کوڑے اور شمسی توانائی سے بجلی کے منصوبے!

کوڑے اور شمسی توانائی سے بجلی کے منصوبے!

  

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت خصوصی اجلاس میں بجلی کی پیداوار اور دیہاتوں میں روشنی کے لئے کوڑے کرکٹ اور سولر سسٹم سے بجلی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا گیا،وزیراعلیٰ نے 150میگاواٹ بجلی کوڑے سے جلد پیدا کرنے کا کہا اور ساتھ ہی سولر سسٹم کو فروغ دینے کی بھی ہدایت کی، اس کے تحت سولر کے نظام کو اَپ ڈیٹ کر کے دور دراز کے دیہاتوں اور سکولوں کے لئے بجلی مہیا کی جائے گی، اس کے لئے پچاس سے سو گھروں پر مشتمل سولر پروجیکٹ لائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق سولر سے سرسبز پنجاب کے لئے بھی بہت مدد ملے گی اور شجرکاری ممکن ہو گی۔ صوبائی حکومت کا یہ منصوبہ بہتر، قابل ِ عمل اور مفید ہے۔ اس سے ایک بار اخراجات کے بعد پھر مستقل بچت ہو گی اور بجلی کے تعطل کا بھی خدشہ نہیں ہو گا، تاہم حکومت کو احتیاط کرنا ہو گی کہ یہ منصوبے پہلی بار سامنے نہیں آئے۔ کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کا سلسلہ تو 70ء کی دہائی سے سامنے ہے اور اس کے لئے عالمی بنک کا تعاون بھی شامل تھا،لیکن آج تک عمل نہ ہوا، بلکہ یہ تک طے نہ ہوا کہ کوڑے سے بجلی پیدا کرنے والا پلانٹ کہاں لگایا جائے گا، اسی طرح سولر کو رواج دینے کی کوشش بھی اب تک ناکام رہی۔اگرچہ نجی طور پر لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ یہ سسٹم مہنگا ہونے کی وجہ سے استعمال میں کم ہے،لیکن جہاں تک سرکاری سطح پر استعمال کا تعلق ہے تو یہ تجربہ اب تک اِس لئے ناکام رہا کہ دیکھ بھال کا کوئی نظام وضع نہ کیا گیا۔ جی ٹی روڈ پر لاہور سے جہلم کے درمیان کئی شہروں، حتیٰ کہ لاہور میں علامہ اقبال ٹاؤن اور وحدت روڈ پر سولر سٹریٹ لائٹ لگائی گئیں جو دیکھ بھال نہ ہونے سے خراب ہو ئیں۔ علامہ اقبال ٹاؤن اور وحدت روڈ والی سٹریٹ لائٹس تو بالکل ختم ہو چکیں،بلکہ جی ٹی روڈ پر بھی پوری طرح جل نہیں پاتیں کہ جو خراب ہو اس کی مرمت نہیں ہوتی، جبکہ چوری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ سولر کا یہی نظام نجی طور پر درست کام کرتا ہے، حتیٰ کہ سولر بجلی سے ٹیوب ویل بھی چلتے ہیں تاہم سرکاری شعبے میں یہ سلسلہ ناکام ہو چکا ہے، اِس لئے ضروری ہے کہ پہلے ان تجربوں کی ناکامی کا مکمل اور تفصیلی جائزہ لے کر اُن وجوہات کا پتہ کر لیا جائے جو ناکامی کا باعث بنیں اور پھر اگلا قدم اٹھایا جائے، جو ان نقائص سے پاک ہو، جو پہلے پیدا ہو چکے۔ یہی حال کوڑے سے بجلی پیدا کرنے کا ہے۔ یہ بھی بہت پرانا منصوبہ ہے جسے لاہور میں شروع کیا جانا تھا یہ بوجوہ شروع نہ ہوا اور اب صورتِ حال یہ ہے کہ کوڑے کی ڈمپنگ مسئلہ بن چکی۔ محمود بوٹی کی ڈمپنگ والی جگہ بھر گئی اور وہاں پودے لگا کر پارک بنانے کا سلسلہ جاری ہے، لہٰذا پہلے جگہ تلاش کی جائے اور یہ بھی دیکھا جائے کہ ایسا مقام ہو جہاں کوڑے کے ٹرک مسلسل رسائی کے اہل ہوں۔ منصوبوں کا خیر مقدم، عملی تفسیر اور تکمیل کا انتظار رہے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -