پاکستان میں کورونا عروج پر پہنچ چکا، لاک ڈاؤ ن میں نرمی پاگل پن ہو گا پروفیسر اشرف نظامی

    پاکستان میں کورونا عروج پر پہنچ چکا، لاک ڈاؤ ن میں نرمی پاگل پن ہو گا ...

  

لاہور(جاوید اقبال) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر ڈاکٹر اشرف نظامی نے کہا ہے کہ حکومت لاک ڈاؤن کے معاملے پر قوم کو کنفیوژ نہ کرے،کرونا وباء اپنے عروج پر ہے ایسے وقت میں لاک ڈاؤن ختم کرنا تعلیمی اور میڈیکل ایجوکیشن کے ادارے کھولنا پاگل پن ہو گا، جب عالمی ادار صحت پاکستان کے حوالے سے پشین گوئی کر چکا ہے کہ کرونا وائرس کی وباء پاکستان کی 60 سے 80 فیصد آبادی کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے اس کے باوجود ہماری حکومت نے ہوش کے ناخن نہیں لئے۔گزشتہ روزیہاں پاکستان فورم میں اظہار خیال کر تے ہوئے پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ حکومت کو نظر نہیں آرہا کہ پاکستان کے اندر بد انتظامی کی وجہ سے کرونا وائرس کے مریضوں میں خوفناک حد تک اضافہ ہور ہا ہے جبکہ دوسری طرف اس وائرس میں مبتلا مریضوں کی شرع اموات میں بھی 100فیصد سے زائد اضافہ ہو گیا ہے۔یہ پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے لیکن ہمارے وزیر اعظم اس معاملے پر قوم کو مسلسل گمراہ کر رہے ہیں۔اس وباء کی خطرناکیوں سے پیدا ہونے والے معاشرتی،اقتصادی اور علاج معالجہ کے مسائل سے نپٹنا اور ان کا مستقل حل تلاش کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے آج اس وباء کو چھ ماہ ہونے کو ہیں اور اسے مزید آگے چلنا ہے مگر افسوس کہ حکومت اس حوالے سے مربوت قومی پالیسی سامنے نہیں لا سکی۔حکومت کو چاہیے تھا کہ صحت معاشرتی اور اقتصادی مسائل کو حل کرنے کیلئے نظام واضع کر تی مگر افسوس یہ کہ ابھی تک مرکز اور صوبے میں کام بیان بازی سے آگے نہیں بڑھ سکا۔اگر حکومت ایسے وقت میں عوام کیلئے ضروریات زندگی کی چیزیں بھی پوری نہیں کر سکتی تو جواہر لال نہرو سے ہماری کوئی دشمنی نہیں تھی۔پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن یہ سمجھتی ہے کہ کرونا وباء میں میعاری اور مثالی انتظامات نہیں ہو سکے لہٰذا مرکز میں ظفر مرزا اور پنجاب میں ڈاکٹر یاسمین راشد صرف فیل نہیں ہوئی بلکہ ہیلتھ سسٹم ایکسپوز بھی ہوا ہے اور ناکام بھی۔انہوں نے کہا کہ آج تک حکومتی،محکمہ صحت اور ہسپتالوں کی افسر شاہی کی نااہلی سے کرونا فرنٹ لائن پر کام کرنے والے 515 ہیلتھ پرفیشنلز کرونا کا شکار ہوئے ہیں جن میں 52فیصد کے حساب سے 265ڈاکٹرز متاثر ہوئے ہیں۔ 171 پیرامیڈیکس اور 75نرسین متاثر ہوئی ہیں۔کرونا سے لڑنے والوں کو معیاری سازو سامان مہیا کرنا حکومت وقت کی ذمہ داری تھی جو وہ پوری نہیں کر سکے۔ہمارے پاس پرائیویٹ میڈیکل کالج اور ہسپتال موجود ہیں جن میں صرف لاہور کے اند ر 4500بیڈزموجود ہیں جنھیں کرونا کے مریضوں کیلئے استعمال کیا جاسکتا تھا مگر افسوس کہ انہیں مفت میں استعمال کرنے کی بجائے ایکسپو سنٹر اور کالا شاہ کاکومیں کرنطینہ سنٹر بنا کر قوم کے کروڑوں روپے جلد بازی میں برباد کئے گئے۔ آج میوہسپتال،سروسز ہسپتال اور دیگر بڑے ہسپتالوں میں کرونا کے سنٹرز بنائے جانے کی وجہ سے دیگر لوگو ں کا علاج معالجہ اور آپریشن تک بند ہوچکے ہیں۔دیگر امراض میں مبتلا لوگ بروقت علاج معالجہ کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے مر رہے ہیں اس کا زمہ دار کون ہے۔ کرونا کے حوالے سے مستقل پالیسی بنانے کیلئے ریاست،عوام اور ریاستی اداروں کو ایک پیج پر آنا ہو گا جبکہ کرونا سے مستقل بنیادوں سے نمٹنے کیلئے ماہرین متعدی امراض کو کمیٹیوں کا حصہ بنانا ہو گا جس میں ڈاکٹرز تنظیموں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ ڈاکٹروں کو عام مریضوں کے علاج معالجہ کی طرف بھیجا جائے اور کرونا سنٹروں میں ایم بی بی ایس میں زیر تعلیم تھرڈ ایئر،فورتھ ایئر اور فائنل ایئر کے طلبہ کو لیا جائے کیونکہ دوسری عالمی جنگ میں یہ تجربہ کامیاب رہا تھا۔ کرونا سے ہونے والی موت کی تدفین کے وقت میت کی بے حرمتی نہ کی جائے اس کیلئے ایک ڈبلیو ایچ او نے گائیڈ لائن دے رکھی ہے اس پر عمل کیا جائے۔میت کو تابوت میں بند کر نے سے قبل سپرے کیا جاتا ہے اور پھر پولی تھین میں لپیٹ دی جاتی ہے۔ اس سے وائرس پھیلنے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔اس لئے ہم کہتے ہیں کہ تابوت میں میت کا چہرہ نہ ڈھانپا جائے تاکہ اس کے گھر والے اس کا منہ دیکھ سکیں۔پرفیسر اشرف نظامی نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی نئی تحقیق سامنے آئی ہے جس کے مطابق کرونا سے نمونیہ اور ٹائی فیڈ نہیں ہوتا بلکہ وائرس خون کی نالیوں میں بندش کا باعث بنتا ہے۔جب نالیوں میں خون کی روانی رک جاتی ہے تو موت واقع ہو جاتی ہے۔یہ بھی ریسرچ سامنے آئی ہے کہ نوجوان اس سے کم متاثر ہوتے ہیں اور سیگریٹ پینے والے افراد پر یہ وائرس کم اثر کرتا ہے۔ اسی طرح ماسک اس وائرس سے بچنے کیلئے بڑا سود مند ہے۔ماسک پہننے والے افراد اس وائرس کے حملے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔پروفیسر اشرف نظامی نے کہا کہ یہ بات سچ ہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی صدر رہی ہیں اور اس حوالے سے وہ ہماری بانی قائد ہیں مگر یہ تاثر غلط ہے کہ پی ایم اے کے لوگ چن چن کر ہسپتالوں میں انتظامی عہدوں پر لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس ڈاکٹر کے ساتھ کوئی زیاتی ہو اور وہ ہمیں درخواست دے یا مدد مانگے کہ اسے غلط طور رپر انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا ہو تو ہم اس کا ساتھ دیتے ہیں۔سروسز ہسپتال کے سابق ایم ایس ڈاکٹر سلیم شہزاد چیمہ انتہائی ایماندار آدمی تھے اور قابل بھی۔ کرونا میں جب انہیں ہٹایا گیا تو میں نے خود ان کے پرنسپل پروفیسر محمود ایاز سے رابطہ کیا مگر انہوں نے خاموشی اختیار کی جس بنا پر ہم نے آواز نہ اٹھائی اور ہم بھی چپ ہو گئے۔

پروفیسر اشرف نظامی

مزید :

صفحہ اول -