کرونا، پاکستانی معیشت اور حکومتی اقدامات

کرونا، پاکستانی معیشت اور حکومتی اقدامات

  

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلاو اور اثرات دیگر ممالک کی نسبت کم ہے‘پاکستان میں 10لاکھ افراد میں سے یومیہ دو افراد کی اموات ہورہیں ہیں جو دنیا اوربالخصوص خطے میں سب سے کم ہیں۔گزشتہ چند دنوں میں کورونا وائرس سے یومیہ اموات میں اضافہ ہوا ہے جو اچھی خبر نہیں ہے‘پچھلے 6دن سے روزانہ کی بنیاد پراوسطاً 24اموات ہورہیں ہیں۔اگر یہی شرح چلتی رہی تو ایک مہینے میں یہ اموات 720تک ہوسکتی ہیں جبکہ جبکہ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں ماہانہ 4ہزار 838 اموات ہوتی ہیں جو کورونا سے زیادہ ہیں مگر ہم نے کبھی ٹریفک کو بند نہیں کیا‘کورونا وائرس کے باعث بندشوں سے پاکستان کا معاشی نظام شدید متاثر ہوا ہے۔مارچ میں 119 ارب روپے محصولات کم اکٹھے ہوئے یہ کمی 38فیصد ہے، بندشیں جاری رہنے سے دو کروڑ سے 7کروڑ لوگ سطح غربت سے نیچے چلے جائیں گے،بے روزگار ہونے کی تعداد ایک کروڑ 80لاکھ تک پہنچ سکتی ہے‘ 10 لاکھ چھوٹے ادارے ہمیشہ کے لیے بند ہوسکتے ہیں۔پاکستان امریکا یا دیگر ملکوں کی تقلید نہیں کریگا‘ اپنے حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے‘معاشی بندشیں کورونا سے زیادہ مہلک ہیں‘9مئی کو لاک ڈاون میں نرمی کا فیصلہ اتفاق رائے سے کریں گے‘پابندیاں بتدریج ہٹائی جائیں گی‘ہلاکتوں کی سرخ لکیر عبور ہوچکی ہے۔حفاظتی تدابیر پر 100فیصد عمل کرنا ہے‘ اگر احتیاط نہ کی گئی تو کرونا مہلک ہو جائے گی۔

وزیراعظم نے اس ضمن میں احساسِ کفالت پروگرام کے تحت گزشتہ روز مالی معاونت کے دوسرے مرحلے کا باضابطہ آغاز کردیا ہے جس سے لاک ڈاون کے باعث ملازمت سے محروم ہونے والے افراد مستفید ہو سکیں گے۔ کورونا ریلیف فنڈ سے کم وسیلہ بیروزگار افراد کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم نے احساس پروگرام کی ویب سائٹ پر ایپلی کیشن ویب پورٹل کا افتتاح کرتے ہوئے لائیو ٹیلی کاسٹ میں بتایا کہ جو لوگ اس ویب پورٹل پر اپنی ملازمت چھوٹ جانے کا ثبوت فراہم کریں گے انہیں بارہ ہزار روپے دیے جائیں گے جبکہ بیروزگار افراد کو صرف یہ بتانا ہوگا کہ وہ کہاں کام کرتے تھے۔ مستحق گھرانوں کو ان کی خود داری اور عزت نفس کے تحفظ کے ساتھ مالی اعانت فراہم کرنے کا یہ یقیناً نہایت مستحسن طریقہ اور ٹیکنالوجی کا درست استعمال ہے، اس کے باوجود اس عمل میں کرپشن کی در اندازی کو ناممکن بنانے کے لیے ہر مرحلے پر کڑی نگرانی ناگزیر ہے اور اس حوالے سے وزیراعظم کی یہ یقین دہانی خوش آئند ہے کہ کورونا ریلیف فنڈ میں جمع کرائی جانے والی رقوم کو قطعی شفاف طریقے سے خرچ کیا جائے گا نیز اس کے آڈٹ کی تفصیلات قوم کے سامنے لائی جائیں گی۔ کیا ہی اچھا ہو کہ وزیراعظم کے ڈیم فنڈ کی تفصیلات بھی آڈٹ کرا کے منظرِ عام پر لے آئی جائیں جس کا معاملہ بظاہر حالات کے سبب پسِ منظر میں چلا گیا ہے۔ یہ امر بھی ملحوظ رکھا جانا چاہیے کہ بیروزگار گھرانوں کو بارہ ہزار روپے کی فراہمی سے ان کے مسائل ایک حد تک ہی حل ہوں گے کیونکہ مہنگائی نے روپے کی قوتِ خرید بہت گرا دی ہے جبکہ حکومت کے لیے اس رقم میں اضافہ اور اسے ماہانہ بنیادوں پر مسلسل جاری رکھنا ممکن نظر نہیں آتا۔ کورونا کی وبا کب ختم ہوگی، حتمی طور پر کسی کے لیے بھی اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ممکنہ احتیاطی تدابیر کے ساتھ معاشی سرگرمیاں بحال کی جائیں۔ صنعتیں، کاروبار اور کارخانے کھولے جائیں تاکہ لوگ اپنی روزی آپ کمانے کا سلسلہ پھر سے شروع کر سکیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک ہی نہیں دنیا کی انتہائی دولتمند اور ترقی یافتہ اقوام بھی اس امر کا ادراک کررہی ہیں کہ معیشت کا پہیہ جام رہنے کا مزید متحمل ہونا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ وزیراعظم نے بھی اپنے خطاب میں اس حقیقت کے پیشِ نظر صنعتیں جلد کھولنے کی ضرورت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے کہ کورونا نہ جانے چھ ماہ چلے یا ایک سال، نیویارک میں بھی جو سب سے زیادہ متاثر ہوا، صنعتیں کھولی جارہی ہیں، جتنی زیادہ صنعتیں کھلیں گی، اتنا روزگار ملے گا۔ وزیراعظم کایہ موقف حقائق سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، تعمیرات اور اس سے وابستہ صنعتوں کے کھولے جانے کے حکومتی فیصلے سے معیشت پر ان شاء اللہ مثبت اثرات مرتب ہوں گے جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور تمام اشیاء کی قیمتِ فروخت میں کمی یقینی بنا کر عوام کی مشکلات کم اور معاشی کا عمل تیز کیا جا سکتا ہے، وزیراعظم نے بھی اس کی ضرورت کا اظہار کیا ہے لیکن اسے عملی شکل بھی ان کی حکومت ہی کو دینا ہوگی۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے تعمیراتی شعبے کے لئے تاریخی ایمنسٹی اسکیم‘ کنسٹرکشن انڈسٹری ڈویلپمنٹ بورڈکے قیام‘ تعمیراتی شعبے اور منسلک سیکٹرز کو 14 اپریل سے کھولنے کا اعلان کیا ہوا ہے اور تعمیراتی شعبے کو صنعت کا درجہ دے دیا گیا ہے۔رواں سال تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والوں سے ان کا ذرائع آمدن نہیں پوچھا جائے گا‘ فکسڈ ٹیکس نافذ ہو گا، سیمنٹ اور اسٹیل انڈسٹری کے

سوا تمام تعمیراتی شعبوں پر پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔نیاپاکستان ہاوسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس ریبیٹ دیا جائے گا اور وہ صرف اپنے منصوبوں پر ٹیکس کی مجموعی رقم کا 10 فیصد ادا کریں گے‘نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم کے لئے 30 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں‘ گھر فروخت کرنے والوں سے کیپیٹل گین ٹیکس نہیں لیا جائے گا۔پنجاب اور خیبر پختونخوا سارے ٹیکس کو 2 فیصد پر لے آئے ہیں‘باقی صوبے بھی ٹیکس مراعات دیں گے۔نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں تعمیرات کرنے والوں کو 90 فیصد ٹیکس کی رعایت دیں گے‘ اسٹیل اور سیمنٹ کے علاوہ تعمیراتی مواد اور خدمات پر سروسز ٹیکس معاف کیا جارہا ہے۔

حکومت احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ بیس لاکھ 20خاندانوں کو 12ہزار روپے پہنچارہے ہیں‘ چند دنوں میں لوگوں کو چیک ملنا شروع ہوجائیں گے‘ہمیں کوئی گارنٹی نہیں ہے 2 یا 4 ہفتے بعد پاکستان میں کیا صورت حال ہوگی۔ کوئی نہیں کہہ سکتا ہے کہ وائرس کتنی تیزی سے پھیل سکتا ہے اور 14 اپریل کو جائزہ لیں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ سمجھنا کہ پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں اس لیے اموات کم ہوئی ہیں تو یہ سوچ ہی خطرناک ہے‘ہمیں بالکل خطرہ ہے اور عوام سے کہتا ہوں کہ پوری توجہ دیں اور ہر قسم کی احتیاط کریں۔وزیراعظم نے کہا کہ شہروں کے اندر برے حالات ہیں اور یہ صرف ہمارے نہیں پوری دنیا کے ہیں۔اگر ہم مکمل لاک ڈاون کرتے ہیں تو کیا ہم غریبوں کی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں گے؟ قوم فیصلہ کرے کہ اس وائرس کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔سوشل میڈیا پر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ اس وائرس کے خلاف پاکستانیوں کی قوت مدافعت زیادہ ہے یہ سوچ خطرناک ہے، ہمیں ہر قسم کی احتیاط کرنا ہوگا۔ یہ بہت خطرناک وائرس ہے‘کوئی نہیں کہہ سکتا یہ کتنی تیزی سے پھیلے گا۔

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان کا کہنا ہے کہ صوبے میں 5 لاکھ 82 ہزار 80 مستحقین کی نشاندہی کرلی گئی ہے مستحقین کو 12، 12 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے اسکے علاوہ 22 لاکھ سے زائد خاندانوں کو احساس پروگرام کے تحت ریلیف دیا جائے گا۔ ان میں وہ افغانی مہاجرین بھی شامل ہیں جو پاکستان میں مقیم اور جن کے شناختی کارڈ نہیں ہیں۔

دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے باعث اقتصادی کارکردگی میں شدید تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ترقی پذیر ممالک یقینی طور پر اس کساد بازاری سے سخت متاثر ہوں گے جسے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 1930 کی دہائی کی گریٹ ڈپریشن کہلانے والی کساد بازاری سے اب تک کا سب سے بڑا اقتصادی بحران قرار دیا ہے۔دنیا کا تقریباً ہر ملک اس سے متاثر ہوا ہے۔ آئئ ایم ایف کو خدشہ ہے کہ امیر و غریب 170 ممالک رواں سال فی کس اقتصادی سرگرمی میں تنزلی کا سامنا کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اوسط معیارِ زندگی میں گراوٹ آئے گی۔ترقی پذیر ممالک کو یہ وبا مختلف طریقوں سے متاثر کر رہی ہے۔

کئی ممالک صنعتوں کے زیرِ استعمال مال برآمد کرتی ہیں۔ دنیا بھر میں کئی فیکٹریوں کی بندش کی وجہ سے اس مال کی طلب میں کمی واقع ہوئی ہے چنانچہ ان کی قیمتیں گری ہیں، اور کچھ معاملوں میں تو یہ تنزلی انتہائی زیادہ ہے۔تیل اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ اس کی طلب میں زبردست کمی ہوئی ہے کیونکہ کورونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کے لیے ایندھن کی طلب کم ہوئی ہے۔ اس ایندھن کا 90 فیصد سے زائد خام تیل سے بنایا جاتا ہے۔یہ صورتحال تیل کے دو سب سے بڑے برآمد کنندگان روس اور سعودی عرب کے درمیان جاری قیمتوں کی جنگ کی وجہ سے مزید خراب ہوئی۔ ایسی غیر معمولی صورتحال بھی پیدا ہوئی ہے جس میں تیل کی قیمتیں صفر سے گِر چکی ہیں۔یہ تیل کی منڈی کی عمومی خاصیت نہیں ہے لیکن اس سے طلب اور رسد کے درمیان موجود زبردست عدم توازن کی نشاندہی ضرور ہوتی ہے۔ دوسری چند چیزوں کی قیمتوں میں بھی زبردست کمی ہوئی ہے بھلے ہی یہ کمی تیل جتنی نہیں تھی۔ مثال کے طور پر تانبہ جنوری کے وسط سے اب تک 18 فیصد سستا ہوچکا ہے جبکہ زنک کی قیمت اب 20 فیصد تک گر چکی ہے۔قیمتوں میں اس گراوٹ سے کاروبار اور ان حکومتوں کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے جو یہ اشیا برآمد کرتے ہیں۔رقی پذیر ممالک کو غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے پیسہ نکالے جانے کے مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اندر خطرہ مول لینے کا جذبہ ماند پڑ گیا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ اس سرمایہ کاری کو فروخت کر رہے ہیں جو ان کے نزدیک نسبتاً خطرناک ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی منڈیوں میں بونڈز اور شیئرز شامل ہیں۔ اس کے بجائے وہ امریکہ، یورپ اور جاپان جیسے نسبتاً محفوظ تصور کیے جانے والے ممالک میں اپنا پیسہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کا نتیجہ 'دولت کے متضاد سمت میں بے مثال بہاؤ کی صورت میں نکلا ہے۔

اس سے ایک اور مسئلہ بھی جنم لیتا ہے اور وہ ہے غیر ملکی قرضے۔ کسی ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی سے اس کے لیے دیگر کرنسی میں لیے گئے قرضوں کی واپسی یا ان پر سود کی ادائیگی مہنگی ہوجاتی ہے۔ایک ایسے وقت میں جب ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں طبی بحران اور اس کے اقتصادی اثرات سے نمٹنے کے لیے دباؤ کی شکار ہیں تو قرضوں کی ادائیگی پہلے سے کم وسائل پر ایک سنگین بوجھ بن سکتی ہے۔چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کے مسائل حل کرنے کے لیے ایک تیز تر مہم جاری ہے۔آئی ایم ایف اور دنیا کی صفِ اول کی معیشتوں نے اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے چند اقدامات اٹھائے ہیں جن میں اگلے چند ماہ میں قرضوں کے سود اور ان کی واپس ادائیگی میں کچھ آسانی کی جائے گی۔آئی ایم ایف نے 25 ممالک (اکثریتی طور پر افریقی ممالک) پر واجب الادا رقوم کو اگلے چھ ماہ کے لیے رکن ممالک کی جانب سے عطیہ کیے گئے ایک ٹرسٹ فنڈ کے ذریعے پورا کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس میں برطانیہ کی جانب سے 18 کروڑ 50 لاکھ ڈالر (15 کروڑ پاؤنڈ) کی رقم بھی شامل ہے۔ چنانچہ واقعتاً یہ ادائیگیاں اب منسوخ ہوچکی ہیں۔جی 20 ممالک نے 77 ممالک سے متوقع قرضوں کی ادائیگیوں کو منسوخ کرنے کے بجائے مؤخر کرنے پر اتفاق کیا ہے جنھیں مئی میں موصول ہونا تھا۔ اب یہ سال کے آخر تک ادا کیے جا سکیں گے۔اس مطلب یہ ہے کہ ادائیگیاں کرنے کے بجائے رقم کو آنے والے مہینوں میں بحران سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مگر انھیں آنے والے مہینوں میں پھر بھی رقم واپس ضرور کرنی ہوگی۔چنانچہ ترقی پذیر ممالک کے قرضوں میں نرمی کی مہم چلانے والے افراد کا خیال ہے کہ جی 20 اور دیگران کو مزید کام کرنا چاہیے۔ترقی پذیر ممالک کو ممکنہ طور پر اس پیسے کی کمی کا بھی سامنا ہوگا جو تارکینِ وطن اپنے گھروں کو بھیجتے ہیں۔ ترسیلاتِ زر اکثر امیر ممالک سے غریب ممالک کو بھیجی جاتی ہیں اور یہ کسی خاندان کے معیارِ زندگی کے لیے اہم سہارا ہوسکتی ہیں۔عالمی بینک کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ وبا کی وجہ سے ان میں 20 فیصد تک کمی آ سکتی ہے۔ بینک کے مطابق خاص طور پر تارکینِ وطن اپنی ملازمتیں اور آمدنی گنوانے کے خطرے کی زد میں ہیں۔بینک کے مطابق ترسیلاتِ زر کی وجہ سے لوگ اچھا کھا سکتے ہیں، تعلیم پر زیادہ خرچ کر سکتے ہیں، اور اس سے بچوں سے مزدوری میں کمی آ سکتی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -