں افراد مشکل میں ہیں۔ڈاکٹروں کی تنظیم پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن(پی ایم اے) نے کہا ہے کہ کورونا بڑھ رہا ہے،لاک ڈاؤن مزید بڑھایا جائے۔ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ لاہور کورونا وائرس کا مرکز ہو سکتا ہے، شہر میں کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے، پنجاب حکومت بھی9مئی سے بندشیں کم کرنے کے لئے تیار ہے تاہم ایس او پیز پر عملدرآمد کرنا ہو گا۔

کورونا پھیلنے،لاہور کے مرکز بننے اور کاروبار کھولنے کی باتیں بیک وقت کی جا رہی ہیں، ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایس او پیز پر عملدرآمد ہو گا، کہا تو یہی جا رہا ہے کہ ایسا کرنا ضروری ہے حکومتی عہدیدار مسلسل اپیلیں بھی کر رہے ہیں،لیکن عملاً اِس پہلو کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، جہاں جہاں بھی لوگوں کو جانا پڑتا ہے اور جہاں قطاریں لگتی ہیں وہاں کھلی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے کہ ایس او پیز کی دھجیاں کس بے دردی سے اڑائی جا رہی ہیں۔ نادرا کے دفاتر کے باہر قطاریں لگی ہیں اور قطار بنانے والے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کھڑے ہیں، کسی کو کچھ معلوم نہیں کہ جو لوگ قطاروں میں کھڑے ہیں اُن میں کون مریض ہے،اِن حالات میں اگر ڈاکٹر یاسمین راشد کہتی ہیں کہ لاہور کورونا کے پھیلاؤ کا مرکز بن سکتا ہے تو ان کا خدشہ درست ہی معلوم ہوتا ہے،لیکن اُن کا کام یہ اطلاع دے کر ختم نہیں ہو جاتا، اُنہیں ایسے عملی اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں جن سے ایس او پیز پر عمل درآمد ہو سکے، محض کاغذی اقدامات سے تو مثبت نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے،اِس لئے ڈاکٹروں کی رائے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے، جو زیادہ سخت لاک ڈاؤن کی بات کر رہے ہیں، لیکن حکومتی سطح پر ساری آوازیں لاک ڈاؤن نرم کرنے کے حق میں ہیں، ایسے میں یہ خدشات تو موجود رہیں گے کہ کاروباری برادری کے اصرار پر اگر مزید دکانیں کھولی جائیں گی تو رش بھی بڑھے گا اور خدشات میں بھی اضافہ ہو گا۔ ان حالات میں بلوچستان کی حکومت نے لاک ڈاؤن میں توسیع کا جو فیصلہ کیا ہے دوسری حکومتوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اس فیصلے کے مالہ، وما علیہ پر غور کر لیں،زیادہ دن نہیں گزرے لاہور میں کورونا کیسز کی تعداد بہت کم تھی،بلکہ نہ ہونے کے برابر تھی، اموات کی شرح بھی تھوڑی تھی، لیکن جب سے پابندیاں نرم ہوئی ہیں کیسز بھی بڑھ رہے ہیں اور اموات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،اِس لئے یہ ضروری ہے کہ جو سرکاری حکام لاک ڈاؤن نرم کرنے یا سمارٹ لاک ڈاؤن کی باتیں کر رہے ہیں وہ زمینی حقائق کو ایک بار پھر اچھی طرح دیکھ لیں، ڈاکٹروں کی رائے کو بھی پیش ِ نظر رکھیں، ایسا نہ ہو کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں، پھر پچھتانے سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔یہ درست ہے کہ لاک ڈاؤن طویل مدت کے لئے جاری رہنے سے معاشی مسائل بھی بڑھیں گے اور معاشرے پر اس کے دور رس اثرات بھی ہوں گے،لیکن دیکھنا ہو گا کہ اس کے سوا چارہئ کار بھی کیا ہے، کیا کوئی متبادل بھی ہے؟ اور اگر نہیں ہے تو پھر یہ کڑوی گولی نگلنا ہی ہو گی۔

ریل گاڑیاں چلانے کی جو بات کی جا رہی ہے اس پر سندھ کی حکومت نے جو اعتراضات کئے ہیں اُن کا بھی ٹھنڈے دِل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے اگر روایتی جواب دیا گیا تو اس کا کوئی بھی نتیجہ نکل سکتا ہے۔ محدود تعداد میں گاڑیاں چلیں گی تو ان پر رش ہو گا، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھیں گے اور اگر نشستوں سے زیادہ مسافر سوار ہو گئے تو اور بھی بُرا حال ہو گا ایسے میں کون ایس او پیز کی پابندیاں کرے گا اور کون کرائے گا۔اس سے پہلے جو ایس او پیز بنے کیا اُن پر کما حقہ‘ عمل ہوا؟ خود جنابِ گورنر کہہ رہے ہیں کہ لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کر دیا ہے کہ شاید کورونا ختم ہو گیا ہے اگر لوگوں کی سوچ یہی ہے تو کیا ضمانت ہے کہ اب مختلف شعبوں کے لئے جو ایس او پیز بنیں گے اُن پر عمل ہو گا۔ آج ہی کے اخبارات میں بڑی تفصیلی رپورٹیں شائع ہوئی ہیں جن میں مختلف شہروں اور شعبوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزی کا احوال وضاحت کے ساتھ درج ہے اِسی کی روشنی میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آنے والے ایس او پیز پر عملدرآمد کا عالم کیا ہو گا۔ریل گاڑیوں میں اگر نشستوں کی تعداد کے مطابق پورے ٹکٹ جاری ہوئے تو بھی اِس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ ضرورت مند لوگ ریزرویشن کے بغیر بھی گاڑیوں میں سوار ہو جائیں گے،ایسے میں کون ایس او پیز کی تقدیس کا خیال کرے گا؟ اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ریلوے سٹیشنوں پر آنے والوں کے لئے ایس او پیز تیار کر لئے گئے ہیں، اگر ان پر عملدرآمد بھی ہو سکے تو اچھا ہے،لیکن ماضی کے تجربات کی روشنی میں کوئی زیادہ امید بھی نہیں رکھی جا سکتی۔

اِس وقت سندھ اور پنجاب میں مریضوں کی تعداد تقریباً برابر ہے، پنجاب کی آبادی کو ملحوظِ خاطر رکھیں تو یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ پنجاب کے حالات نسبتاً بہتر ہیں، تاہم یہ تجزیہ کرنے کی ضرورت ہے کہ حالات کی یہ بہتری کن امور کی وجہ سے ہے اِس بہتری میں لاک ڈاؤن کا کتنا عمل دخل ہے اور دوسری احتیاطی تدابیر کا کیا کردار ہے۔ لاک ڈاؤن کی توسیع یا عدمِ توسیع کا فیصلہ انہی عوامل کی روشنی میں ہونا چاہئے اور جو شعبے کھولنے کی تجویز ہے ان میں کسی رو رعایت کا نہیں، اِس بات کا عمل دخل ہونا چاہئے کہ ان شعبوں کو کھولنے کی کتنی ضرورت ہے اور کتنی نہیں ہے،بعض حلقے دوسرے ممالک کی مثالیں دیتے ہوئے دو امور کو سامنے نہیں رکھتے، ایک تو یہ کہ وہاں وبا کے اثرات پاکستان کی نسبت بہت پہلے پہنچنا شروع ہو گئے تھے جب وہاں مریضوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی تھی اُس وقت تک پاکستان میں مریض بہت معمولی تعداد میں بیماری سے متاثر ہو رہے تھے۔ دوسرے یہ کہ جن ممالک نے لاک ڈاؤن کھولا ہے انہوں نے ایسا کرتے وقت یہ امر پیش ِ نگاہ رکھا ہے کہ وہاں مریضوں کی تعداد اپنی انتہائی بلندی تک پہنچنے کے بعد اب کم ہونا شروع ہو گئی ہے اس کی روشنی میں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ کیا پاکستان میں بھی کیس اپنی بلندی پر پہنچ گئے ہیں، ایسا نہیں ہے یہاں کیس بھی بڑھ رہے ہیں اور اموات بھی۔مزید براں وہاں کے شہری لاک ڈاؤن کی پابندی بھی اچھی طرح کرتے رہے۔ وزیراعظم، وزراء، گورنر، دوسرے حکام اور ڈاکٹروں، سب کا یہی موقف ہے کہ کورونا ابھی پھیلے گا، ایسے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کا جو فیصلہ کیا گیا ہے اس میں رِسک فیکٹر کا عنصر بہت زیادہ ہے، کیا اِس فیصلے پر نظرثانی کا کوئی امکان ہے؟

مزید :

رائے -اداریہ -