مرحوم سلیم گیلانی کی نظم بلالؓ

مرحوم سلیم گیلانی کی نظم بلالؓ

  

مرحوم سلیم گیلانی رحمۃ اللہ علیہ جنہیں میں اپنا روحانی استاد مانتی ہوں میں نے یہ نظم مثل بلال ان کی مشہور تصنیف بلال کو پڑھنے کے بعد لکھی بلال نے مجھے محبوب خدا کے ایک ایسے صحابی رسول سے روشناس کرایا جن کے متعلق میرا علم اور معلومات بہت محدود تھیں۔

بلال کا انداز بیان اور آغاز اتنا پر اثر اور دل کو چھو لینے والا تھا کہ میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی بلال میرے لئے زندگی بدل دینے والی کتاب ہے بلال پڑھنے کے بعد میں نے اپنے ایمان میں حد درجہ تقویت محسوس کی اور یوں میں سمیرا کامران ان کی ادنیٰ روحانی شاگرد بن گئی زیرنظر نظم میری طرف سے ان کے لئے ایک ادنی سا تحفہ ہے۔ تمام تعریفیں مولائے کل رب دو جہاں اللہ رب العزت کے لئے ہیں دعا ہے کہ اللہ عزوجل جس کے قبضہ قدرت میں ہم سب کی جانیں ہیں مرحوم سلیم گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کو جنت الفردوس میں اعلی مقام اور درجات عطا فرمائے آمین یا رب العالمین۔

........... مثل بلال رضی اللہ تعالی عنہ

میرا ضبط ایسا کمال ہو

محبت میں نہ کبھی زوال ہو

رکھوں بنیاد چاہتوں کی اس طرح

کے باقی کوئی نہ ملال ہو

پوجوں تجھے کچھ اس طور

میری بندگی بے مثال ہو

روز محشر جب بھی حساب ہو

بس عشق کا ہی سوال ہو

گھڑی آئے جب بھی رخصتی کی

میرے سامنے نورجمال ہو

میری جیت ہو کچھ اس طرح

کہ ہار کا نہ احتمال ہو

گماں بھی گزرے خطا کا گر

شعور میں پنہاں ذات جلال ہو

جب بھی تذکرہ ہو پیار کا

میرا 'حب اللہ' لازوال ہو

کبھی بات جو چھڑے نسبتوں کی

میرا ایمان مثل بلال ہو

آمین

مزید :

رائے -کالم -