10مئی سے تجارتی مراکز کھولنے کی تجویز منظور، پنجاب، سندھ،بلوچستان ٹرین سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند رکھنے کے حامی، سکول یکم جون کے بعد بھی نہ کھولنے کی سفارش حتمی فیصلہ آج وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ہو گا

10مئی سے تجارتی مراکز کھولنے کی تجویز منظور، پنجاب، سندھ،بلوچستان ٹرین سروس ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں)نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس میں ملک بھر میں تجارتی مراکز صبح 9 سے شام 5 بجے اور رات 8 سے 10 بجے تک کھولنے کی تجاویز منظور کر لی گئیں۔تجاویز کی منظوری کے بعد ملک بھر میں تجارتی مراکز 10مئی سے کھولے جانے کا امکان ہے۔اجلاس میں پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے ٹرین اور بس سروس کھولنے کی مخالفت کردی۔ ٹرین سروس کی بحالی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے اجلاس میں لاک ڈاون میں نرمی اور آئندہ کی حکمت عملی بالخصوص 9 مئی کے بعد لاک ڈاؤن ختم کرنے یا اس میں توسیع کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔این سی او سی کے اجلاس میں میں پیش کی گئی سفارشات کی روشنی میں لاک ڈاون میں نرمی، بین الصوبائی ٹرانسپورٹ کھولنے، تجارتی مراکز کو شام 5 کے بعد 8 بجے تک بند اور رات 8 سے 10 بجے تک کھولے جانے کی تجاویز منظور کی گئیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے ٹرین اور بس سروس بحال کرنے کے مخالفت کی، ٹرین سروس کی بحالی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں ہوگا۔این سی او سی کی طرف سے 10 ٹرینوں کا محدود ٹرین آپریشن شروع کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے جبکہ وزیر ریلوے شیخ رشید نے 15 ٹرینیں چلانے کی سفارش کررکھی ہے۔اس کے علاوہ تعمیراتی صنعت کی سہولیات میں اضافے کی تجویز اور اسلام آباد کیہسپتالوں میں مخصوص او پی ڈیز کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسلام آباد انتظامیہ کو کورونا وائرس کے حوالے سے فلاحی سرگرمیوں میں رورل سپورٹ پروگرام میں رضاکاروں کو شامل کرنے اور وزیر اعظم ٹاسک فورس کی مدد سے تمام یونین کونسلوں تک رسائی ممکن بنانے کی ہدایت کی گئی۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشات کے پیش نظر صوبوں میں یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے پر بھی ا تفاق نہیں ہو سکا ہے۔ پنجاب، بلوچستان اور سندھ نے یکم جون سے تعلیمی ادارے کھولنے کی مخالفت جبکہ خیبر پختونخوا نے حمایت کی۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کے زیر صدارت کانفرنس میں پنجاب، بلوچستان اور سندھ نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔ یکم جون کے بعد بھی تمام تعلیمی ادارے بند رکھے جائیں۔تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی تعلیم کا حرج ہو رہا ہے۔ یکم جون سے تعلیمی ادارے کھلنے چاہیں۔ صوبوں میں سکولز کھولنے پر اتفاق نہ ہوا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ معاملہ قومی رابطہ کمیٹی کے جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں زیر غور لایا جائے گا۔بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں صوبائی وزرا نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ تمام سکول اساتذہ کو نہ نکالنے اور تنخواہیں دینے کے پابند ہیں۔ کورونا کی وجہ سے بیشتر کاروبار بند ہو چکے، جو ادارے تنخواہیں نہیں دے سکتے، سٹیٹ بینک انہیں بلاسود قرض دے۔وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک سکیم کا اعلان کیا ہے کہ جو ادارے ملازمین کو تنخواہ نہیں دے پا رہے وہ سٹیٹ بینک سے قرض لے کر ملازمین کو تنخواہ ادا کر سکتے ہیں۔ سٹیٹ بینک کو چاہیے کہ بلا سود قرض دیا جائے۔سعید غنی کا کہنا تھا کہ تمام سکول اس بات کے پابند ہیں کہ ملازمین کو پوری تنخواہ ادا کریں گے اور نوکری سے نہیں نکالیں گے۔ فی الوقت سکولوں کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ فیسوں میں 20 فیصدرعایت دیں۔ والدین سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو سکول فیسوں میں 20 فیصد رعایت دے رہے ہیں وہ لیں، جو اسکول فیسوں میں نہیں دے رہے، عدالتی سٹے آرڈر تک ہم انہیں کچھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ جس کا بجلی کا بل 4 ہزار سے کم ہے، اسے آئندہ 10 ماہ کی اقساط میں تقسیم کر دیا جائے۔ مدارس اور مساجد کے گیس اور بجلی کے بل معاف کیے جائیں۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ وفاق سے درخواست ہے کہ رہائشی علاقوں میں جن کا بل 2 ہزار تک آتا ہے، انھیں معاف کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹریڈرز سے رابطے میں ہیں۔ سندھ حکومت این سی او سی کے فیصلوں پر عمل کرے گی۔ لاک ڈاؤن کے مسئلے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہ کی جائے۔صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کے معاملے پر سب کی متفقہ رائے ہونا چاہیے۔ دریں اثنا کورونا کے خدشات کے پیش نظر پنجاب حکومت نے فی الحال پبلک ٹرانسپورٹ نہ چلانے کی تجویز دی ہے جبکہ صوبہ پنجاب نے قومی رابطہ کمیٹی میں چھوٹے بڑے کاروبار ایس او پیز کے ساتھ محدود وقت کے لئے کھولنے کی تجویز دیے گیقومی رابطہ کمیٹی کے جمعرات کے روز وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں تمام صوبے نو مئی کے بعد لاک ڈاؤن کے حوالے سے اپنی سفارشات دیں گے جبکہ تعلیمی ادارں کے حوالے سے بھی سفارشات قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں زیر غور آئیں گی۔ذرائع کے مطابق پنجاب کورونا خدشات کے پیش نظر انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ کی بندش جاری رکھنے کا حامی ہے، صوبائی حکومت تجویز دے گی کہ ابھی انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ کو بند رکھا جائے

تجارتی مراکز

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)ملک بھرمیں کورونا سے مزید 30 افراد جاں بھق ہو گئے، مریضوں کی تعداد 23657 تک جاپہنچیاب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 203 افراد انتقال کرچکے ہیں ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 544 ہوگئی اب تک سب سے زیادہ اموات خیبرپختونخوا میں سامنے آئی ہیں جہاں کورونا سے 203 افراد انتقال کرچکے ہیں جب کہ پنجاب میں 156 اور سندھ میں 157 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔اس کے علاوہ بلوچستان میں 21، اسلام ااباد 4 اور گلگت بلتستان میں 3 افراد مہلک وائرس کے باعث جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بروز بدھ ملک بھر سے مزید 1420 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 30 ہلاکتیں سامنے ا?ئی ہیں جن میں سندھ سے 451 کیسز 9 ہلاکتیں، پنجاب 560 کیسز 12 ہلاکتیں، خیبر پختونخوا سے 213 کیسز 9 ہلاکتیں،بلوچستان سے 168 کیسز، اسلام ا?باد 21 کیسز، کشمیر سے 5 اور گلگت بلتستان سے 2 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔سندھ سے ا?ج کورونا کے مزید 451 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 9 ہلاکتیں بھی سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سندھ نے کی۔وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبے میں نئے کیسز کے بعد کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 8640 اور ہلاکتیں 157 ہوگئی ہیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹے میں مزید 54 مریض صحت یاب ہوئے جس کے بعد صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 1731 ہوگئی ہے۔پنجاب سے کورونا کے مزید 560 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور 12 ہلاکتیں بھی سامنے ا?ئی ہیں جس کی تصدیق ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نیکی۔ترجمان کے مطابق صوبے میں کورونا کیکیسز کی مجموعی تعداد 8693 اور ہلاکتیں 156 تک جا پہنچی ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ 768 زائرین، 1926 رائے ونڈ سے منسلک افراد، 86 قیدی اور 5917 عام شہری کورونا وائرس میں مبتلا ہیں۔پنجاب میں کورونا سے اب تک 3086 افراد صحت یاب بھی ہوچکے ہیں۔وفاقی دارالحکومت میں کورونا وائرس کے مزید 21 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔آزاد کشمیر سے بروز بدھ کورونا وائرس کے مزید 5 کیسز سامنے آئے ہیں جو سرکاری پورٹل پر رپورٹ کیے گئے ہیں۔پورٹل کے مطابق علاقے میں کورونا کے کیسز کی کل تعداد 76 ہوگئی ہے اور 54 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں جب کہ اب تک کوئی ہلاکت سامنے نہیں آئی ہے۔خیبر پختونخوا میں بدھ کو کورونا سے مزید 9 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 203 تک جاپہنچی ہے۔

پاکستان ہلاکتیں

واشنگٹن، لندن،روم،میڈرڈ(مانیترنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)عالمگیر وبا کورونا سے اب تک دنیا بھر میں 37 لاکھ 27 ہزار سے زائد افراد متاثر اور 2 لاکھ 58 ہزار 300 سے زائد ہلاک ہو چکے ہیں۔کورونا وائرس کے باعث سب سے زیادہ 72 ہزار سے زائد ہلاکتوں کے باوجود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کام کرنے والی ٹاسک فورس کو بند کرنے کا اعلان کر دیا۔امریکا میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 2350 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہو گئے جب کہ ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 12 لاکھ 37 ہزار 633 تک پہنچ چکی ہے۔ادھر برطانیہ یورپ میں سب سے زیادہ ہلاکتوں کے اعتبار سے پہلے نمبر پر آگیا ہے جہاں اموات کی تعداد 29 ہزار 427 ہو گئی ہے جب کہ اٹلی جسے یورپ کا ووہان قرار دیا جا رہا تھا وہاں اموات کی تعداد 29 ہزار 315 ہے۔سپین اور فرانس میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والوں کی تعداد ساڑھے 25، 25 ہزار سے اوپر ہے جب کہ بزایل میں 7 ہزار 958 اور جرمنی میں 6 ہزار 993 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔روس میں بھی کورونا کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور مسلسل چوتھے روز 10 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، اب تک 1451 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 55 ہزار 953 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ایران میں عالمگیر وبا سے انتقال کرنے والے افراد کی تعداد 6ہزار 340 جب کہ چین میں 4 ہزار 633اور کینیڈا میں 4 ہزار 43 اموات ریکارڈ ہو چکی ہیں۔تائیوان میں کورونا وائرس کے باعث عائد کی گئی پابندیوں میں نرمی کے بعد کھیلوں کی سرگرمیوں کا دوبارہ سے آغاز ہو گیا ہے، ملک میں کورونا کے کیسز کی تعداد میں کمی آنے کے بعد بیس بال اور پہاڑ سر کرنے جیسے کھیلوں کا آغاز ہو گیا ہے۔فلپائن کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ اب تک 658 افراد ہلاک بھی ہو چکے ہیں۔فلپائن کی حکومت نے کورونا سے متاثرہ مریضوں کو اینٹی فلو ڈرگز دینے کا فیصلہ کیا ہے اور ابتدائی طور پر 100 افراد کو اینٹی فلو ڈرگ دی جائے گی۔دنیا بھر میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 37 لاکھ 27 ہزار سے زائد ہو چکی ہے جس میں سے 2 لاکھ 58 ہزار 344 افراد ہلاک جب کہ 12 لاکھ 42 ہزار 400 سے زائد افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

عالمی ہلاکتیں

مزید :

صفحہ اول -