کورونا وائرس کی دوسری لہر روکنے میں انسانی فضلے کا انتہائی اہم کردار، سائنسدانوں کا انتہائی دلچسپ انکشاف

کورونا وائرس کی دوسری لہر روکنے میں انسانی فضلے کا انتہائی اہم کردار، ...
کورونا وائرس کی دوسری لہر روکنے میں انسانی فضلے کا انتہائی اہم کردار، سائنسدانوں کا انتہائی دلچسپ انکشاف

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی پہلی لہر نے ہی پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور ماہرین پیش گوئی کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر اس وائرس کی دوسری لہر بھی آسکتی ہے جو اس سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اب نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے حیران کن دعویٰ کر دیا ہے کہ انسانوں کے پاخانے کے ذریعے کورونا وائرس کی دوسری ممکنہ لہر کو روکا جا سکتا ہے۔ ڈیلی سٹار کے مطابق امریکہ کی ایپڈیمیالوجی فرم ’بائیو باٹ‘ کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں سائنسدان لوگوں کے پاخانوں پر تحقیق کریں۔ ا س سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکے گا کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس کن ممالک اور کن خطوں میں زیادہ پھیل سکتا ہے اور یہ پتا چلانے کے بعد وہاں وائرس کو دوبارہ پھیلنے سے روکنے کے لیے پیشگی انتظامات کیے جاسکتے ہیں۔

بائیو باٹ کی بانی نیوشا گھیلی کا کہنا تھا کہ”یہ بات کئی تحقیقات میں ثابت ہو چکی ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے پاخانے میں وائرس شامل ہوتا ہے چنانچہ اس سے پتا چلایا جا سکتا ہے کہ کن علاقوں میں وائرس زیادہ پایا جا رہا ہے۔ اس کے لیے ہمیں لوگوں کے پاخانے کے الگ الگ نمونے لے کر انہیں ٹیسٹ کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم شہروں میں مختلف علاقوں کے سیوریج سسٹم سے نمونے لے کر پتا چلا سکتے ہیں کہ کس علاقے میں کورونا وائرس زیادہ ہے۔ اس طرح ہمارے سامنے کورونا وائرس کے پھیلاﺅ کے حوالے سے واضح تصویر آ جائے گی اور ہم اس کو روکنے کی پوزیشن میں آ جائیں گے۔“نیوشا کا کہنا تھا کہ ان کی فرم امریکہ بھر سے سیوریج سسٹم سے نمونے حاصل کر رہی ہے اور ان کے ٹیسٹ کرکے جلد نتائج سامنے لائے جائیں گے۔

مزید :

کورونا وائرس -