کورونا، کھیل، دولت کمانے کی بین الاقوامی سازش؟

کورونا، کھیل، دولت کمانے کی بین الاقوامی سازش؟
کورونا، کھیل، دولت کمانے کی بین الاقوامی سازش؟

  

یہ بتیس سال قبل1988ء کی بات ہے، موسم بھی یہی تھا جب مجھے پہلی بار ملک سے باہر جانے کا موقع ملا۔ یہ میرے اور محترم ڈاکٹر خالد رانجھا کے مشترکہ دوست نصراللہ خان کی دعوت تھی، اپنے ہی پیشے صحافت کے حوالے سے ایک منصوبہ زیر غور تھا، اس حوالے سے پہلا مرحلہ تو ویزے کے حصول کا ہوتا ہے۔اس کے لئے اسلام آباد جانا تھا، جب مَیں نے اپنے محترم حمید جہلمی(مرحوم) سے ذکر کیا تو انہوں نے مشورہ دیتے ہوئے کہا بلا شبہ دعوت تو برطانیہ کے لئے ہے، بہتر ہے کہ تم امریکی ویزا بھی لگوا لو، شاید چانس مل جائے۔ یہ اچھی تجویز تھی چنانچہ پاسپورٹ سے ویزے تک کے مراحل کا فیصلہ کر لیا۔ ان دِنوں سختی زیادہ نہیں اور جرنلسٹوں کا احترام بھی کیا جاتا تھا۔ امریکہ ویزے کے لئے لاہور کے قونصلیٹ جنرل کے دفتر میں شعبہ بنا ہوا تھا، تاہم برطانوی ویزا یہاں نہیں ملتا تھا۔ امریکی قونصلیٹ کے لئے وقت لیا، طویل فارم بھرا، جس میں اپنے پورے خاندانی کوائف بھی درج کرنا پڑے، حتیٰ کہ بہن اور بھائیوں کے نام اور پتے کے علاوہ ان کی ازدواجی زندگی اور مشاغل کی تفصیلات بھی دی گئیں، مختصر یہ کہ جب فیس جمع کرا کے ویزا آفس پہنچے اور باری پر ویزا افسر کے سامنے ہوئے تو ہمارا فارم ان کے سامنے تھا۔ محترم ویزا افسر نے پھر سے وہ سوالات دہرانا اور پوچھنا شروع کر دیئے، جو فارم میں درج تھے۔

مَیں جھنجھلا گیا اور کہہ اُٹھا کہ فارم آپ کے سامنے ہے۔ یہ سب کوائف اس میں درج ہیں۔ اگر آپ ویزا دینا پسند کرتے ہیں تو بہتر ورنہ پاسپورٹ واپس کر دیں، اس تلخ سے جملے کے بعد انہوں نے سوالات کا سلسلہ بند کیا اور ہمیں بعد دوپہر چار بجے آنے کو کہا۔ دوبارہ مَیں گیا تو پاسپورٹ مل گیا اس پر پانچ سالہ مدت کے لئے ویزا جاری کر دیا گیا تھا۔یہ مرحلہ بخیرو خوبی طے ہو گیا تو اگلا مرحلہ اسلام آباد سے برطانوی ویزے کا حصول تھا، چنانچہ برادرم میاں اکرم کی ”کرٹسی“ کام آئی، ان کی ڈاٹسن کار مل گئی اور مَیں اپنی مرحومہ بیوی اور بچوں کے ساتھ اسلام آباد روانہ ہوا۔ یہ ایک اتفاق ہے کہ جب اسلام آباد ہائی ویز پر جاتے ہوئے ایئر پورٹ والے موڑ کے قریب پہنچے تو کئی جگہ لوگوں کا جم گٹھا بھی دیکھا، مَیں گاڑی لئے چلتا رہا اور راستہ بھی ملتا رہا، بچوں سمیت کسی رکاوٹ کے بغیر اسلام آباد پہنچے تو شہر سنسان تھا۔سڑکوں پر لوگ نظر نہیں آ رہے تھے، اپنے عزیزوں کی رہائش پر پہنچے تو مکان خالی تھا، پریشانی ہوئی، ان کے قریبی ہمسایوں سے استفسار کیا تو وہ پہلے تو ہمیں حیرت سے دیکھنے لگے اور پھر پوچھا کہاں سے آئے ہیں۔

جب بتایا کہ لاہور سے تو ان کو تعجب ہوا اور انہوں نے یہ دریافت کیا کہ راستے میں کسی نے روکا نہیں، ان کے سوالات پر پریشانی ہوئی تو پوچھنا پڑا،بات کیا ہے، جواب ملا، آپ خوش قسمت ہیں کہ اس راستے سے آئے جہاں راکٹ برس رہے ہیں کہ اوجڑی کیمپ کے ڈپو میں دھماکہ ہو گیا ہے اور کئی راکٹ پنڈی اور اسلام آباد میں آ کر پھٹے اور جانی نقصان بھی ہوا ہے۔اللہ کا شکر ادا کیا اور یہ جان کر کہ ہمارے میزبان خود راولپنڈی چلے گئے ہیں تو ہم نے بھی سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی ہی کا رُخ کیا اور اپنی کزن کے گھر آ گئے۔ راستے میں کئی جگہ مکانوں کی حالت بھی دیکھی جو راکٹ گرنے سے تباہ ہو چکے تھے، اپنی کزن کے ہاں پہنچے تو انہوں نے بھی شکر ادا کیا۔ بہرحال دو روز وہاں گزارنا پڑے اور پھر برطانوی سفارت خانے سے رجوع کر کے ویزا حاصل کیا جو دو سال کے لئے ملا، چنانچہ واپس گھر آ گئے اور جانے کی تیاری کی۔

مقررہ وقت پر لاہور سے کراچی اور وہاں سے برطانیہ کے لئے جہاز میں سوار ہوئے۔ یہ برٹش ایئر ویز کی پرواز تھی،مقررہ وقت پر ہیتھرو پہنچے، کسٹم، امیگریشن سے فارغ ہو کر باہر آئے تو نصر اللہ خان منتظر تھے۔(اس ہوائی اڈے پر جو گزری وہ ایک داستان ہے،پھر کبھی سہی) ان کے ساتھ لندن فلیٹ پر پہنچے اور پھر رات کے کھانے کے بعد آرام کیا۔ قصہ مختصر یہ کہ لندن میں رہتے ہوئے منصوبے کے حوالے سے بات ہوئی تو یہ دھرے کا دھرا رہ گیا، اس کے بعد سارا وقت میل ملاقات اور سیرو تفریح کا تھا، اس میں قریباً پانچ مہینے گزارے، اس عرصہ میں 20روز کے لئے امریکہ کا سفر کیا، جہاں ہمارے استاد محترم سید اکمل علیمی(اللہ، ان کو صحت ِ کامل عطا فرمائے کہ علیل ہیں) واشنگٹن کے ڈلس ایئر پورٹ پر موجود تھے، چنانچہ ان کے ساتھ گھر گئے۔ یہ تفصیل جس مقصد کے لئے بتائی ابھی اس کا ذکر ہی نہیں ہوا کہ کالم اپنے اختتام کی طرف مائل ہے، اِس لئے امریکی اور برطانوی یاترا کا ذکر چھوڑ کر اس مقصد کی طرف آتے ہیں وہ یہ کہ ہم لندن سے واشنگٹن کی طرف محو پرواز تھے، راستے میں ٹی وی کی خبروں اور اخبارات کے مطالعہ سے معلوم ہوا کہ اس وقت امریکہ کا سب سے بڑا مسئلہ ”ایسپرین“ دوا ہے۔

یہ عمومی طور پر سر درد وغیرہ کے لئے استعمال کی جاتی ہے اور کئی برانڈ ناموں سے بھی بنتی ہے اور بکتی ہے۔ یہ دوا اب تک دِل کے مریضوں کو خون پتلا کرنے کے لئے بھی استعمال کرائی جاتی ہے۔ خبروں کا متن یہ تھا کہ ایسپرین دِل کے لئے مفید نہیں نقصان دہ ہے اور اس حوالے سے بڑے تحقیقی دلائل بھی دیئے جا رہے تھے اور لوگوں کو اس دوا کا استعمال ترک کرنے کی ہدایت دی جا رہی تھی، ہم جو20دن امریکہ میں رہے ان میں پہلے دس بارہ دن یہی موضوع گرم تھا اور ایسپرین کو نقصان دہ قرار دیا جاتا رہا تھا،ہماری امریکہ سے واپس لندن روانگی سے چار پانچ روز پہلے ہی یہ فیصلہ ہو گیا کہ ایسپرین نقصان دہ نہیں،اتنی ہی بلکہ اس سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے، جتنی پہلے تھی اور یہ فیصلہ تحقیق کے بعد وفاقی وزارت صحت نے سنایا تھا۔ چنانچہ اس کے بعد اس دوا کی فروخت اور بھی بڑھ گئی۔

اتنی تمہید طولانی بے مقصد نہیں اور نہ ہی قارئین کا یہ وقت اپنی امریکہ اور برطانیہ یاترا بتانے کے لئے کیا، مقصد یہ ذکر تھا کہ امریکہ میں 32 سال، بلکہ اس سے پہلے سے یہ شغل جاری ہے کہ کسی دوا کے استعمال پر طویل بحث چھیڑ کر اس کی فروخت بڑھائی جاتی اور مالی فائدہ حاصل کیا جاتا ہے۔ آج کل بھی یہ سب ہو رہا اور اب کورونا کی تباہ کاریوں کو روکنے اور متاثرین کے علاج اور تحفظ کے حوالے سے تحقیق کے نام سے کیا جا رہا ہے اور ابھی سے یہ امر سامنے آیا ہے کہ کورونا سے بچاؤ کی دوا اور ویکسین کی تیاری کے لئے تحقیق جاری ہے۔ قارئین! آپ خود اندازہ لگائیں کہ جب یہ ”بم“ چلے گا کہ علاج کی موثر دوا اور بچاؤ یا تحفظ کے لئے ویکسین تیار ہو گئی تو پھر متعلقہ دوا ساز ادارے کا منافع اور دوا معہ ویکسین فروخت کی صورتِ حال کیا ہو گی۔یہ کھربوں ڈالر کا منصوبہ ہے اور اسی لئے فیس بُک والے مہربان بھی اپنی کمپنی چھوڑ کر ادھر آ گئے اور خوفناک نتائج کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔اس حوالے سے جو نئی معلومات مل رہی ہیں وہ سب کے علم میں ہیں کہ امریکی دوا ساز اداروں ہی نے تحقیق کے نام پرکولیسٹرول بڑھنے کو دِل کے لئے انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔

چکنائی اور وزن بڑھانے والی خوراک سے منع کیا اور کولیسٹرول کنٹرول کرنے کی دوا ایجاد کی۔یہ دوا اس عشرے تک دِل کے مریضوں کے لئے لازم اور مفید قرار دی جا رہی ہے،لیکن اب جو تحقیق اور اس کا عملی نتیجہ بھی امریکہ ہی نے دریافت کیا کہ کولیسٹرول کوئی مرض نہیں اور اس کا دِل سے بھی کوئی تعلق نہیں، کہ کولیسٹرول کا تعلق جگر سے ہے اور اگر کسی فرد میں کولیسٹرول قدرے زیادہ بھی ہو تو نقصان دہ نہیں، چنانچہ اب دیسی گھی اور مکھن کے علاوہ انڈے اور زردی بھی مفید قرار دی جا رہی ہے۔آرگنینگ کے عنوان سے امریکہ میں کیمیکل(ادویات) سے صاف اور پاک پیداوار اور خوراک پر زور دیا جا رہا ہے،اس وقت تک ہم ترقی پذیر ممالک کھاد اور کیمیائی ادویات پر لگ چکے ہیں اور ہماری کوئی فصل(پھل سمیت) ان کے بغیر نہیں ہوتی، جبکہ کولیسٹرول کی ادویات بھی استعمال کرائی جا رہی ہیں۔ یوں یہ ادویات ساز ادارے اب تک کھربوں کما لینے کے بعد بھی کمائی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مَیں اپنے کالموں میں دِل اور کینسر کے امراض کی تحقیق اور ادویات کے بارے میں بھی عرض کر چکا ہوا ہوں کہ کس طرح مخصوص ادویات اور علاج تک محدود رکھا جا رہا ہے۔اب تحقیقی جرنلزم والوں کی اطلاع اور خبر یہ ہے کہ یہ کورونا بھی ان بین الاقوامی ادویات ساز اداروں کی کمائی کا ذریعہ بن گیا۔ یہ خود ساختہ ہے اور اس کی شدت کو بہت بڑھا چڑھا کر بھی اسی لئے پیش کیا جا رہا ہے کہ ویکسین اور ادویات سے دولت کمانے کا ایک نیا ذریعہ مل جائے، حالانکہ نہ صرف چین،بلکہ پاکستان اور دُنیا کے بعض دوسرے ممالک میں جو متاثرین صحت یاب ہوئے ان کا علاج روایتی ادویات سے ہوا تاہم اگر تحقیق کریں تو یہاں بھی مسئلہ کینسر کے مرض والا ہے کہ جو متاثرین ابتدا میں ٹیسٹ ہو کر علاج کے لئے آئے وہ تندرست ہوئے۔البتہ اموات وہ ہوئیں جو وائرس کے پھیپھڑوں تک پہنچ کر حملہ آور ہونے کی وجہ سے ہوئیں۔ان میں سے بعض مریض صحت یاب ہوئے، اِس لئے یہ امر خالی از روایت نہیں۔ حقیقت ہے کہ سب انسانی کارنامہ اور طلب زر ہے، اِس لئے ہمیں خود بھی تحقیق کر کے ٹیسٹ میں بہت تیزی لانا اور ابتدائی حملہ والے متاثر تلاش کر کے ان کا روایتی علاج کرنا ہو گا اور یہ کوشش تیز تر ہونا چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -