کورونا،معیشت اور حکومت

کورونا،معیشت اور حکومت

  

کورونا وائرس نے انسانی سلامتی اور صحت کے ساتھ عالمی و علاقائی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ عالمی اقتصادی طاقتوں سے لے کر پسماندہ ترین معیشتوں کے حامل ممالک کورونا سے پیدا ہونے والی کساد بازاری سے خود کو نکالنے کے لیے اپنی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں مگر ابھی تک کوئی بھی خاطر خواہ کامیابی دکھائی نہیں دے رہی۔پاکستان بھی انہی اثرات کی زد میں ہے۔ لوگ تو یہ توقع لگائے بیٹھے تھے کہ ماہ صیام میں حکومت کورونا وبا کے پیش نظر ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گی۔ کام،دھندا بند ہونے سے لوگ اور زیادہ پریشان ہیں۔ سفید پوش آدمی خصوصاً پرائیویٹ نوکریاں کرنے والوں کا برا حال ہو رہا ہے۔ ایک طرف سے انھیں مہنگائی لے بیٹھی ہے اور دوسری طرف روزگار خطرے میں ہے۔

پاکستان میں ملازمت پیشہ افراد کی تعداد چھ سے ساڑھے چھ کروڑ ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق اگر حالات ایسے ہی رہے تو تقریباً ایک کروڑ بیس لاکھ افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ یعنی بیس فیصد اپنے روزگار سے جائیں گے۔ اگر ہم غور کریں تو جب سے نئی حکومت آئی ہے ہم خسارے کی طرف ہی جا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کے بعد سے سیاسی عدم استحکام میں بھی اضافہ ہوا اور اس دو سال کے عرصے میں پانچ اعشاریہ آٹھ فیصد کے گروتھ ریٹ پر چلنے والی معیشت پہلے اڑھائی فیصد پر آئی اور اب منفی ہونے جا رہی ہے۔ جبکہ ملکی قرضے، قرضوں کی حدود کے قانون میں مقرر کردہ حد سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ وزارت خزانہ نے پارلیمنٹ میں پیش کردہ پچھلے پندرہ ماہ کے اعداد و شمار میں اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کے قرضوں میں گزشتہ پندرہ ماہ میں چالیس فیصد اضافہ ہوا ہے اور مجموعی قرضے بڑھ کر جی ڈی پی کا 84.8 فیصد اور حکومت کے قرضے جی ڈی پی کے ریکارڈ 76.6 فیصد تک پہنچ چکے ہیں جبکہ قرضوں کی حد کے قانون کے مطابق یہ قرضے جی ڈی پی کے ساٹھ فیصد سے زیادہ نہیں ہونے چاہئیں۔ مہنگائی سمیت تمام اقتصادی اعشاریے پہلے ہی سے بے قابو تھے، رہی سہی کسر کورونا نے پوری کردی اور اب عالمی و ملکی اداروں کی پیش گوئی ہے کہ ملکی جی ڈی پی منفی ڈیڑھ فیصد رہے گی۔

وزیر اعظم عمران خان کرکٹ کے علاو ہ ”بلیم گیم“ بھی بہت اچھی کھیلتے ہیں۔ اپنی حکومت کے پہلے پندرہ ماہ وہ پچھلی حکومت پر تہمتیں لگاتے رہے۔ اس سال وہ کورونا کا سہارا لے لیں گے اور سوال یہ ہے کہ وہ باقی دو سال کیا کرینگے۔ چینی اور آٹا سکینڈل کی فرانزک رپورٹ بھی پچیس اپریل کو لانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اس رپورٹ کے بعد ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا۔ مگر پچیس اپریل گزر گیا نہ کوئی رپورٹ آئی نہ کوئی کارروائی ہو سکی۔ لگ یہی رہا ہے یہ معاملہ بھی لٹک گیا ہے۔ جہاں ایک طرف لوگوں کو اپنی روزی کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہیں دوسری طرف ماہ رمضان کے شروع ہوتے ہی مہنگائی نے آسمان چھو لیا ہے۔ ایک ہی دن میں آلو ستر روپے، کیلے دوسو روپے، لیموں چھ سو روپے، خربوزہ سو روپے اور سیب تین سو روپے فی کلو ہو گئے ہیں۔ پھل فروشوں سے مہنگائی کی وجہ دریافت کریں تو کہتے ہیں ہمیں پیچھے سے ہی مال مہنگا مل رہا ہے۔ سال میں سب سے زیادہ پھل رمضان میں ہی فروخت ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ ایسی مارکیٹ پرائس لسٹ تیار کرے جو دکاندار اور فروخت کندہ کے لیے مناسب ہو۔ ایسے واقعات بھی سننے میں آئے ہیں کہ بعض دکاندار حکومت کی بنائی ہوئی لسٹ پرعمل نہیں کرتے اور مہنگے داموں پر اشیاء فروخت کرتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ دکان داروں پر کڑی نظر رکھے اور ایسی ہیرا پھیری کرنے والے کے خلاف فوری طور پر ایکشن لے۔ اس کے علاوہ حکومت کو چاہئیے کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کرے۔ ایسے حالات میں منافع کمانے والوں کو لوٹ مار کا کھلا موقع دینے کی بجائے لوگوں کو ریلیف دینے کی ہر ممکن کارروائی کرنی چاہئیے۔ رمضان میں یوٹیلٹی سٹورز پر مزید اشیاء پر سبسڈی دینا ہوگی۔ کیونکہ اس وبا کے باعث کاروبار کے رک جانے اور عالمی منڈی میں تیل کے نرخوں میں ہونے والی غیر معمولی کمی کے سبب حکومت کو اس بات کا پورا موقع مل گیا ہے کہ وہ اس میں بچنے والی بھاری رقم کو مستحق افراد تک پہنچانے کا استعمال کرے اور اس کے ثمرات لوگوں تک پہنچنے چاہئیں۔ حکومت کو کھانے پینے کی چیزوں کے علاوہ یوٹیلٹی بلوں میں بھی کمی کرنی چاہئے۔

لاک ڈاؤن کے باعث لوگ معاشی بحران کے ساتھ ذہنی دباؤمیں بھی ہیں۔ جوان ہو ں یا بزرگ سب ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔ حکومت کو اب ہر حال میں کوئی نا کوئی اقدام اٹھانے ہونگے کیونکہ اب اپوزیشن حرکت میں آ ئے نہ آئے، عوام نے آجانا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -