”ایک غریب سے ملاقات،دلسوز کہانی“

”ایک غریب سے ملاقات،دلسوز کہانی“

  

پراگندہ لباس بکھرے ہوئے بال چہرے سے مایوسی کے آثار جوتوں کی حالت بھی بتا رہی تھی کہ پاؤں کا کچھ حصہ زمین پر رگڑ کھاتا ہو گا ہاتھ پاؤں کے ناخن بھی کافی بڑھ چکے تھے غرض سرتاپا پورے جسم سے غربت چھلک رہی تھی بڑی معصومیت سے نہایت مؤدبانہ انداز میں قریب آ کر عرض کیا آپ کو فلاں بلا رہا ہے! بلانے والے کی طرف جانے سے قبل مَیں نے اس کا انٹرویو کرنا ضروری سمجھا! سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کی والدہ دو سال قبل رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں خلاق عالم کے پاس جا پہنچیں! والد حیات ہیں اور چوکیداری کرتے ہیں اور میں ایک بیٹا ہوں یہی لوگوں کے گھروں میں سارا دن کام کرتا ہوں! مجھے پندرہ سو روپے ماہانہ مل جاتے ہیں۔

سارا دن بھاگ بھاگ کر کام کرتا ہوں، کیونکہ تین بہنیں گھر میں ہیں جن کا پیٹ بھرنا میرے ذمہ ہے، مَیں انگشت بدنداں ہوا کہ اتنے بڑے گھرانے میں کام کرنے پر اس دور میں اتنے سے پیسوں سے کیا بنتا ہوگا!

اس آٹھ سالہ بچے نے مجھے ہم راز سمجھتے ہوئے مزید دکھڑا سنایا اتنی بڑی کوٹھی ہے اتنے کام ہوتے ہیں کئی راتیں سو بھی نہیں پاتا کام کی تھکن کی وجہ سے کبھی کچن یا سٹور میں چند لمحے جسم کو سکون دینا چاہوں تو ڈانٹ پڑتی ہے ہفتے گزر جاتے ہیں کپڑے تو کیا ملنے! کپڑے بدلنے کا وقت میسر نہیں آتا بس میں اپنی اس پندرہ سو روپے ماہانہ والی زندگی کو شاہی زندگی سمجھتا ہوں یہ بات کرتے ہوئے آنکھوں سے گرم گرم آنسو ٹپکے، میری خواہش تھی کہ پڑھ سکوں! اور کوئی اچھی ملازمت مل جائے مگر اس غربت نے فقط یہاں تک زندگی رکھ دی ہے اب اسی پر خوش ہوں! کہیں یہ بھی نہ چھن جائے، کیونکہ ابا جان فرماتے ہیں (ان کے دادا بھی اسی طرح زندگی گزار چکے ہیں) بیٹا! یہ غربت ہمیں ورثہ میں ملی ہے کبھی دِل برداشتہ نہ ہونا اور آنے والی نسلوں کو بھی اسی پر ثابت قدم رہنے کا کہنا! یہ خواب کبھی بھی نہ دیکھنا کبھی ہم آرام دہ کمروں اور سکون والی پلنگ پر سو رہے ہیں۔

ابا حضور تیس چالیس سے ایک بڑے زمیندار کے ڈیرہ پر ملازمت کررہے ہیں تنخواہ پوچھی تو روتے ہوئے ہنس پڑا آپ کو علم نہیں ڈیروں پر تنخواہ کا رواج نہیں ہوتا وہاں فقط زمینیں دی جاتی ہیں، جس سے خود بونا اور خود کاشت کرنا ہوتا ہے! سارا دن اور ساری رات صاحب کے ڈیرہ کی چوکیداری کرنا ہوتی ہے کچھ وقت میسر آئے تو زمین کو دے لیا پھر سال چھ ماہ بعد اگر اس زمین نے پھل دیا تو چند ماہ شاہانہ گزر جاتے ہیں ورنہ فاقے کرتے ہیں! ان الفاظ کے ساتھ وہ بچہ اپنا پیغام دے کرجا چکا تھا اور مَیں تھا کہ ابھی تک تک اسی کہانی میں گم تھا۔

یہ تو ایک کہانی تھی ایسی بیشتر کہانیاں ہمارے معاشرے میں معمول کا حصہ بن چکی ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ یہ غریب اس دنیا کا حصہ نہیں ہیں یہاں ان کا جینا حق نہیں ہے یا پھر انسان ہم ہیں وہ ایک دوسری مخلوق ہیں کئی آیات بیسیوں احادیث حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا غریبوں کے ساتھ طرز عمل اسلاف کے اقوال و افعال بڑے بڑے مفکرین کی نصیحتوں کے بعد اگر کوئی اثر نہیں تو ذی حیثیت طبقہ سے میرا ایک سوال ہے کیا آپ اس رب کی زمین پر نہیں جی رہے، جس پر وہ غریب بھی زندگی بسر کررہا ہے؟ کیا وہ رب اس بات پر قادر نہیں تم سے یہ دولت چھین کر غرباء کو امیر کردے کیا دل اتنا پتھر ہوچکا ہے؟ کہ غریب کو دیکھ چہرے کے تیور بدل جاتے ہیں ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کو غریب سے اتنی نفرت، کیوں ہو گئی؟اور غریب کے حقوق سلب کرنا کیوں شروع کردیئے!

ہزاروں روپے نیٹ پیکیجز لاکھوں روپے کھانوں اور کروڑوں روپے کی شرطیں لگانے والے کیا اپنے غریب ملازم کو 15 ہزار روپے ماہانہ بھی نہیں دے سکتے! جان کی امان پاؤں تو ایک سوال کرسکتا ہوں تم میں کتنے ایسے ہیں جو اپنی صلاحیتوں اور اصلی تعلیم کی بنیاد پر آج کما رہے ہیں؟ کتنے ہیں جنہوں نے سفارشوں کے بغیر یہ منصب اور یہ دولت حاصل کی ہے؟ اگر اپنی صلاحیت و اصلی تعلیم ہوتی یا رب العالمین کا ذرہ برابر بھی ڈر ہوتا تو ہم انسانیت شناش ہوتے! آج جس کے پاس کچھ پیسے کی ریل پیل شروع ہوتی ہے وہی انسانیت کو پس پشت ڈال دیتا ہے وہی تہذیب انسانی کے تمام قرینے بھول جاتا ہے اس بات سے عاری ہوجاتا ہے کہ مجھے اشرف المخلوقات بنایا گیا ہے!یہ بات بھی ذہن سے نکل جاتی ہے میری طرح غریب بھی معاشرے کا ایک حصہ ہے ایک فرد ہے۔

حالیہ وبا کی وجہ سے کتنے مزدور بے روزگار ہوئے ہیں کتنے غریبوں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں کتنے لوگ روٹی کو ترس رہے ہیں حکومتی فنڈ ایک خوش آئند ہے، مگر کتنے علاقوں کو اس فنڈ سے جاگیرداروں اور فقط اپنوں کو نوازا گیا ہے غربب بیچارا اس کی مشک تک نہ پاسکا…… ابھی چند دن قبل ”مزدور ڈے“ کے نام پر مزدور کے حقوق پر بڑے بڑے ٹی وی چینلز نے پروگرام کیے کئی تقریبات منعقد ہوئیں کئی لوگوں نے اظہار یکجہتی کی ادنیٰ سا سوال ہے کہ اس سے مزدور و غریب کو کتنا فائدہ ہوا؟ اچھا امر ہے کہ ان کے حقوق کی آواز بلند کی جائے، لیکن اتنے سال سے آج تک کتنے غریبوں کے چولہے جلے؟ کتنے غریب بچے سکولوں کی طرف گئے؟

کتنے لوگ راحت و سکون والی زندگی پاسکے! یقینا جواب نفی میں ہے تو اب تھوڑا سا طرز بدلئے بات قول سے عمل تک اور مطالبے سے خود کچھ کرنے تک آئیے! زکوٰۃ کی ادائیگی کو اپنے اوپر لازم قرار دے لیں جہاں جو غریب نظر آئے کوشش کریں ہماری وجہ سے اس کا گھر آباد ہوجائے! اور وہ بھوکا نہ سوئے! اور سب سے بڑھ کر جن کے گھروں میں غریب و مجبور طبقہ کام کررہا ہے ان کی مکمل کفالت اور تمام انسانی ضروریات کو پورا کریں تاکہ معاشرے میں مزید ایسی کہانیاں سننے کو نہ ملیں!

مزید :

رائے -کالم -