امریکہ کی انسداد کورونا کیلئے 120ممالک کو امداد 90کروڑ ڈالر سے تجاوز

امریکہ کی انسداد کورونا کیلئے 120ممالک کو امداد 90کروڑ ڈالر سے تجاوز

  

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکہ نے عالمی سطح پر کورونا وائرس سے انسداد اور صحت کے شعبے میں 12کروڑ80 لاکھ ڈالر کی اضافی امداد دینے کا اعلان کردیا۔ محکمہ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس امداد سے 120 سے زائد ممالک مستفید ہوں گے اور اس مدد میں امریکہ کی طرف سے ملنے والی امداد کی رقم اب نوے کروڑ ڈالر سے بڑھ گئی۔ وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی طرف سے جاری ہونے والے اس بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکہ کے نجی ادارے اور مخیر حضرات اس سلسلے میں عالمی سطح پر پہلے ہی چارارب ڈالر کی امداد فراہم کر چکے ہیں۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ اس وبا کا مقابلہ کرنے کیلئے جہاں امریکی حکومت ملک کے اندر کثیر فنڈز خرچ کر رہی ہے وہاں وہ اپنی عالمی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے دیگر متاثرہ ممالک کو بھی ضروری امداد دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت جب ہم داخلی سطح پر اس وائرس کوشکست دینے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ہم اس مشکل وقت میں اپنے عالمی حلیفوں کا بھی ساتھ دے رہے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ زیادہ صحت منددنیا کا مطلب زیادہ صحت مند امریکہ ہے۔ امریکی وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایبولا، ایڈز، ٹی بی،ملیریا اور دوسری متعدی امراض کے خاتمے کیلئے گزشتہ نصف صدی میں امریکہ نے دنیا بھر میں سب سے زیادہ امداد دی ہے۔ اس کے علاوہ وینز ویلا اور شام میں انسانی ہمدردی کے تحت وہاں مہاجرین کی بحالی کیلئے بھی امداد دینے میں امریکہ ہمیشہ سرگرم رہا ہے۔

امریکی امداد

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بتایا ہے کہ ہم کورونا وائرس کے آغاز کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسروں کی طرح ہمیں بھی اس سوال کا جواب درکار ہے،کہ چینی شہر ووہان میں یہ کس طرح شروع ہوا،قبل ازیں میڈیا میں ان سے منسو ب یہ بیان جاری ہوا تھا کہ، چین نے اس وائرس کو تجربہ گاہ میں پیدا کیا ہے، جس پر چین نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا،امریکی وزیر خارجہ نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ، امریکی حکام اور سائنسدان اس کے بارے میں مختلف تبصرے کر رہے ہیں، اور مختلف تھوریاں سامنے آ رہی ہیں،کیا یہ ووہان کی ”گیلی مارکیٹ“ میں کسی جانور سے انسانوں میں منتقل ہونے کے بعد وباء کی صورت میں پھیلا؟ کیا ووہان کی تجربہ گاہ میں کسی حادثے کے نتیجے میں اس پر کام کرنے کے دوران وائرس فرار ہوا؟، تا ہم انٹیلی جنس ادارے اس پر تحقیق کر رہے ہیں، جس میں فی الحال چین تعاون نہیں کر رہا۔امریکی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس سلسلے میں جو کچھ کہا جا رہا ہے، وہ ایک دوسرے کی تردید نہیں، تمام ذمہ دار افراد اس سلسلے میں امکانات کی بات کر رہے ہیں۔امریکی وزیر خارجہ نے پریس کانفرنس میں چین پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ کے بارے میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔حقائق چھپانے کے باعث حقیقت جاننے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ

مزید :

صفحہ اول -