صادق آباد: بیٹے کا وراثتی جائیداد پر قبضہ‘ والدہ،بہنیں 5سال سے دربدر

صادق آباد: بیٹے کا وراثتی جائیداد پر قبضہ‘ والدہ،بہنیں 5سال سے دربدر

  

صادق آباد(نمائندہ خصوصی) بیٹے نے سسرالیوں سے ملکر اپنی حقیقی والدہ اور بہنوں کو جائیداد سے محروم کرکے گھر سے نکال دیا‘ تفصیل کے مطابق چک نمبر (بقیہ نمبر52صفحہ6پر)

175پی کی رہائشی فردوس اختر نے آنکھوں کی بینائی سے محروم اپنی والدہ زبیدہ بی بی‘ معذور بہن فرزانہ بی بی اور بہن کوثر بی بی کے ہمراہ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میرے حقیقی بھائی طاہر منیر نے اپنے سالوں منور حسین‘ مزمل حسین‘ محمد حسین وغیرہ کے ساتھ ملکر میری والدہ اور بہنوں کو گھر سے نکال دیا اور ہماری وراثتی جائیداد سے حصہ دینے سے انکاری ہے‘ انھوں نے بتایا کہ رستم کالونی میں 6مرلے کا مکان اور محلہ فیصل آبا دمیں 2مرلے کا مکان وکمرشل دکانیں موجود ہیں جس پر ہمار ے بھائی نے اپنے سسرالیوں کیساتھ ملکر قبضہ کر رکھا ہے اس طرح ہمیں ہماری وراثتی جائیداد سے محروم کر دیا گیا ہے جبکہ سندھ میں ہماری 80کنال زرعی اراضی پر بھی ہمارے بھائی طاہر منیر کا قبضہ ہے، بھائی کے حصہ میں والد کی طرف سے تین ایکڑ اراضی آئی اب وہ تقریبا ساڑھے بارہ ایکڑ اراضی پر قابض ہے۔ ہم نے اپنے حصہ کی جائیداد حاصل کرنے کیلئے سول کورٹ صادق آباد میں دعوی بھی دائر کیا جس پر عدالت نے مذکورہ جائیداد کا حکم امتناعی جاری کر دیا جس کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے‘فردوس اختر نے مزید بتایا کہ آنکھوں کی بینائی سے محروم ماں‘ معذوربہن اور ہم دیگر دو بہنیں عرصہ 5سال سے در بدرکی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہیں۔

دربدر

مزید :

ملتان صفحہ آخر -