”دیکھنا میرے منہ پر کوئی پھٹکار تو نہیں پڑی؟“ جسٹس قیوم کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا کر باہر نکلنے والے رمیز راجہ نے عاقب جاوید سے یہ بات کیوں کہی؟ تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

”دیکھنا میرے منہ پر کوئی پھٹکار تو نہیں پڑی؟“ جسٹس قیوم کمیشن کے سامنے بیان ...
”دیکھنا میرے منہ پر کوئی پھٹکار تو نہیں پڑی؟“ جسٹس قیوم کمیشن کے سامنے بیان ریکارڈ کرا کر باہر نکلنے والے رمیز راجہ نے عاقب جاوید سے یہ بات کیوں کہی؟ تہلکہ خیز انکشاف کر دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کو اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت تین سال پابندی کی سزا ملنے کے بعد پاکستان میں ماضی کے سکینڈلز سے متعلق بھی گفتگو کا آغاز ہو گیا ہے اور کرکٹرز ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنے کے علاوہ نت نئے انکشافات بھی کر رہے ہیں۔

عامر سہیل نے وسیم اکرم پر الزامات عائد کئے جبکہ سابق فاسٹ باﺅلر عطاءالرحمان نے بھی اپنے کیرئیر کے خاتمے کا ذمہ دار سوئنگ کے سلطان کو ہی ٹھہرایا جس کے بعد عاقب جاوید نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ فکسنگ کے خلاف بولنے پر ہی ان کا کیرئیر جلد ختم ہو گیا اور اب انہوں نے رمیز راجہ کے منہ سے نکلے ایک ایسے جملے کے بارے میں بھی بتایا ہے جسے وہ آج تک نہیں بھول سکے۔

جسٹس قیوم کمیشن میں پیشی کا احوال بیان کرتے ہوئے عاقب جاوید نے کہا کہ مجھ سے پہلے رمیز راجہ کی گواہی تھی اور جب وہ باہر آئے تو میرا ان کیساتھ سامنا ہوا جس پر سابق کپتان نے مجھے کہا کہ ”دیکھنا میرے منہ پر کوئی پھٹکار تو نہیں پڑی۔“ میں سمجھا شائد زیادہ دیر لگ گئی ہے اس لئے کہہ رہے ہیں، اس لئے مذاق میں کوئی بات کہہ کر میں کمرہ عدالت میں چلا گیا تو وہاں جب میرا ہاتھ قرآن مجید پر رکھوا کر پڑھایا گیا کہ اگر میں کوئی حقائق چھپاﺅں یا جھوٹ بولوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار پڑے، تب مجھے سمجھ آیا کہ رمیزراجہ مجھ سے وہ سوال کیوں پوچھ رہے تھے۔

عاقب جاوید نے کہا کہ اپنی گواہی کے دوران میں مشکل سے دو منٹ بھی نہیں بولا تھا کہ جج صاحب نے کہا کہ اس بات کو یہیں روکتے ہیں، عاقب کا بیان اب بند کمرے میں ہو گا، وہاں جسٹس قیوم اور کرکٹرز کے وکیل صفائی موجود تھے، صرف میں تھا جس کا بیان اس انداز میں لیا گیا، میں نے سارا کچھ وہاں بتایا تو انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ عاقب حسد کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ کیس میں نامزد کرکٹرز باہر ہو جائیں تاکہ وہ خود کھیل سکے۔

سابق فاسٹ باﺅلر نے کہا کہ میں نے پجارو گاڑی اور پیسے وغیرہ لینے سمیت سب کچھ بتایا تھا، اب 90 کی دہائی میں ہونے والی کرپشن کے بارے میں جو شور سامنے آ رہا ہے اس کو ختم ہونا چاہیے، بات دراصل پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں نوکری کی ہے، اس لئے جو لوگ بورڈ میں موجود ہیں ان میں سے کوئی نہیں بول رہا۔

مزید :

کھیل -