آزادیِ صحا فت کا عالمی دن اور صحافی

آزادیِ صحا فت کا عالمی دن اور صحافی
آزادیِ صحا فت کا عالمی دن اور صحافی

  

آزادی صحافت کے لئے نیویارک سٹی نیوز پیپر نے 1734ء میں پہلی بار انگریز حکومت کو عدالت میں گھسیٹا اس وقت دو ہی اخبار تھے دی نیویارک جرنل جو کہ انگریز ی حکومت کا ترجمان تھا جسے اُس وقت کے گورنر ولیم کوسبے کے ہم پیالہ امریکن جرنلسٹ جون پیٹر زینگر نکالا کرتے تھے اور دوسرا تھا نیو یارک سٹی جو حکومت پر برملا تنقید کے نشتر چلایا کرتا تھا۔اس وقت انگریز حکومت کی طرف سے پریس پر سخت پابندیاں تھیں۔ اخبارات کوئی بھی خبر حکومت کی اجازت کے بغیر شائع نہیں کر سکتے تھے۔ بس اسی لئے نیویارک سٹی نے ایک قدم بڑھایا اور حق و انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا یہ ایک تاریخی کیس تھا جو صحافت کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کیس کا فیصلہ نیو یارک سٹی نیوز پیپر کے حق میں آیا اورپھر اس فیصلے نے ایک تحریک کی شکل اختیار کر لی۔ مجھے اس بات سے دوسری جنگ عظیم کا واقعہ یاد آ گیا کہ جب لوگ چرچل کے پاس گئے اور کہنے لگے کہ ہم جنگ میں بہت کچھ تباہ کر چکے ہیں اور اب تو یوں لگتا ہے کہ شکست ہمارا مقدر ہے اس بات پر چرچل نے تاریخی الفاظ کہے“ جب تک ہماری عدالتیں انصاف فراہم کرتی رہیں گی ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا ”آج بھی انگریزی عدالتوں کا انصاف قابل تعریف ہے۔

بس اسی عدالتی فیصلے نے حکومت کو مجبور کر دیا کہ وہ آزادی صحافت کو تسلیم کرئے اور بالآخر سترہ سو چوون میں امریکہ بھر میں اس فیصلے نے تہلکہ مچا دیا۔ اسی تحریک کے نتیجہ میں 1776ء میں امریکہ آزاد ہوا اور اسی فیصلے کے تحت کانگریس کو1791ء میں امریکی پارلیمنٹ میں پہلی بار آزادیِ صحافت پر برملا بات کرنے کا موقعہ ملا۔ پہلی بار صحافت کی آزادی کو عملی طور پر قبول کیاگیا۔ اسی کورٹ کے فیصلے کا نتیجہ تھا کہ پہلی بار صحافت کی تاریخ میں حق کا پرچم بلند کیا گیا پہلی بار کسی ادارے نے امریکہ کی غلام ریاست میں انگریز سرکار کے سامنے صحافت کو اس کا حقیقی مقام دینے کی بات کی۔ آزادی کے بعد امریکی حکومت کو پہلی مرتبہ دستور کی دس شقوں میں ترمیم کر کے اظہارِ رائے اور پریس کی آزادی کو تسلیم کر نا پڑا اور اس کو قومی دھارے میں شامل کیا گیا۔

پھر ان ترامیم کے بعد صحافت اور صحافی کا یہ سفر بہت سی پُرآشوب گھڑیوں سے ہوتا ہوا بیسیویں صدی میں داخل ہوا۔ ان پُرخطر راستوں پر بہت سی تحریکیں اْٹھیں بہت سے جاں نثاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے اور اس عظیم او ر پاکیزہ مقصد کے لیے اپنے گھر بار، جان و مال اور یہاں تک کہ اپنے مستقبل کی قربانی دینے سے بھی گریز نہیں کیا۔ ان عظیم صحافیوں میں بہت سے نام ہیں، مگر میری نظر میں صحافت کے عظیم مقصد کو اپنے لہو سے سینچنے والوں میں رچل کوری کا نام سر فہرست ہے کہ جو ایک امریکن عیسائی صحافی تھی۔ اپنی صحافتی ذمہ داریوں کے دوران جب اُسے معلوم ہوا کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے جا رہی ہے تو وہ ان بلڈوزرز کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑی ہو گئی وہ ان بلڈوزرز کو روک تو نہ سکی لیکن صحافت، انسان دوستی کی بہترین مثال قائم کر گئی۔ وہ حق کی آواز بن کر دلوں کی بنجر زمین پر ہمیشہ کے لیے اپنی پیشہ ورانہ دیانت داری کا نقش چھوڑ گئی۔ اس کے بعد ڈینیل پرل کا 2002ء میں بہیمانہ قتل بھی ان قربانیوں کا مْنہ بولتا ثبوت ہے۔

حق کی تلاش میں جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے ساتھ ساتھ گزشتہ دو برس میں دنیا بھر میں 272 صحافیوں کو قید بند کی تکا لیف برداشت کرنا پڑیں۔ زمانے بھر کے حکومتی ظلم اور بربریت کو دنیا بھر کے سامنے پیش کرنے کی پاداش میں ان پر کرپشن اور دہشت گردی جیسی دفعات کے تحت مقدمات چلائے گئے وہ حق کی حد تک یقین ہے کہ ان کی قرنبانیاں رائیگاں نہیں جا ئیں گی۔ ان میں بہت سے کیمرہ مین، رپورٹرز اور فیلڈ میں کام کرنے والے میڈیا پرسنز شامل ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی 61 کے قریب صحافیوں کو ان کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے دوران بہیمانہ قتل کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام تر قربانیوں کے بعد بھی پریس کو وہ حقیقی آزادی پاکستان میں نہیں مل سکی کہ جس کا پاکستان پریس متقاضی ہے۔ حکومتوں کی بے جا پابندیوں نے پاکستا ن کی70سالہ تاریخ میں صحافی برادری و بہت سے چیلنجز سے نبرد آزما کیا، مگر اس کے ساتھ ساتھ شہیدوں کے لہو سے بہادری کی کئی داستا نیں رقم ہو ئیں۔

اس ماہ کے توسط سے کہ جب حال ہی میں آزادی صحافت کا عالمی منایا گیا میں کورونا وائرس کی اس ہنگامی صورت حال میں پہلی صفوں میں رہنے والے ان تمام صحا فیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور انہیں بھی سلام پیش کرتا ہوں کہ جو موجودہ حالات میں اپنی صحافتی خدمات سرانجام دیتے ہوے کورونا کا شکار ہوے اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے بیشک انہوں نے صحا فی برادری کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

اب ایک بات بڑی درد مندی سے اپنی صحافی برادری سے بھی کہنا چاہوں گا کہ ہمیں آج اپنا اپنا جائزہ لینے کی بھی اشد ضرورت ہے اور ان سوالات کو خود سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے قلمی جہاد کا فرض حقیقی معنوں میں ادا کر دیا ہے؟ کیا ہم معاشرے کو درست سمت میں لے جا رہے ہیں؟ کیا ہمیں جو بچی کھچی صحافتی آزادی حاصل ہے ہم نے اس کا درست استعمال کیا ہے؟ کیا ہم نے مظلوم کے لئے کلمہ حق بلند کیا ہے؟ کیا ہم نے ظالم کے خلاف آواز حق بلند کی ہے؟ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بہترین اور آزاد فضا دے کر جارہے ہیں؟ اگر ان تمام سوالات سے ہمارا ضمیر مطمئن ہے تو درست اور ا گرنہیں تو ہمیں اپنے حصے کا کام ابھی کرنا ہے ہمیں اپنی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں کو نکال باہر کرنا ہے۔

اس مقدس پیشے کو نئی جہد اور سمت دینے کی ضرورت ہے کہ جس میں کوئی ایسا معیار طے ہو کہ ہر شخص مائیک اْٹھا کر خود کو صحافی نہ کہہ سکے، اس کے علاوہ اس کی پروفیشنل ورکشاپس کو مزید بڑھایا جا ئے تاکہ صحافت کے اس عظیم فورم سے دنیا کے بے جان جسم میں نئی روح پھو نکھی جا سکے۔

آج اس شعبے میں تجدید کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے معیار کو ازسرنو ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔ اس کی اہمیت کو دنیا بھر میں نئی سطور پر استوار کر کے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس شعبے کو بے رحم سرمایہ داری کی بھینٹ چڑھنے سے روکنے کی ضرورت ہے، اس شعبے میں صحافت کے لیے تجربہ اور تعلیمی معیار قائم کرنے کی ضرورت ہے اس شعبے میں تجربے اور تحقیق کی بنیاد پرصحافتی درجہ بندی کی ضرورت ہے اس شعبہ میں پریس کلب کو ایک ایسا درجہ دلانے کی ضرورت ہے کہ وہ درست صحافتی معیار قائم کر سکے۔ ہمیں موجودہ دور کی اینکر انڈسٹری سے بہتر پروڈکٹ حاصل کرنے کی ضرورت ہے اس کے علاوہ اور بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے کہ جس سے اس مقدس شعبے کی اہمیت اور حثیت میں اضافہ ہو اور اس شعبہ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکے۔جو اس کو ایک محض فیکٹری سمجھتے ہیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس شعبہ کام وہ نہیں ہے کہ جو انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور جو اس مقدس شعبے کو اپنی انا کی تسکین کے لئے استعمال کرتے ہیں اُن سب کو اپنے معیار میں اب تبدیلی لانا ہو گی۔

مزید :

رائے -کالم -