‎شاہ سے شہرت تک

‎شاہ سے شہرت تک
‎شاہ سے شہرت تک

  

‎یہ امیروں کا زمانہ ہے انہیں میں نے جانا ہے

‎دشمن ہیں غریبوں کے محبت ایک بہانہ ہے

‎دولت کے پجاری ہیں وفا سے یہ اناڑی ہیں

‎خود غرضوں کے خامی ہیں ظلمت کے اندھیرے ہیں

‎خدا سے یہ نہیں ڈرتے ،نہ میرے ہیں نہ تیرے ہیں

(والد محترم ؛چوہدری ظفر اقبال مرحوم)

‎ یہ شادی کی پارٹی کا احوال ہے جب مین ہال کے داخلی دروازے کے اندر معصوم سی شکل بنائے ، سنجیدہ مزاج ، اور سادگی کا لبادہ اوڑھے شخص کھڑا تھا اور بڑی خاموشی سے ارد گرد کھڑے لوگوں کو آپس میں باتیں کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔ وہ تن تنہا کھڑا شخص بڑے غور سے مسکراہٹوں سے لبریز چہرے اور زور زور سے ہنسی مزاق کرنے والے لوگوں کی سچائی اور مِلنساری کو جانچنے کی کوشش کر رہا تھا مگر کوئی بھی اس کی طرف دھیان نہیں دے رہا تھا۔ لوگوں کی اس بھیڑ میں کتنے ہی چہرے ہیں اور وہ ان میں اکیلا اور تنہا۔۔ بہت سے لوگوں کی نظریں اس کی جانب اٹھتیں اور پھر پلٹ جاتیں۔ کچھ بھی تو خاص نہیں تھااس میں ۔۔ ایش گرے سادہ سے شلوار کرتے میں ملبوس , دیکھنے میں ایک بے حد عام سا شخص۔۔ لیکن ہمارے یہاں المیہ یہ ہے کہ لوگوں کو کیٹیگری میں رکھا جاتا ہے۔ نواب صاحب , چوہدری صاحب, شیخ صاحب, اور کچھ لوگ ان لاحقوں سے محروم صرف شرفو, ماجھو,گاما ٹائپ ہوتے ہیں, وہ خود سمجھ نہیں پایا تھا کہ اس کے حصے کا خانہ کس جگہ پر انتظار کرتا ہے

‎۔ پھر اس کو جب یہ یقین ہو گیا کہ دنیا میں قدر و قیمت کا میعار دولت طے کرتی ہے تو اپنے اس حلیے پر شرمندگی سی ہونے لگی۔قبل اس کے وہ چپکے سے محفل سے واک آؤٹ کرتا کہ اچانک سےاس  کا ایک دوست نمودار ہوا اور بڑی چاہت اور چہرے پر مسکراہٹ سجائے مصافحہ کیا اور پھر تھوڑی دیر حال چال دریافت کرنے کے بعد پارٹی میں کھڑے دیگر افراد سے  اس کا تعارف کروانے لگا ۔

ا‎اس کا تعارف سنتے ہی لوگوں کا وہ گروہ جس نے عام سا سمجھ کر اگنور کیا تھا اب شہد کی مکھیوں کی مانند اس کے گرد بھنبھنانے لگا۔ وہ ایک عام شخص سے امیر ترین شخص  کے روپ میں سامنے آیاتھا۔ اب لوگوں کو اس کا عام انداز اور عام لباس بھی للچا رہا تھا۔ ‎اس سے بیرونِ ملک مصروفیات اور پاکستان میں نئے کاروبار کے بارے سوالات شروع ہو گۓ ۔اس کے بعد  نئے لوگوں کی آمد اور گفتگو میں محو ہوکر اس شخص کی اجنبیت تو ختم ہو گئے مگر وہ شخص ابھی بھی خود کو اجنبی ہی محسوس کر رہا تھا کیونکہ اس سے گفتگو کرنے والے سب لوگ اس کی شخصیت سے زیادہ اس کی خاندانی شہرت اور اس کے کاروبار سے متعلق ہی گفت وشنید میں مصروف رہے دوران گفتگو اکٽر افراد اس سے موبائل نمبر جاننے اور دوبارہ ملاقات کے لئے اوقات طے کرنے میں مگن رہے ۔ اس کے بعد پارٹی کی دیگر رسم و طعام کے دوران بھی نت نئے اور کچھ افراد جو ہمجولی ساتھیوں کی طرع ساتھ ساتھ موجود رہے اس سے معلوماتی گفتگو جاری رہی اور غیر معمولی عزت افزائی ملتی رہی۔ جب پارٹی کا احتتام ہوا تو خود کو اجنبی محسوس کرنے والے شخص کو اپنی گاڑی میں سوار ہونے سے پہلے تک رسمِ روانگی کیوجہ سے بھی کافی تگ و دو کرنا پڑی اور جب وہ اپنی گاڑی میں سوار ہوا اور منزل کی طرف رواں دواں تھا تو اس کے دماغ میں کئی سوال گردش کر رہے تھے کہ کیا معاشرے میں اس کی پہچان اس کا خاندانی شجرہ نسب؛ اس کی امارت اور کاروباری سرگرمیاں ہی ہیں؟ اگر وہ ایک عام انسان ہوتا تو کیا اس کی ظاہری صورت دیکھ کر وہ ایسی عزت اور پروٹوکول کا مستحق ہو سکتا تھا؟ کیا اس ماحول میں امارت اور شہرت ہی ترجیحِ اوّل ہے؟ پھر اس نے ان کے جواب جانے بغیر آنکھیں موند کر خیالوں کی دنیا سے روابط بڑھانے کی کوشش تیز کر دی۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔ اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -