بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید 375سرکاری افسران سے 1کروڑ وصول

          بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید 375سرکاری افسران سے 1کروڑ وصول

  

کراچی (آئی این پی)سندھ میں خود کو غریب اور مستحق ظاہر کرکے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام(بی آئی ایس پی)سے فائدہ اٹھانیوالی 375 سرکاری افسران کی بیگمات نے ایک کروڑ روپے حکومت کو واپس کرد یئے۔وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)کے مطابق سکھر رینج میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید افسران کیخلاف کارروائی کی گئی اور 375افسران کو نوٹس جاری کیے گئے۔ایف آئی اے ذرائع کے مطابق نوٹسزجاری ہوتے ہی اور نام ظاہر نہ کرنے کی صورت میں رقوم بھی ادا کردی گئیں اور اس طرح 4روزکے دوران ایک کروڑ سے زا ئد رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی ہے۔ ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی فائدہ حاصل کرنیوالوں میں گریڈ 17تا 20کے افسران کی بیگمات شامل ہیں، جنہوں نے خود کو مستحق ظاہر کرکے مجموعی طور پر 7کروڑ سے زائد رقم حاصل کی۔رپورٹ کے مطابق سکھر ریجن میں آنیوالے یہ افسران محکمہ تعلیم، محکمہ زراعت، ریونیو اور ڈسٹر کٹ ایڈمنسٹریشن سمیت دیگر اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے سندھ بھر میں گریڈ 17تا 20کے مجموعی 950سے زائد سرکاری افسران کیخلاف تحقیقات کی جارہی ہیں۔خیال رہے گذشتہ سال کے آخر میں وفاقی حکومت نے 8 لاکھ 20 ہزار سے زائد غیر مستحق افرادکو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال دیا تھا۔بعد ازاں رواں سال جنوری میں و زیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ اور احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے انکشا ف کیا تھا وفاقی اور صوبائی اداروں کے ایک لاکھ40 ہزار سرکاری ملازمین بھی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے وظیفہ وصول کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے پر تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو کارروا ئی کرکے رپورٹ دینے کی ہدایت کی تھی اور فراڈ کرنیوالے افسروں کیخلاف دھوکا دہی سکے،مقدمات درج کر کے رقم وصول کرنے کی ہدایت کی تھی۔واضح رہے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام 2008 میں پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں غریب اور پسماندہ طبقے خصوصا عورتوں کو مالی مدد فراہم کرنے کیلئے شروع کیا گیا تھا جسے اب احساس پرو گرام میں ضم کردیا گیا ہے۔

ایک کروڑ وصولی

مزید :

صفحہ آخر -