کورونا وائرس کی وجہ سے سکھ ڈاکٹروں کو اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز قربان کرنا پڑگئی

کورونا وائرس کی وجہ سے سکھ ڈاکٹروں کو اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز قربان کرنا ...
کورونا وائرس کی وجہ سے سکھ ڈاکٹروں کو اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز قربان کرنا پڑگئی

  

اوٹاوا( مانیٹرنگ ڈیسک) کینیڈا میں کورونا وائرس کے خلاف اگلے مورچے پر جنگ لڑتے دو سکھ ڈاکٹروں نے قربانی کی ایک عظیم مثال قائم کر دی ہے۔ دنیا میں کسی بھی شخص کے لیے باامر مجبوری مذہبی شعار ترک کرنا یقینا سب سے بڑی قربانی ہو سکتی ہے اور ان دو سکھ ڈاکٹروں نے فرض کی انجام دہی کے لیے اپنی داڑھیاں منڈھوا دی ہیں ، اس کے باوجود کہ داڑھی سکھ مذہب کا انتہائی اہم اور بنیادی رکن ہے۔

ٹربیون انڈیا کے مطابق سنجیت سنگھ سلوجا اور رنجیت سنگھ سلوجا نامی یہ دونوں ڈاکٹر سگے بھائی ہیں اور مونٹریال جنرل اینڈ رائل وکٹوریا ہسپتال میں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں۔ داڑھی کی وجہ سے وہ فیس ماسک نہیں پہن سکتے تھے اور پہن بھی لیتے تو وہ زیادہ مو¿ثر ثابت نہ ہوتا چنانچہ ان کے لیے دو ہی راستے بچے تھے کہ وہ فرض سے ہاتھ کھینچ لیں یا داڑھی کی قربانی دے دیں۔ انہوں نے اس مذہبی فریضے پر انسانی فریضے کو ترجیح دی اور داڑھیاں منڈھوا کر انسانیت کی خدمت میں جت گئے۔ ہسپتال کی طرف سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ ”داڑھی سکھ مذہب کے ماننے والوں کی پہچان ہوتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے ہمارے دونوں ڈاکٹر کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بہت سوچ بچار کے بعد داڑھی کی قربانی دینے کا فیصلہ کیا۔“

نیورو سرجن ڈاکٹر سنجیت کا کہنا تھا کہ ”ہمارے پاس چھٹی پر جانے کا آپشن موجود تھا لیکن ہم جانتے ہیں کہ ڈاکٹرز اور طبی عملے کے بہت سے لوگ وائرس کا شکار ہو رہے ہیں اور باقی ماندہ لوگوں پر بہت بوجھ ہے۔ ایسے مصیبت کے دنوں میں ہم نہیں چاہتے تھے کہ ہم غیرحاضر ہو کر ان پر مزید بوجھ بڑھا دیں۔ داڑھیاں کٹوانا ہمارے لیے اگرچہ بہت مشکل فیصلہ تھا لیکن یہ انتہائی ناگزیر بھی تھا۔ داڑھیاں کٹوانے پر ہم بہت دکھی بھی ہیں لیکن اس بات کی خوشی بھی ہے کہ ان مشکل دنوں میں ہم انسانیت کے کام آ رہے ہیں۔“

مزید :

بین الاقوامی -