صوابی، کرونا وائرس کیخلاف ورزی پر ہتھ ریڑھی والوں پر انتظامیہ کا تشدد

صوابی، کرونا وائرس کیخلاف ورزی پر ہتھ ریڑھی والوں پر انتظامیہ کا تشدد

  

صوابی(بیورورپورٹ) ٹی ایم اے صوابی نے ایک بار پھر مردان صوابی روڈ پر سبزی فروشوں کی ہتھ ریڑھیاں زمین پر گرا کر ان کی سبزی اور دیگر اشیائے خوردونوش کو ضائع کر دیا جب کہ ہتھ ریڑھیاں ٹرالی میں ڈال کر ٹی ایم اے آفس لے گئے انتظامیہ کے اس اقدام پر غریب سبزی فروشوں نے احتجاج کیا اس وقت دنیا بھر میں جہاں کروونا وائرس کی وجہ سے کاروبار زندگی مفلوج ہے وہاں پاکستان میں بھی اس وبائی مرض کی وجہ سے معاشی و سماجی حالات ابتر ہیں۔ضلع صوابی میں بھی کروونا وائرس کے پیشِ نظر سخت لاک ڈاؤن کیا گیا ھے اور اس سلسلے میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن سختی سے ایکشن لے رہی ہے۔ تاہم ضلع صوابی کی تحصیل صوابی میں تعینات اسسٹنٹ کمشنر صوابی صہیب بٹ نے چابڑی فروشوں اور ریڑھی بانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع کر رکھاہے۔ اصلاحی جر گہ صوابی کے رہنما نورل خان اور دیگر عوامی حلقوں نے اس بات پر سخت تشویش کااظہار کر تے ہوئے کہا ہے کہ یہی گورنمنٹ سرونٹ روزانہ صوابی شہر کے غریب مزدوروں (ریڑھی بانوں) سے بدتمیزی کرکے ان کی ہتھ ریڑھیوں پر موجود پھل اور سبزیوں کو سڑک پر پھینک کر ضائع کردیتے ہیں اور اکثر ریڑھی بانوں کو اشیاء سمیت میونسپل کمیٹی صوابی کے دفتر پہنچا دیتے ہیں۔اس سرکاری نوکر کے ساتھ بلدیہ صوابی کا سٹاف بھی موجود رہتا ہے اور اکثر یہی عملہ غریب ریڑھی بانوں کا مال آپس میں بانٹ بھی لیتا ہے۔تحصیل صوابی میں تعینات پنجاب سے تعلق رکھنے والے سرکاری نوکر خود کو ایک سخت گیر آفیسر ثابت کرنے کیلئے اس گھمبیر اور معاشی طور پر بدحالی کے دنوں میں مسلسل ظالمانہ کاروئیاں کر رہا ہے۔اگر یہ ریڑھی بان اور چابڑی فروش واقعی کسی غیر قانونی عمل میں ملوث ہیں تو ان کے خلاف لیگل فریم ورک کے تحت ایکشن لینا چاھئے,ان کو وارنگ دے کر مستقل طور پر پابند کرنا چاھئے کہ وہ یہ کاروبار نہ کریں لیکن ان کی اشیاء کو ضائع اور ان کو نقصان پہنچانے کے عمل سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔یہی غریب ریڑھی بان رمضان المبارک کے اس بابرکت مہینے میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ویسے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہیں۔ ان کو اگر یوں ہی دیوار سے لگایا گیا تو یہ بغاوت بھی کرسکتے ہیں اور جس کے نتیجے میں صوابی شہر میں لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال بھی خراب ھو سکتی ہے۔ڈپٹی کمشنر صوابی پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے اس ماتحت سرکاری نوکر کی خبر لیں اور صوابی شہر کے بہترین مفاد اور امن و آمان کی صورتحال کے پیشِ نظر دانشمندی سے کام لیں اور کم از کم رمضان کے مہینے میں ان مسکینوں کو تنگ کرنے کے خلاف ا ے سی صوابی کو سمجھائیں۔اس سلسلے میں ضلع صوابی کے ان منتخب اراکین اسمبلیوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاھئے جو الیکشن کے دنوں میں انہیں غریبوں سے ووٹ مانگتے ہیں اور ان کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ مگر ابھی ایک سرکاری نوکر کی غنڈہ گردیوں پر خاموش بیٹھے ہیں۔ صوابی کے عوام کسی غیر قانونی عمل کی حمایت نہیں کرتے کروونا وائرس سے ڈرے ھوئے اور لاک ڈاؤن کے ستائے ھوئے لوگوں کو مزید تنگ نہ کیا جائے,اگر ان کی کوئی غلطی بھی ہے تو اس کی اصلاح کیلئے ایسا میکنزم مرتب کیا جائے جس سے حکومتی رٹ بھی قائم رہے نقصِ امن کا بھی خطرہ نہ ھو اور ضلعی انتظامیہ کی ساکھ بھی خراب نہ ھو۔ فلحال اس ظلم کا فوری خاتمہ ھونا چاہیے اور مذکورہ سرکاری نوکر اسسٹنٹ کمشنر صوابی صہیب بٹ کو اس ظلم سے روکا جائے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -