مقبوضہ کشمیر، دنیا کی سب سے بڑی جیل

مقبوضہ کشمیر، دنیا کی سب سے بڑی جیل
 مقبوضہ کشمیر، دنیا کی سب سے بڑی جیل

  

مقبوضہ کشمیر میں جہاں ایک طرف کرونا وائرس تباہی پھیلا رہا ہے تو دوسری طرف وہاں پہلے سے موجود بھارتی فوج نے اپنے مظالم میں شدت پیدا کردی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ضلع ہندواڑہ کے علاقہ میں بھارتی فوج اور مسلح افراد کے درمیان 16گھنٹے جاری رہنے والے خونیں معرکے میں آرمی میجر سمیت پانچ ہلاک جبکہ کارروائی کے دوران 2کشمیری نوجوان مجاہدین شہید ہو گئے۔

ہلاک شدگان ہونیوالوں میں کرنل آشوتوش شرما21 آر آر، میجر انوج سود19 گارڈز، این کے راجیش3 گارڈز، ایل این کے دنیش 17 گارڈز ایس آئی شکیل قاضی شامل ہیں۔ علاقہ میں تین مجاہدین کی اطلاع پر سکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقہ کو گھیرے میں لے لیا تھا اور تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کیا گیا۔ ہندواڑہ علاقہ میں موبائل انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئیں۔ علاقہ میں گزشتہ دو روز سے ہی تلاشی مہم جاری تھی۔ اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں رونما ہونے والے دو واقعات میں جھڑپوں کے نتیجے میں 9کشمیری شہید اور تین بھارتی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

اگلے دن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے 17 سالہ نوجوان حازم بٹ کو شہید کردیا۔اسی روز ایک حملے میں چار بھارتی فوجی ہلاک جبکہ چھ زخمی ہو گئے۔ نامعلوم افراد نے ہندواڑہ میں بھارتی فوج کی پٹرولنگ ٹیم پر حملہ کیا۔ دو روز میں بھارتی کرنل‘ میجر سمیت چار بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیرمیں مسلسل 275 ویں روز بھی مکمل لاک ڈاون رہا۔ وادی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں نہیں بدلی۔ پولیس نے لاک ڈا?ن کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 29افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جبکہ13گاڑیوں کو ضبط کیا۔

مودی سرکار کی اس سے بڑی سفاکی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وہ پوری دنیا پر غالب آئی کرونا وائرس کی آزمائش پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اس نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم و مقاصد کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھی گزشتہ 274روز سے تسلسل کے ساتھ کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے اور کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ بھی اس نے کشیدگی میں کمی نہیں ہونے دی۔

بھارت درحقیقت ہندوتوا کے ایجنڈے کے تحت کشمیری عوام اور بھارتی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہے، جس میں انسانیت کی رمق تک موجود نہیں۔ وہ اپنے توسیع پسندانہ جنونی عزائم سے درحقیقت پورے علاقے اور پوری دنیا کی تباہی کا اہتمام کر رہاہے، اس لئے اس کے جنونی ہاتھ روکنا عالمی قیادتوں اور نمائندہ عالمی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کشمیریوں کو ہر صورت بھارتی تسلط سے آزادی حاصل ہونی ہے، جس کا حق خودارادیت اقوام عالم میں تسلیم شدہ ہے۔ اسی طرح پاکستان کو بھی اپنی سلامتی کے تحفظ کیلئے کوئی بھی قدم اْٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن لے اور اپنی جنونیت میں علاقائی اور عالمی امن کو دا? پر نہ لگائے۔ عساکر پاکستان اس کی ہر شرارت اور بدنیتی کا مسکت جواب دینے کیلئے ہمہ وقت تیار ہیں۔

آج کل جنت نظیر وادی کشمیربھارتی ظلم و ستم کی وجہ سے دنیا کی سب سے بڑی جیل بنی ہوئی ہے۔ 276روز سے جاری کرفیو اور لاک ڈا?ن کے دوران بھارتی درندے کشمیری بچوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ عالمی تنظیموں کی رپورٹس نے بھی مودی سرکار کی فسطائیت کا پردہ چاک کیا۔ اسی وجہ سے ہزاروں افراد کی گرفتاری کا بھارت نے بھی خود اعتراف کر لیا۔ مقبوضہ وادی میں زندگی آج بھی قید ہے۔ مسلسل لاک ڈا?ن کے باعث حالات انتہائی خراب ہیں۔

بھارت کی اعلیٰ شخصیات جن میں سابق وزیر خارجہ یشونت سہنا، سینئر صحافی بھارت بھوشن اور ایئر فورس کے سابق وائس ایئر مارشل کپل کاک پر مشتمل ایک وفد نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معلوم کرنے کیلئے وادی کا دورہ کیا اور مودی حکومت کے حالات معمول پر ہونے کے دعوے کو دو ٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا۔ یشونت سہنا کا کہنا تھا کہ حالات نارمل نہیں۔ ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی دیکھا کہ ساری دکانیں بند ہیں۔ کشمیریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ فون اور انٹرنیٹ پر پابندی ہے۔ کپل کاک نے موجودہ صورتحال کو یخ بستہ قید قرار دیتے ہوئے کہا کہ 80 لاکھ کشمیریوں کو یخ جیل میں رکھنے کے باوجود صورتحال کو معمول قرار دیا جا رہا ہے۔ مودی حکومت اعلانات کی بجائے کشمیریوں کے درد کو محسوس کرے۔

مسئلہ کشمیر کے حل اور مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال کی اصل ذمہ داری اقوام متحدہ پر عائد ہوتی ہے جس کی سلامتی کونسل نے کچھ عرصہ قبل ہی کشمیرکی متنازع حیثیت اور اپنی عشروں پرانی قراردادوں سے وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ کشمیریوں کے حق میں اقوام متحدہ کی قراردادیں تقاضا کرتی ہیں کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ناقابل بیان خلاف ورزیاں رکوانے کیلئے امن فوج بھیجنے سمیت ضروری تدابیر فوری طور پر بروئے کار لائے اور اپنی نگرانی میں آزادانہ و غیر جانبدارانہ ریفرنڈم کا اہتمام کرے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ کشمیری عوام پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ الحاق کے خواہشمند ہیں۔کیونکہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب جاں بحق ہونے والے افراد مقبوضہ کشمیر کے قبرستان آباد نہ کرتے ہوں۔ زخموں سے چور کشمیر سات دہائیوں سے عالمی برادری سے انصاف کا طلبگار ہے۔

بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں سب ٹھیک ہے کے راگ آلاپ رہی ہے مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ برطانوی ٹی وی نے وادی میں بھارتی پول کھولتے ہوئے رپورٹ کی ہے کہ سرینگر کی سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورت پیسے دے کر چلائی جارہی ہے مگر ان میں بیٹھنے والے مسافر نہیں ہیں۔صرف یہ دکھانے کیلئے کہ کشمیر میں عوامی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن خالی بسیں سڑکوں پر پھر رہی ہیں۔ حریت کانفرنس اور سابق کٹھ پتلی انتظامیہ تمام کشمیری رہنما جیلوں میں بند ہیں یا ان کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ اسی لاکھ کشمیری میڈیا بلیک آؤٹ اور بھارتی سختیوں کا شکار ہیں۔ پیسے دے کر بھارتیوں کو مقبوضہ وادی سیاحت کیلئے بھیجا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں سستے ترین ٹور پروگرام دے رہی ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ مقبوضہ وادی میں سیاحت کی صنعت کو ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔ کسان سے لے کر کشتی اور رکشہ چلانے والے پریشان ہیں۔ وادی میں سکول کھلنے کا واویلا کیا جا رہا ہے مگر پڑھنے کیلئے کوئی بچہ نہیں آرہا۔ بچوں کے والدین بھارتی فوج کے ڈر سے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے کہ فورسز سکول سے بچوں کو اغوا کر لیں گی۔

مزید :

رائے -کالم -