بے بس وزیراعظم

بے بس وزیراعظم
بے بس وزیراعظم

  

جناب وزیراعظم یہ آپ نے کیا فرما دیا”لاک ڈاؤن کی ذمہ دار اشرافیہ ہے“۔کیا آپ کو احساس ہے یہ الفاظ لاک ڈاؤن سے پسے عوام پر بم کی مانند گرے ہیں۔ پاکستان کا کاروبار تباہ ہوچکا۔ فیکٹریاں آسیب زدہ۔ چمچماتے بازار کالی راتوں کی مانند۔ شاپنگ مالز کی دمکتی ٹائلوں پر سرمئی مٹی کی تہیں۔ گاہکوں کی راہ تکتے گرد آلود کرسیوں والے ریستوران۔ مالکوں کے منہ چڑاتی ہوٹلوں کی خالی لابیاں۔ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ ناپید۔ ڈرائیور، کنڈیکٹر فاقوں کے شکار۔ کوڑا چننے والوں سے لے کر ہیوی انڈسٹری تک، سب کچھ بند۔ فقط اس بخار کی خاطر جس پر پوری دنیا میں سیاست کھیلی جا رہی ہے۔ اوپر سے آپ نے معاشرے کو مفلوج کرنے کا سارا الزام اشرافیہ پر دھر دیا۔ اشرافیہ کے سارے Pillars وزیراعظم کے سامنے سرنگوں رہتے ہیں۔ بے پناہ اختیارات کا مالک وزیراعظم جب ایسی بے بسی کا اظہار کرے تو اسے کیا معنی دیے جا سکتے ہیں؟۔

اس بیان نے بہت بڑا پنڈورا بکس کھول دیا ہے۔ اشرافیہ سے آپ کی کیا مراد ہے؟۔ فوج۔۔۔اپوزیشن۔۔۔عالمی اسٹیبلشمنٹ۔۔۔یا علاقائی طاقتیں۔۔۔؟لاک ڈاؤن اور اشرافیہ کے بارے تعلق میں آپ کو مزید بتانا پڑے گا۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ لاک ڈاؤن محض سماجی فاصلے کا نام نہیں تھا بلکہ یہ کروڑوں پاکستانیوں کی معاشی زندگیوں کو اجاڑ چکا ہے۔کیا فوج آپ پر رائے مسلط کر سکتی تھی۔ کیا فوج لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کرسکتی تھی؟۔ نہیں۔۔۔ فوج تو وہ ہے جس نے دو حکومتی مشیروں کی سنگین غلطیوں کو بلنڈرز میں تبدیل ہونے سے پہلے پڑوسی ممالک کے بارڈرز پر زائرین کا ڈیٹا، انسپکشن اور ہیلتھ ایمرجنسی قائم کی۔ اپوزیشن۔۔۔تو کیا آپ بلاول بھٹو کی باتوں میں آگئے تھے۔ بلاول بھٹو تو great panic کا شکار تھے۔ وباء کے ابتدائی دنوں میں تواتر سے مغربی میڈیا، ڈاکٹرز کو سٹڈی کر رہے تھے۔ وژن دھوکہ دے گیا۔ سزا سندھ کے عوام کو بھگتنا پڑی۔ بلاول بھٹو کے لاشعور نے، کراچی کی سڑکوں اور اندرون سندھ گلی محلوں میں،کرونا کے شکار لاکھوں سندھیوں کو لاشوں کی مانند تڑپتے دکھایا۔ نتیجتہ بلا سوچے سمجھے فوری لاک ڈاؤن کے احکامات جاری کر دیے۔ دو ماہ گذر گئے۔ لاکھوں لاشیں تو نظر نہ آسکیں البتہ بلاول بھٹو سندھی عوام کو گھروں میں قید کرکے خود منظر عام سے غائب ہوگئے۔تو کیا بلاول بھٹو نے آپ کو ٹریپ کیا؟۔

آگے چلئے۔ کیا آپ کو اس لاک ڈاؤن پر عالمی اسٹیبلشمنٹ نے مجبور کیا؟۔ آپ کو کس نے کہا تھا سارا ملک بند کر دو قرضے معاف ہو جائیں گے؟۔ یا آپ کے وژن نے، مشورہ دینے والے طبی ماہرین نے، اجتماعی نظر بندی کا شکار ہو کر معاشی تباہی کا فیصلہ کروا ڈالا۔کیا آپ کی ٹیم نے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی advice پر من و عن یقین کر لیا؟۔WHO کی تو اپنی ساکھ داؤ پر لگ چکی ہے۔ سزا کے طور پر ڈونلڈ ٹرمپ آرگنائزیشن کی فنڈنگ بند کر چکے ہیں۔ درحقیقت دنیا کی معاشی ترقی کو تباہ کرنے کا سارا الزام آرگنائزیشن پر دھرا جا رہا ہے۔ جس طرح بھاری رقم بٹورنے والا کایاں ڈائی میکر سمپل نکالنے میں ناکامی کی صورت کبھی الزام لوہے کی کوالٹی پر کبھی ہوا میں نمی پر اور کبھی سمبا، سنٹر کی کمی بیشی پر ڈالتا ہے، اسی طرح WHO سے مال ہڑپ کرنے والے ڈاکٹرز پوری دنیا کو وائرسز کی ان دیکھی کائنات بارے جھوٹی سچی باتیں سنا رہے ہیں۔ یہ وہی آرگنائزیشن ہے جس نے سن دو ہزار دو میں سارس وائرس سے کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کی پیشن گوئی کی۔ کیا پاکستان میں سارس نے کسی کو نقصان پہنچایا تھا؟۔ یہ وہی آرگنائزیشن ہے جس نے دو ہزار نو میں سوائن فلو کو انسانیت کے خاتمے سے نتھی کیا۔ جس نے دو ہزار چودہ میں ایبولہ وائرس سے افریقہ میں وسیع اموات کی باتیں عام کیں۔ جس نے دو ہزار پندرہ میں سنٹرل اور ساؤتھ امریکہ میں zika وائرس سے لاکھوں ہلاکتوں کی ڈیٹ تک دے ڈالی۔ اور آپ اسی آرگنائزیشن کے پیچھے لگ گئے جو ساہن، کاہن، پہلوان کی طرح مال پرایا کھانے کی عادی ہو چکی تھی۔

کیا پاکستانی حکومت کو لاک ڈاؤن جیسا منحوس قدم اٹھانے پر علاقائی طاقتوں نے incite کیا؟۔ اگر چین کی بات کریں تو وہاں وباء کے بدترین دنوں میں بھی محدود پیمانے پر لاک ڈاؤن کیا گیا۔ شنگھائی مکمل طور پر کھلا رہا۔ صنعتیں، فیکٹریاں دھواں اگلتی رہیں۔ ریستوران، ہوٹلز، شاپنگ مالز اور شادی ہال کھلے رہے۔ جہاں سے بیماری شروع ہوئی وہاں اسی فیصد کاروبار زندگی پوری قوتوں سے دوڑتا رہا اور جہاں دو ماہ میں ایڑی چوٹی کا زور لگا کر، بڑی مشکلوں سے پکڑ دھکڑ کر بمشکل چند ہزار مریض گھیرے گئے وہاں سارا سماج تہہ و بالا کر دیا گیا۔ آپ کے پالیسی سازوں نے کن مقاصد کے تحت مرحلہ وار کی بجائے مکمل لاک ڈاؤن کا مشورہ دیا؟۔ کیا پاکستان پر خدانخواستہ خلاء سے کسی مخلوق کے حملے کا خدشہ تھا؟۔ آپ کے تھنک ٹنک کیوں نہیں بھانپ پائے کرونا کی آڑ میں عالمی طاقتیں ایک دوسرے کا سماج تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ آج کہاں گئے وہ مشورہ دینے والے جو لاک ڈاؤن نہ ہونے کی صورت پاکستانیوں کی لاشیں خزاں رسیدہ پتوں کی مانند بکھری دیکھ رہے تھے۔آج پاکستانی معاشرے کو عظیم غربت، ناقابل بیان خوف میں دھکیلنے والے قومی مجرم کہاں چھپے بیٹھے ہیں؟۔ مرے مریض کے لواحقین سے ”آخری کوشش“ کے نام پر قیمتی انجکشن بٹورنے والے ڈاکٹر کس کے کہنے پر ہاتھ جوڑ جوڑ کر لوگوں کو گھروں میں رہنے کی اپیلیں کر رہے تھے۔ حکومتی اور بااثر حلقوں کو دس لاکھ اموات کی پیشن گوئی کرنے والی ٹیم آج جواب کیوں نہیں دے رہی؟۔

اب آئیے دوسری حقیقتوں کی طرف جو عنقریب سماج میں انگڑائیاں لینے والی ہیں۔ حکومتی ساکھ بری طرح مجروح ہو چکی۔ عظیم عوامی اکثریت گلی، محلوں میں کرونا کا مذاق اڑاتی نظر آ رہی ہے۔ ایک دور کے علاقے منڈی بہاؤ الدین کا ذکر سنئے۔ وہاں کرونا کے پینسٹھ مریضوں کا انکشاف ہوا۔ گلیاں سیل۔ محلوں میں خوف و ہراس۔ متاثرہ گھر اچھوت قرار۔ حتی کہ سگے رشتہ داروں تک کا سماجی بائیکاٹ۔ بعد میں کیا ہوا؟۔ چون مریض صحت یاب ہو گئے۔ گیارہ کی رپورٹوں کا انتظار اور اموات صفر۔ پورا ضلع کلئیر قرار۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے ان مریضوں کو واقعی کرونا تھا یا کچھ اور؟۔ اگر اس مرض میں دو ہفتوں بعد سارے ہی مریض صحت یا ب ہو جاتے ہیں تو شہروں کے شہر بند کرکے معاشی موت کی طرف دھکیلنے کا مقصد؟۔ اب جبکہ ملک چلانے کے لئے حکومتی خزانے میں تیس سے پینتیس فیصد تک کی کمی ہو چکی۔ اب جبکہ آنے والے دنوں میں ٹیکس اکٹھاہونا تو دور کی بات الٹا کاروباری ادارے حکومت سے قرض مانگ رہے، اور اب جبکہ کروڑوں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں، وہاں اگر فوری طور پر لاک ڈاؤن نہ اٹھایا گیا تو نتائج اتنے بھیانک ہوں گے جس کا ابھی حکومت وقت ادراک نہیں کر سکتی۔ لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا۔

عوامی چنگاری اگر کسی ناراض گروہ کی صورت کسی شہر میں بھڑک اٹھی تو دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان بھر کو لپیٹ میں لے لے گی۔ وہ وقت آنے سے پہلے حکومت کو فوری طور پر حفاظتی اقدامات کے ساتھ فیکٹریوں، بازاروں، مالز، ریستورانوں، ہالوں کو کھول دینا چاہئے۔ ائیر کولر، پنکھے، واٹر پمپس، ڈھلائی سمیت گرمیوں کا مال بنانے والے کارخانے، ملیں اور ہول سیل دکانیں برباد ہو چکی ہیں۔ خریدار نہ ہونے کی وجہ سے کسان کو سبزیاں اصل لاگت سے بھی کم پر بیچنی پڑ رہی ہیں۔ ہوٹلوں، ریستورانوں کی بندش کی وجہ سے پولٹری انڈسٹری تباہ اور گوالے دودھ پچاس روپے کلو بیچنے پر مجبور، جبکہ آپ ماسک، سوشل ڈسٹنس، سینی ٹائزرز، متاثرہ مریضوں کے فضلہ ٹھکانے لگانے جیسے ایشوز میں قید۔ فیصلہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ یا تو آپ کرونا کی آڑ میں کھیلی جانے والی گریٹ گیم کا شکار ہو جائیں گے یا سماج کو کھول کر طاقت کے نئے توازن میں جگہ حاصل کر جائیں گے۔ اب سندھ کی طرف مزید نہ دیکھیں۔ اگر وہاں لاک ڈاؤن بڑھایا گیا تو ہفتے دو ہفتے کی بات ہوگی۔ لوگ سڑکوں پر اور لاک ڈاؤن کی صورت حکومتی رٹ پاؤں کی ٹھوکروں پر۔ اب تو سندھ سے ناصر حسین شاہ بھی پہلو بچا کر سارا الزام ڈاکٹروں پر تھوپ رہے۔ فرماتے ہیں ”سندھ میں لاک ڈاؤن ڈاکٹروں کی ہدایت پر کیا۔۔۔“‘کیا ریاست کوئی ایسا جوڈیشل کمیشن بنا سکتی ہے جس میں ڈاکٹروں سے پوچھا جائے، ملک کو بیس سال پیچھے دھکیلنے کے لئے، کس کے کہنے پر دس لاکھ لاشوں کا شوشہ چھوڑا گیا۔

مزید :

رائے -کالم -