”اگر باولرز کو گیند کے ساتھ یہ کام کرنے سے روک دیا گیا تو ۔۔۔ “کورونا وائرس کے باعث باولرز پر ممکنہ پابندی کے خدشے پر وقار یونس بھی میدان میں آگئے

”اگر باولرز کو گیند کے ساتھ یہ کام کرنے سے روک دیا گیا تو ۔۔۔ “کورونا وائرس ...
”اگر باولرز کو گیند کے ساتھ یہ کام کرنے سے روک دیا گیا تو ۔۔۔ “کورونا وائرس کے باعث باولرز پر ممکنہ پابندی کے خدشے پر وقار یونس بھی میدان میں آگئے

  

سڈنی (ڈیلی پاکستان آن لائن )قومی کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باولر وقار یونس نے کہا ہے کہ گیند کو چمکانے کے لیے کھلاڑیوں کا پسینہ یا تھوک استعمال کرنا فطری عمل ہے، ایسا برسوں سے ہوتا آرہا ہے اور پلیئرز اس کے عادی ہیں، اگر پابندی لگانی ہے تو کوئی متبادل فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

نجی نیوز چینل جیو سے خصوصی گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ وہ پابندی کی باتوں سے مکمل عدم اتفاق تو نہیں کرتے لیکن ایسا کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، جو بھی فیصلہ ہو سوچ سمجھ کر ہو اور اگر پسینہ یا تھوک کے استعمال پر پابندی لگتی ہے تو کوئی متبادل چیز فراہم کرنا ہوگی۔مایہ ناز فاسٹ باولر کا کہنا تھا کہ اگر پلیئرز گیند کو چمکانے سے محروم رہے تو اس سے کرکٹ کی چمک ہی ختم ہوجائے گی بلے اور گیند کے مقابلے میں توازن کیلئے گیند کو چمکانے کی اجازت ہونا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاو کو روکنے کیلئے کرکٹ حلقوں میں یہ بات زیر غور ہے کہ پلیئرز کا گیند چمکانے کیلئے اپنا پسینہ یا تھوک استعمال کرنا بند کیا جائے تاکہ وائرس کے پھیلاو¿ کو محدود کیا جاسکے۔

مزید :

کھیل -