سلطان ٹیپو شہید (تیسری اور آخری قسط)

سلطان ٹیپو شہید (تیسری اور آخری قسط)
سلطان ٹیپو شہید (تیسری اور آخری قسط)

  

سلطان ٹیپو شہیدپر میرے کالم کی یہ تیسری اور آخری قسط ہے۔ اگر اسے خودستائی نہ سمجھا جائے تو اس کالم میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ اردو زبان میں آج تک کبھی بیان نہیں ہوا۔وجہ یہ ہے کہ اقبال شناسوں کو جنگ و جدال سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا اور فوج کلامِ اقبال کی طرف کبھی ملتفت نہیں ہوتی۔دونوں کا ملاپ ”نوادرات“ میں شمار ہونا چاہیے۔ اقبال کی ذات اس سلسلے میں جامع صفات تھی۔ انہوں نے اہلِ لشکر پر دل کھول کر لکھا۔ ان کو اہلِ دل اور اہلِ لشکر بہت مرغوب تھے،لہٰذا ان کے کلام میں جب بھی کسی اہلِ لشکر کا تذکرہ ملتا ہے تو اس میں ان کے ممدوح لشکری نے جو جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے ہوتے ہیں، جن جنگی معرکوں میں جسم و جان لڑائی ہوتی ہے اور جس ماحول میں فتح و شکست کا سامنا کیا ہوتا ہے اس کی مجسم تصویر کشی اقبال کے پیشِ نظر ہوتی ہے۔ جن مسلم یا غیر مسلم کمانڈروں پر اقبال نے طبع آزمائی کی ہے، ان میں جنرل ابو عبید مسعود ثقفیؓ، جنرل ابو عبیدہ بن الجراح، طارق بن زیاد، سلطان محمود غزنوی، امیر تیمور، نکولومیکیاولی، بابر، شیر شاہ سوری، خوشحال خان خٹک، اورنگزیب، میر جعفر، ابدالی، سلطان ٹیپو شہید، نپولین بونا پارٹ، مہدی سوڈانی، مصطفی کمال اور مسولینی کے نام نمایاں ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ اقبال نے ان سپہ سالاروں کی محض دلیری اور بہادری کا ذکر کرکے بات ختم کر دی ہے۔ انہوں نے ان شخصیات کی مدح و ذمّ بیان کرنے میں ان کے حالاتِ زندگی اور جنگی کارناموں کی تفاصیل کا پروفیشنل مطالعہ کیا ہے۔ جنرل ہسٹری اور ملٹری ہسٹری میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جنرل ہسٹری کو تاریخ کا کوئی بھی طالب علم پڑھ سکتا ہے لیکن ملٹری ہسٹری کی تفہیم پانے کے لئے اس طالب علم کو ایک ایک ملٹری کمانڈر کی ایک ایک جنگ کی تفصیل کا مطالعہ کرنا اور اسے ہضم کرنا پڑتا ہے اور جن حربی معرکوں میں اس نے حصہ لیا ان میں فتح و شکست کا پیشہ ورانہ تجزیہ کرنا پڑتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ وہ ملٹری ہسٹری کے نہ صرف قاری تھے بلکہ ان کے سامنے ہر جنگجو مردِ میدان کی حربی خوبیاں اور خامیاں نمایاں ہو کے سامنے آ جاتی تھیں۔ اقبال نے خود کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا، نہ اہلِ سپاہ کے ساتھ ان کے کوئی بدیہی مراسم تھے اور نہ انہوں نے اپنے دور کے وردی پوشوں سے کسی خاص یگانگت کا اظہار کیا۔

البتہ ان کے بڑے بھائی شیخ عطا محمد ایم ای ایس (ملٹری انجینئرنگ سروس) میں SDO تھے۔ اقبال ان کا از حد احترام کرتے تھے اور وہ بھی اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ نہائت شفقت کیا کرتے تھے۔ شیخ عطا محمد ملک کی مختلف چھاؤنیوں میں تعینات رہے اور اقبال جب بھی ان کے ہاں گئے تو وہاں کی ملٹری سٹیشن لائبریری کو وزٹ کیا۔ ان ملٹری لائبریریوں میں سوائے ملٹری ہسٹری کی کتب کے، کسی دوسرے موضوع پر کوئی زیادہ لٹریچر فراہم نہیں ہوتا۔ آج بھی پاکستان کی ملٹری اسٹیشن لائبریریوں کا یہی اختصاص ہے۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں اقبال لٹریچر کی کسی ایک شاخ یا برانچ کے رسیا نہیں تھے بلکہ ان کے سامنے مشرق و مغرب کے بہت سے علوم سے رغبت نمایاں تھی۔ اس کا ثبوت اور اظہار کلامِ اقبال کے قاری کو ان کی تمام تصانیف میں دیکھنے کو ملے گا۔ کلامِ اقبال سے محبت کرنے والوں سے میں یہی سوال کروں گا کہ اقبال نے جن ملٹری کمانڈروں کو اپنی منظومات کا موضوع بنایا ان کو پڑھ کر یہ بتائیں کہ ان سپاہ سالاروں کی پروفیشنل خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کرنے کا سلیقہ اقبال کے ہاں کہاں سے آ گیا تھا؟…… جہاں تک میں نے اقبال کا مطالعہ کیا ہے، اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اقبال جنگ و جدال کے اس عشرے کا مکمل ادراک کر چکے تھے…… جو سن ایک ہجری سے سن دس ہجری تک صرف اور صرف غزوات و سریات سے عبارت تھا۔ حضور اکرم ﷺ کی مدنی زندگی کا غالب فوکس جنگ پر رہا۔(یہ موضوع بڑا دقیق اور عمیق ہے) اقبال کہ عاشقِ رسولؐ تھے انہوں نے یہ راز پا لیا تھا کہ مسلمان کا اوڑھنا بچھونا باطل کے ساتھ جنگ و جدال اور حق کے ساتھ وصل و وصال ہے۔ دیکھئے ان اشعار میں آنحضورؐ کے جمالی اور جلالی پہلوؤں کا نقشہ کس خوبصورتی سے کھینچتے ہیں:

در دلِ مسلم مقامِ مصطفیؐ است

آبروئے ما ز نامِ مصطفیؐ است

(حضورؐ کا مقام مسلمان کے دل میں ہے اور ہماری آبرو انؐ ہی کے نامِ نامی سے قائم ہے)

درشبستانِ حِرا خلوت گزید

قوم و آئین و حکومت آفرید

(آپؐ غارِ حرا میں تنہا رہے اور اس خلوت گزینی کے نتیجے میں ایک قوم، ایک آئین اور ایک حکومت پیدا کی)

وقتِ ہیجا تیغِ اد آہن گداز

دیدۂ او اشکبار اندر نماز

(لڑائی میں ان کی تلوار لوہے کو پگھلا دیتی تھی اور جب خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتے تو آنکھیں بھیگ بھیگ جاتیں)

اقبال جب بھی کسی صاحبِ تیغ و سپر کا ذکر پڑھتے تھے تو ان کی نگاہوں میں اسی اسوۂ حسنہ کی جھلک موجود ہوتی تھی۔ انہوں نے سلطان ٹیپو شہید کی ذات میں ”تیغ و نماز“ کے اشتراک کا مشاہدہ کیا۔ اب اس نظم کا اگلا ٹکڑا ملاحظہ کیجئے۔

عالمِ تصور میں (جاوید نامہ میں) جب اقبال کا سامنا ٹیپو شہید سے ہوتا ہے تو ٹیپو، اقبال کو مخاطب کرکے کہتے ہیں:

”اقبال! تم کو اللہ تعالیٰ نے جو نوائے دل فروز بخشی ہے، اس کا جواب نہیں۔ ہم یہاں بیٹھے تمہارے اشکوں کی تپش اپنے سینے میں محسوس کر رہے ہیں …… الحمدللہ، یہاں ہمیں آنحضورؐ کی خدمت میں حاضری کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اگرچہ ان کی سرکار میں کسی کو دم مارنے کی جرات نہیں اور ہماری روح صرف انؐ کے دیدار اور مسلسل دیدار ہی کو معراج سمجھتی ہے۔ تاہم تمہارے اشعار ایسے دلگداز تھے کہ آنحضورؐ کے دربار میں بھی ہمارے منہ سے تمہارے ایک دو شعر نکل گئے جس پر سرکارِ دوعالمؐ نے پوچھا: ”یہ اشعار کہ جو تم نے پڑھے ہیں، کس کے ہیں کیونکہ ان شعروں سے مجھے زندگی کی ہاوہو اور ہنگاموں کی صدا آ رہی ہے…… یہ کس کے شعر ہیں؟“…… دیکھئے اس کیفیت کو اقبال نے کس انداز میں بیان کیا ہے:

بودہ ام در حضرتِ مولائے کل

آنکہ بے اوطے نمی گردر سُبل

گرچہ آنجا جراتِ گفتار نیست

روح را کارے بجز دیدار نیست

سو ختم از گرمی ء اشعارِ تو

بر زبانم وقت از افکارِ تو

گفت: ”ایں بیتے کہ برخواندی زکیست؟

اندرو ہنگامہ ہائے زندگی است!“

اس کے بعد سلطان شہید کی روح اقبال سے ایک ذاتی درخواست (یا تقاضا) کرتی ہے اور کہتی ہے:

باہماں سوزے کہ در سازد بجاں

یک دو حرف ازما بہ کاویری رساں

(اے اقبال! تیرے سینے میں جو سوز و گداز ہے اور جو زندگی آمیز اور زندگی آموز ہے، میری طرف سے ایک دو باتیں دریائے کاویری کو بتا دے)

در جہاں تو زندہ رود او زندہ رود

خوشترک آید سردود اندر سرود

(دنیائے رنگ و بو میں تو بھی زندہ رود ہے اور کاویری بھی زندہ رود ہے۔ اس لئے بڑا لطف آئے گا جب ایک سرود میں دوسرا سرود مل جائے گا)

فارسی میں رود کا معنی دریا ہے۔ زندہ رود کا مفہوم ہے ”بہتا دریا“…… اقبال کو بھی زندہ رود کہا جاتا ہے کہ ان کی ذات ایک بہتا اور طوفانی موجوں والا دریا تھی اور دریائے کاویری کا ذکر تو ہم گزشتہ سطور میں کر چکے ہیں کہ یہ عظیم دریا آج کے ہندوستان کے تین صوبوں (کرناٹک، کیرالا اور تامل ناڈو) کو سیراب کرتا خلیج بنگال میں جاگرتا ہے۔سلطان ٹیپو، اقبال کو کہتے ہیں کہ تو بھی زندہ رود ہے اور کاویری بھی زندہ رود ہے اس لئے بڑا مزہ آئے گا جب ایک زندہ رود دوسرے زندہ رود سے ہمکلام ہو گا…… نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں ……

سلطان کا یہ پیغام 41اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کا خلاصہ کالموں میں بیان کرنا بہت مشکل ہے۔ پہلے ہی تین قسطیں ہو چکی ہیں اور ویسے بھی اخبار کی انتظامیہ کی طرف سے تقاضا ہے کہ کالم کا سائز مختصر رکھا جائے۔ دریائے کاویری کے نام جو پیغام سلطان نے اقبال کو ڈکٹیٹ کرایا ہے اسی کی شرح کے لئے تین چار مزید اقساط کی ضرورت ہو گی۔ ممکن ہے قارئین بھی بور ہو رہے ہوں گے اس لئے ختم کرتا ہوں۔

سکوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ

زباں بھی ہے ہمارے منہ میں اور تابِ سخن بھی ہے

(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -