کورونا وباء، فلم، ٹی وی اور تھیٹر سے وابستہ لوگ دباؤ کاشکار

کورونا وباء، فلم، ٹی وی اور تھیٹر سے وابستہ لوگ دباؤ کاشکار

  

لاہور (فلم رپورٹر)کرونا وائرس کی وجہ سے فلم، ٹی وی اور تھیٹر سے وابستہ لوگ ہر آنے والے والے دن میں دباؤ کا شکار ہورہے ہیں کام نہ ہونے کے کی وجہ سے تمام لوگ پریشان ہیں۔شوبزکے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کا کہنا ہے کہ چینلز کی جانب سے پروڈکشن ہاؤسز کو بروقت ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے ڈرامہ انڈسٹری شدید بحران سے دوچارتھی رہی سہی کسر کرونا نے پوری کردی ہے۔اس پر کرونا وائرس کی وجہ سے رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی ہے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد کیا صورتحال ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے لیکن اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حالات کافی عرصہ تک بہتر نہیں ہوسکیں گے ایسے وقت میں سب کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔۔خرم شیراز ریاض،شاہد حمید،معمر رانا،مسعود بٹ،حسن عسکری،شانسید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،انیس حیدر،ہانی بلوچ،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،حنا ملک،انعام خان،فانی جان،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،عباس باجوہ،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،ڈائریکٹر ڈاکٹر اجمل ملک،کوریوگرافر راجو سمراٹ،صومیہ خان،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی نے کہا کہپاکستانی قوم بہت باصلاحیت ہے جو کسی بھی ترقی یافتہ ملک سے پیچھے نہیں چاہے وہ کوئی بھی شعبہ ہو۔بہت سے ایسے پاکستانی فنکار ہیں جنہیں اپنے ملک میں تو شاید کم لوگ جانتے ہوں لیکن انہوں نے دنیا میں تہلکہ ضرور مچایا ہے۔فلم کے بعد ڈرامہ انڈسٹری کے بحران کی بنیادی وجہ مناسب منصوبہ بندی کا نہ ہونا ہے۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر ہم نے شوبز انڈسٹری کو بچانا ہے تو اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا اس علاوہ حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ شوبز کو سپورٹ کرے۔ 

مزید :

کلچر -