کاروباری و صنعتی اداروں کو اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت!

کاروباری و صنعتی اداروں کو اقتصادی سرگرمیوں کی اجازت!

  

قاضی مصطفیٰ کامل

اس وقت سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی موجودہ لاینحل صورت حال میں کون سے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہم بتدریج کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے قدم بھی روک سکیں، بھوک اور فاقوں کے جہنم میں گرنے سے بھی قوم کو بچا سکیں۔ ہم چین اور جرمنی وغیرہ کے اقدامات کو سامنے رکھ کر اپنے حالات کے مطابق آگے بڑھ سکتے ہیں۔ چین نے صرف ایک متاثرہ صوبے ووہان میں لاک ڈاؤن کر کے وبا کو دوسرے صوبوں کی طرف پھیلنے سے روک دیا اور پھر ووہان میں قابو پانے کے بعد کاروبار زندگی کی مشروط اجازت دے دی، چین کی حکومت نے گھر سے باہر نکلنے والے ہر شخص کے لئے ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا ہے۔ جرمنی اور دیگر بہت زیادہ متاثرہ ممالک بھی لاک ڈاؤن بتدریج ختم کر رہے ہیں اور چھوٹی سطح سے لے کر بڑے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں کو اقتصادی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ لکین ان ممالک نے گھر سے باہر نکلنے والے ہر شخص کے لئے ماسک پہننا لازم رقار دے دیا ہے۔ پاکستان میں بھی ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کے ساتھ بتدریج آگے بڑھنا چاہئے۔(چھوٹے کاروباری، دکانداروں اور دیہاڑی دار طبقے سمیت فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے کے لئے گھروں سے نکلنے والے ہر شخص کے لئے ماسک پہننا قانوناً لازم قرار دے دیا جائے)اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے یعنی ماسک کے بغیر گھر سے باہر نکلنے والے کو کم از کم ایک ہزار روپے جرمانہ اور ایک ماہ قید کی سزا مقرر کر دی جائے۔ کورونا وائرس نے طویل عرصہ تک اپنا حملہ جاری رکھنا ہے اس لئے ہمیں اس کے ساتھ جینے کا قرینہ اپنانا ہوگا۔ محتاط سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے۔ اس لئے اٹھارہ برس سے کم اور 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو گھروں میں لاک ڈاؤن کرنے کے علاوہ 18 سال سے 50 سال عمر کے تمام لوگوں کو پہلے مرحلے میں تلاش معاش کے لئے گھروں سے باہر نکلنے کی پابندیوں کے ساتھ اجازت دے دینی چاہئے ان پابندیوں میں ماسک پہننا سب سے لازمی پابندی قرار دی جائے۔ اسی سلسلے میں یہ بھی ضروری ہے کہ وزیر اعظم سمیت تمام وراء اور حکومتی اہلکار ہر سطح پر خود بھی ماسک پہنے ہوئے نظر آئیں تاکہ عوام جان سکیں کہ اب ان کے لئے بھی ماسک پہننا ضروری ہے۔ لاک ڈاؤن کے مسئلہ پر وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان بیان بازی اور الفاظ کی گولا باری کی جو جنگ ہے اس کا عوام پر بہت منفی اثر پڑ رہا ہے۔ وزیر اعظم صاحب ایک بیان میں فرماتے ہیں کہ صوبہ سندھ کی صوبائی حکومت نے بلا سوچے سمجھے لاک ڈاؤن نافذ کر کے غلط اقدام کیا۔ پھر دو روز بعد ان کی طرف سے بیان آ جاتا ہے کہ حکومت کے بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں کورونا وائرس اس طرح نہیں پھیل سکا جس طرح دوسرے یورپی اور امریکی ممالک میں پھیلا ہے اور سندھ کے بعد پنجاب اور کے پی کے میں بھی لاک ڈاؤن نافذ ہو جاتا ہے۔ یوں پورے ملک کو کنفیوژن میں مبتلا کر دیا گیا۔ عوام کے لئے حکومت کی طرف سے کوئی واضع بیانیہ سامنے نہیں آیا۔ صرف ہاتھ دھونے کی تبلیغ کی گئی۔ حالانکہ وائرس سانس لینے اور باہر نکالنے سے پھیلتا ہے اور ایک سے دوسرے شخص پر براہ راست حملہ آور ہوتا ہے۔ ہاتھوں تک نوبت تو دورسے مرحلے پر آتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پورے ملک کے لئے حفاظتی اقدامات کا ایک بیانیہ جاری کیا جائے رمضان المبارک کا پہلا عشرہ مکمل ہو چکا ہے۔ بتدریج عید الفطر قریب آ رہی ہے ایک بہت بڑی اکثریت رمضان المبارک کے آخری ہفتوں میں عید کی خریداری کرتی ہے اور ان چند ایام میں بہت سے چھوٹے کاروباری لوگوں کا رزق وابستہ ہوتا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ امدادی پیکج پر بھی فوری عملدرآمد کر کے غریب اور بے روز گار لوگوں تک نقد رقم پہنچانے کے ساتھ ساتھ پورے ملک میں عید الفطر سے قبل چھوٹے اور درمیانے درجے کے دکاندارں کو حفاظتی پابندیوں کے ساتھ دکانیں کھولنے کی اجازت دی جائے۔ ماسک پہننے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات کی آگہی کے لئے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے تشہیری مہم چلائی جائے۔ کاروباریا ور صنعتی سرگرمیاں مزید بند رکھنے سے کمزور اقتصادی پوزیشن والے پاکستان کی معیشت پر اتنے برے اثرات مرتب ہوں گے کہ سنبھلنے کے لئے بہت سال لگ جائیں گے۔ جبکہ کاروبار بند رہنے سے چھوٹے دکانداروں اور دیہاڑی دار طبقے، رکشہ اور چھوٹے ورکشاپ چلانے والے لاکھوں لوگ فاقہ کشی تک پہنچ چکے ہیں ان کی داد رسی کی فوری ضرورت ہے۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے معزز شہریوں کے علاج اور سہولتوں کو بہتر بنانے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ قرنطینیہ سنٹرز کی بری حالت کی وجہ سے لوگ وہاں سے بھاگنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹروں کی تنظیمیں مکمل حفاظتی سامان نہ ملنے کا بدستور احتجاج کر رہی ہیں صورتحال بہتر کرنے کے لےء کوئی تو ذمہ دار ہو۔

مزید :

ایڈیشن 1 -