ذخیرہ اندوز،گرانفروش،سمگلرز……رمضان المبارک میں قومی مجرم

ذخیرہ اندوز،گرانفروش،سمگلرز……رمضان المبارک میں قومی مجرم

  

رمضان المبارک کا مہینہ بالخصوص مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے لئے متعلقہ احکام پر عمل کرنے کے لحاظ سے بڑی اہمیت اور فضیلت رکھتا ہے۔ اللہ اس ماہ میں انسان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں کثرت سے نازل فرماتا ہے۔ اس دوران اہل اسلام صبح سے شام تک روزہ رکھنے کی پابندی کر کے رضائے الٰہی کی خوشنودی حاصل کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ روزہ کے اوقات کے دوران حکم الٰہی کے مطابق روزہ دار شخص کھانے اور پینے سے مکمل پرہیز کرتا ہے۔ اس طرح وہ بھوک اور پیاس،محسوس کرنے کے باوجود صبرو استقامت کا مظاہرہ کر کے خدائے برتر کے حکم کا احترام کرتے ہوئے خوردونوش کے عمل سے گریز کو ترجیح دیتا ہے۔ اپنی ضروریات اور خواہشات کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کی عمل داری کے لئے ترک کر دینا ہی اس خالق کائنات کی بندگی اور فرمانبرداری کا صحیح انداز ہے یاد رہے کہ رمضان المبارک کے دوران محض انسان کی بھوک اور پیاس،چند گھنٹوں کے لئے برداشت کرنے سے روزہ رکھنے کا دینی فریضہ،مطلوبہ احکامات کے مطابق ادا نہیں ہو جاتا، بلکہ اس اہم مقصد کیلئے روزہ کے اوقات میں انسان کو اپنی غیر اسلامی عادات و حرکات کو بھی ترک کرنا ضروری ہے۔ مثلاجھوٹ بولنا،بددیانتی کرنا کسی مالی ذمہ داری کی انجام دہی میں کوتاہی یا خیانت کاری،یا ایسے امور بروئے کارلانا جن میں احکام الٰہی کی بجا آوری کو نظر انداز کیا جائے۔ نیز انسان کی ایسی سرگرمیاں، جن میں عام اور دیگر لوگوں کے حقوق و مفادات کو نقصان اور دھوکہ دہی کے ذریعے خود ہڑپ اور خورد برد کرنے کی کاروائیاں کی جائیں۔ روزہ رکھنے کی عمل داری،اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی،اس کی غیر مشروط تابعداری میں مضمرہے۔ اس کا رکردگی سے انسان اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ بزرگ و برتر کے نازل کردہ احکامات کی پیروی کا پابنداور کاربند بناتا اور ظاہر کرتا ہے۔ اس عمل میں خلوص نیت اور انسان کی سراپا فرمانبرداری لازم ہے۔

رمضان المبارک کے دوران وطن ِ عزیز میں عوام کو خوردنوش کی عام اشیائے ضرورت کی ارزاں نرخوں اور خالص حالت میں فراہمی ہر حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ اگر بعض ضروریات زندگی عام لوگوں کو بر وقت بھی دستیاب نہ ہو سکیں۔تو پھر ایسی عدم توجہی اور لاپرواہی بھی متعلقہ لوگوں کے لئے کافی تکلیف دہ اور اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ رمضان المبارک کے آغاز پر ہی سامان خوردونوش کی قیمتوں میں اچانک کافی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بیشتر بنیادی ضروریات،مثلا آٹا،چاول، چینی،دالیں سبزیاں، پھل،کھجور،چائے،گوشت،دودھ،دہی،لہسن اور ادرک وغیرہ کے نرخ،محض چند روز قبل کی نسبت ڈیڑھ دوگنا یا اس سے بھی زیادہ بڑھا دئیے گئے ہیں۔ یہ روش سراسر گراں فروشی اور ناجائز منافع خوری کے زمرے میں آتی ہے، جس سے عوام کو بہت پریشانی سے دوچار ہونا پڑ تا ہے، کیونکہ ہمارے ترقی پذیر ملک کے 80فیصدسے زائد لوگ غربت اور مفلسی کے مالی معیار کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لیکن اس بارے میں کم و بیش جو اعداد و شمار یہاں ہر حکومت،ذرائع ابلاغ میں ظاہر کرتی ہے۔ وہ درست نہیں لگتے، کیونکہ اکثر عام لوگوں کی مالی حالت ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں خاصی کم اور قلیل شرح کی ہے۔ اس لئے وطن عزیز میں ہر حکومت کو اپنا نظام چلانے کے لئے اکثر اوقات بیرونی ممالک اور مالیاتی اداروں سے قرضے اور امداد لینا پڑتی ہے۔ بلکہ آج کل تو کرونا وائرس پھیلاؤ کے ملک گیر اثرات کی بنا پر مذکورہ بالا بیرونی قرضوں کی واپسی کی بروقت مشکلات کے سبب سالانہ اربوں روپے کے اصل زر اور سود کی ادائیگی کو موخر کرنے کے لئے چند روز قبل وزیراعظم عمران خان سے متعلقہ اداروں کو استدعا کرنا پڑی۔

حقائق بالا مختصر طور پر عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وطن ِ عزیز کے قومی مالی وسائل،محدود ہونے کی وجہ سے عام لوگوں کو اپنی زندگی گزارنے کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن رمضان المبارک میں فوری طور پر بالخصوص اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں یکسر جو کثیر انداز کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ و ہ عام لوگوں کی قوت خرید پر بہت منفی اثر ڈالتا ہے۔ اس طرح بد قسمتی سے وہ لوگ اپنے جائز ذرائع آمدنی سے کھانے پینے کا سامان حاصل کرنے سے محروم ہونے کی سطح تک پہنچ جاتے ہیں، جبکہ حکومت تو زیادہ تر مارکیٹ اوربازاروں میں اپنی بہترین کاوشوں اور وسائل کے مطابق وہ ضروری سہولتیں،عوام کو فراہم کرنے کے اقدامات بروئے کار لانے کی دعویدار ہوتی ہیں۔ یوں عوام کو اشیائے ضرورت کو روکنے میں وہ لوگ اور حلقے بجا طور پرذمہ دار اور قصور وار،ٹھہرائے جاسکتے ہیں، جو زرعی اجناس،مثلا گندم،چینی،آٹا،چاول اور دالیں وغیرہ زیادہ تر غیر قانونی طورپر ذخیرہ کر کے مارکیٹ اور بازاروں میں ان کی مصنوعی قلت پیدا کر دیتے ہیں۔ مثلا آلو تین چار روز قبل 40روپے کلو سے اب 70روپے کلو فروخت ہونے لگا ہے۔ بعض اوقات مذکورہ بالا اجناس کو بلا اجازت دوسرے صوبوں یا ہمسایہ ممالک کو متعلقہ حکومت کی اجازت یا منظوری کے بغیر ہی ترسیل کرنے کی کارروائیاں ایسے کاروباری افراد کرتے ہیں،جو غیر قانونی،راستوں،حربوں اور طریقوں سے رمضان المبارک میں زیادہ استعمال ہونے والی خوراک کی ضروریات کو عوام سے خفیہ رکھ کر ان کی نقل و حمل سے لوگوں کو عام نرخوں پر پہنچ یا رسائی دور کر کے وقتی طور پر ناممکن بنا دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بلا شبہ عوام و سماج دشمن اور قومی مجرم ہیں۔ ان کو جلد قانون اور انصاف کے اداروں کی گرفت میں لا کر سخت سزائیں دلانا موجودہ وقت کا تضاضا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -