نیویارک میں کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ہسپتال آنے والے کتنے فیصد لوگ کئی دن سے گھر پر ہی تھے؟ جواب تمام اندازے غلط ثابت کردے

نیویارک میں کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ہسپتال آنے والے کتنے فیصد لوگ ...
نیویارک میں کورونا وائرس کے مریضوں پر تحقیق، ہسپتال آنے والے کتنے فیصد لوگ کئی دن سے گھر پر ہی تھے؟ جواب تمام اندازے غلط ثابت کردے

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ میں کورونا وائرس کے مریضوں کے متعلق نئے اعدادوشمار میں ایسا انکشاف سامنے آ گیا ہے کہ لاک ڈاﺅن کی اثرپذیری پر ہی سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق امریکہ میں لاک ڈاﺅن ہے اور ناگزیر سروسز کے ورکرز کے علاوہ باقی تمام لوگوں کو گھر میں رہنے کا حکم ہے تاہم ریاست نیویارک کے اعدادوشمار میں انکشاف ہوا ہے کہ ہسپتالوں تک پہنچنے والے کورونا وائرس کے مریضوں میں 66فیصد ایسے لوگ ہیں جو ناگزیر سروسز کے ورکرز نہیں تھے اور لاک ڈاﺅن کی وجہ سے گھروں میں رہ رہے تھے، اس کے باوجود انہیں وائرس لاحق ہو گیا۔

اس انکشاف کے بعدلاک ڈاﺅن کی اثرپذیر ی پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ اگر ہسپتالوں میں ایسے مریضوں کی اکثریت پہنچ رہی ہے جو گھروں میں بیٹھے ہیں تو پھر لاک ڈاﺅن کورونا وائرس کا پھیلاﺅ روکنے کے لیے کتنا موثر ثابت ہو رہا ہے۔ریاست میں ایک سروے کیا گیا ہے جس میں 90فیصد لوگوں نے کہا کہ اگر انہیں کبھی گھر سے نکلنا بھی پڑے تو وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتے۔ اس کے باوجود یہ لوگ وائرس کا زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ریاست نیویارک کے اعدادوشمار میں مزید بتایا گیا ہے کہ حالت تشویشناک ہونے پر جتنے نئے مریض ہسپتالوں میں لائے گئے ہیں ان میں 73فیصد 51سال سے زائد عمر کے ہیں اور 96فیصد پہلے سے کسی نہ کسی بیماری کا شکار تھے۔ریاست نیویارک میں اب تک کورونا وائرس کے 3لاکھ 21ہزار مریض سامنے آ چکے ہیں اور 19ہزار 877اموات ہو چکی ہے۔ امریکہ بھر میں مریضوں کی تعداد ایک ملین سے زائد ہو چکی ہے اور 72ہزار جانیں جا چکی ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -کورونا وائرس -