ماروی سرمد کے والد چوہدری انوار الحق کی رحلت

ماروی سرمد کے والد چوہدری انوار الحق کی رحلت
 ماروی سرمد کے والد چوہدری انوار الحق کی رحلت

  

ایک گالی صرف ایک گالی جس نے ایک متقی پارسا پرہیز گارا ور نجیب الطرفین انسان کی جان لے لی۔

مارچ کی پانچ تاریخ کو عالمی یوم خواتین منایا جا رہا تھا مگر اس سے متعلقہ بحث مباحثے پہلے سے زوروں پر تھے۔ ایک ٹی وی چینل پر کسی ڈرامہ نگار نے ماروی سرمد پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ حتی کہ ان کے والد محترم کوبھی ایک حیوان سے تشبیہ دے ڈالی۔ اس پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ میرے بڑے بھائی میاں محمد نے مجھے بتایا کہ فیس بک پر ماروی سرمد کو ڈی جی پی آر کے ایک سابق افسر انوارالحق کی بیٹی بتایا جا رہا ہے۔ میں چکرا کر رہ گیا کہ اس بڑھاپے اور وہیل چیئر کی معذوری میں چودھری انوار الحق نے کیا ایسا گناہ عظیم کر دیا کہ ایک ڈرامہ نگار نے انہیں شدید ذہنی کرب میں مبتلا کر دیا۔ مجھے قلق یہ تھا کہ ماروی سرمد کے نظریات پر جس نے جو تنقید کرنی ہے، شوق سے کرے۔ مگر یہ گالیوں کا رواج کہاں سے پڑ گیا اور گالی بھی ماروی سرمد کو نہیں، براہ راست ان کے باپ کو جن کی شرافت، پارسائی، پرہیز گاری کا ایک زمانہ گواہ ہے، جن کا دل ان کے دستر خوان کی طرح وسیع تھا۔ وہ دوستوں کے دوست اور مربی تھے۔ اپنی ملازمت کے دوران کم ازکم لاکھوں صحافیوں سے ان کا واسطہ پڑا، شایدہی کوئی ان کے خلاف شکوہ شکائت زبان پر لایا ہو۔

وہ حلیم الطبع، نرم گفتار اور کسی کی دل آزاری کی سوچ ہی نہیں رکھتے تھے۔ میرا ان سے تعلق 1980ء میں ا س وقت قائم ہوا جب ڈی جی پی آر کا دفتر سہگلوں کی کوٹھی کے عقب میں ایک نالے پر تھا۔ چودھری ریاست ڈی جی تھے، وہیں چودھری انوارالحق، شعیب بن عزیز اور آغا اسلم سے ملاقات ہوئی جو دوستی، محبت اور قربت میں بدل گئی۔ چودھری صاحب اس قدر پروفیشنل تھے کہ کوئی حکومت ان سے خفا نہ ہوئی۔ وہ ایسا موقع ہی نہ آنے دیتے تھے۔ وہ سیاسی دھڑے بندی کے ہرگز قائل نہ تھے مگر دوستوں کے دوست اور خاص طور پر اپنے دفتر کے مفاد کے نگہبان تھے۔ ڈی جی پی آر کا دفتر موجودہ عمارت میں منتقل ہوا توا س کے سامنے ایک وسیع پارک تھا، چودھری صاحب کو خبر ملی کہ ایک قبضہ گروپ اس پارک کو ہتھیانا چاہتا ہے۔ اس مرد قلندر نے عجب ترکیب لڑائی۔ راتوں رات وہیں ایک قبر کھودی، اس پر سبز چادریں بچھائیں، دیئے جلائے اور اگربتیوں کی خوشبو سے ا سے مہکا دیا، قبر کے سرہانے کسی خدا رسیدہ بزرگ کے نام کی تختی بھی لگوا دی۔

اس طرح یہ پارک آج بھی قبضہ گروپ سے محفوظ ہے۔ چالیس برس کے عرصے کی یادیں کس طرح کوزے میں بند کروں۔ جنرل ضیاء نے پری سنسر شپ کا حکم لاگو کر دیا۔ ان دنوں میں نوائے وقت کی کاپیاں چودھری صاحب کے پاس لے جاتا تھا۔ وہ مجھ پر اندھا اعتماد کرتے تھے اور ٹھپ ٹھپ مہریں لگا کر دستخط کر دیتے۔ انہی دنوں میں نے پروین شاکر کی صد برگ چھاپی، اس پر بھی مہریں لگوانے گیا اور چودھری صاحب برا سا منہ بنا کر کہنے لگے کہ یہ تو شاعری کی کتاب ہے، میں نے کہا کہ جی ہاں۔ یہ شاعری کی کتاب ہے۔ انہی چودھری صاحب کی مہروں سے میں نے امجد اسلام امجد کا ڈرامہ وارث شائع کیا۔ اس کی زبان پر انہوں نے بڑے اعتراضات کئے، میں نے کہا کہ جو ڈرامہ پی ٹی وی پر چل چکا ہے، آپ اس پر مہریں لگائیں، آپ کا کام ختم۔

میں کہوں گا کہ چودھری صاحب بڑے بھولے اور سادہ انسان تھے۔ وہ پی سی آئی اے کے ہر اجلاس میں شریک ہوتے۔ جونہی کسی نمازکا وقت ہوتا تو کرسی قبلہ نما گھما کر مصروف عبادت ہو جاتے۔ نماز قضا کرنا انہیں گوارہ نہ تھا، ان اجلاسوں میں میں نے چودھری صاحب کے ہاتھ میں ایک نئی قسم کی تسبیح دیکھی جسے انگوٹھے سے دباتے رہو اور ورد وظیفہ جاری رکھتے۔ یہ دھات کی بنی ہوئی تھی۔ نماز، روزہ، تسبیح، لمبی گھنی ڈاڑھی، ماتھے پر سجدوں سے سیاہ نشان۔ یہ طرہ امتیاز چودھری انوار ہی کو حاصل تھا۔کیسے کیسے گھاؤ لگے ہوں گے اس کے دل و دماغ پر جب ہر ٹی وی چینل پر ان کی بیٹی کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔ کیا کوئی شخص اپنی اولاد کے کسی فعل کا ذمے دار ہے جبکہ وہ عرصہ دراز سے اس سے لاتعلق بھی ہو چکا ہو۔

مگر اولاد آخر اولاد ہوتی ہے، اس پر برا وقت آئے تو ماں باپ کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے اور یہاں تو محض نظریات کا تنازع تھا جو گالی گلوچ تک پھیل گیا اور اس کے نشانے پر ماروی سرمد کا نیک دل باپ بھی آ گیا۔ اعمال کا حساب خدا کرے گا مگر جو کچھ انوارالحق کے ساتھ ہوا خدا کسی دشمن کو بھی یہ برا وقت نہ دکھائے۔ چودھری صاحب یہ سب کچھ برداشت نہ کر سکے اور چپ چاپ قبر میں اتر گئے۔ خدا ان کی قبر کونور سے بھر دے۔ ساری عمر انہوں نے میڈیا کی خدمت کی، اسی میڈیا نے ان کی جان لے لی۔ وہ تب فوت ہوئے جب کرونا طوفان کی طرح بپھرا ہوا تھا۔ کس کو ان کی رحلت کی خبر ہوئی، کون ان کے جنازے کو کندھا دے سکا۔ کس نے انہیں قبر میں اتارا۔ کس کو ان کی قبر پر چند مٹھی مٹی ڈالنے کی توفیق نصیب ہوئی۔

مزید :

رائے -کالم -