عتیق میر کی سربراہی میں تاجروں کی پی ٹی آئی کراچی قیادت سے ملاقات

    عتیق میر کی سربراہی میں تاجروں کی پی ٹی آئی کراچی قیادت سے ملاقات

  

کراچی(سٹاف رپورٹر)تاجر رہنماوں کے وفدنے عتیق میر کی سربراہی میں پی ٹی آئی سیکریٹریٹ انصاف ہاوس میں پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کی اور اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کا کہنا تھا کہ ملاقات کا مقصد ہم کسی پرمنزل پہنچ جائیں۔ہمارا مطالبہ یہی ہے کہ سندھ حکومت فوری ایس او پیز بنائے۔اب تنخواہ دینے والا طبقہ بھی پریشان ہوچکا ہے۔اس وقت کراچی کو بند کرنا مناسب نہیں۔ ہم سیاست کو خدمت سمجھتے ہیں۔لاکھوں لوگوں کی یہاں بیٹھ کر ترجمانی کررہے ہیں۔وزیر اعظم کو بھی ہم نے کراچی کی صورتحال کا بتایا۔کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے جنرل سیکریٹری سعید آفریدی،ایڈیشنل جنرل سیکریٹری فہیم خان، سیکریٹری اطلاعات و ترجمان کراچی جمال صدیقی،رکن سندھ اسمبلی راجہ اظہر، پی ٹی آئی رہنما ارسلان مرزا،عمران صدیقی، توقیر احمد اور دیگر موجود تھے۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ ہم نے ایس او پی بنانی ہے۔سندھ حکومت بلاول ہاؤس کے بنکر میں چھپی ہوئی ہے۔آج کراچی کے لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔سندھ میں کورونا شام 5 بجے نکلتا ہے۔5 بجے سے پہلے کسی کو بھی کورونا نہیں لگتا۔یہ تاجر اس ملک کو اربوں روپے ٹیکس دیتے ہیں۔ان کی وجہ سے پورا پاکستان چل رہا ہے۔تحریک انصاف ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سے تاجروں کی ملاقات کرائیں گے۔تاجروں کی ہر ممکن مدد کے لیے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔آن لائن کاروبار مراد علی شاہ کا ہوگا۔آن لائن کاروبار کے لئے کوئی نظام نہیں بنایا گیا۔مراد علی شاہ کو اپنے ساتھ مخلص لوگ رکھنے کی ضرورت ہے۔انہیں احساس ہو کہ اگر کراچی بند ہوگیا تو پورا پاکستان بند ہوجائے گا۔سندھ حکومت کی اتنی ہمت نہیں کہ ایس او پی بناسکیں۔ہم ان کی مدد کے لیے تیار ہیں۔بلاول نے کہا کہ میں جوابدہ نہیں ہوں،بلاول کو بتادینا چاہتے ہیں کہ آپ اور آپ کی حکومت عوام کو جوابدہ ہیں۔ہم نے ان تاجروں کے لیے آواز اٹھانی ہے۔آگے اموات کورونا کے بجائے بھوک سے ہونگی۔تب معاملات ہاتھ سے نکل جائیں گے۔خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ خالی نوٹیفکیشن نکالنے سے سندھ کے معاملات حل نہیں ہونگے۔ہماری مساجد اور تراویح بھی انہوں نے بند کردی ہیں۔ہم ان کی آواز پہنچارہے ہیں۔ہم اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ہم کسی قسم کی افراتفریح نہیں کرانا چاہتے۔ہم صرف ایس او پیز کا مطالبہ کررہے ہیں۔اس موقع پر تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا تھا کہ ہم کورونا سے لڑنا چاہتے ہیں حکومت سے نہیں۔ہم تاجر اپنا جائز حق مانگنے کی بات کررہے ہیں۔ہمارے مزدور بھوکے مررہے ہیں۔ہمیں ایک محفوظ اور محدود طریقے سے کاروبار کرنے کی اجازت دی جائے۔عید آرہی ہے مشکلات اور بڑھ سکتی ہیں۔دو سے تین دن کے اندر سندھ حکومت نے کوئی تعاون نہیں کیا تو ہم پیچھے ہٹ جائیں گے اور دکاندار آگے ہوگا۔60 فیصد دکانیں اب تھانوں کی ایس او پی پر چل رہے ہیں۔وزیر اعلیٰ صاحب آپ نے کچھ وعدے کیے تھے وہ کہاں گئے۔خدا کے لیے اب ہماری مجبوریوں کو سمجھیں۔

مزید :

صفحہ آخر -