وزیر خارجہ کی انڈونیشین ہم منصب سے اسلاموفوبیا کے مقابلے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پرٹیلیفون پرگفتگو 

وزیر خارجہ کی انڈونیشین ہم منصب سے اسلاموفوبیا کے مقابلے اور بین المذاہب ہم ...
وزیر خارجہ کی انڈونیشین ہم منصب سے اسلاموفوبیا کے مقابلے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ پرٹیلیفون پرگفتگو 

  

 اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انڈونیشیاکی وزیر خارجہ محترمہ رتنو مرسودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی اور اسلاموفوبیا کے مقابلے کے لئے اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی)کے رکن ممالک میں تعاون مضبوط کرنے کی اہمیت پر بات چیت کی، وزیرخارجہ نے زور دیا کہ پاکستان کی کوششوں کا مقصد بین المذاہب ہم آہنگی اور باہمی احترام سے متعلق زیادہ اہم آہنگی پیدا کرنا اور آگاہی کا فروغ ہے۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے گزشتہ نومبر میں نیامے، نائیجر میں او آئی سی وزرا خارجہ کونسل کے 47ویں اجلاس میں پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کی متفقہ منظوری کی حمایت پر انڈونیشیاکا شکریہ ادا کیا جس میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر مقابلے کا دن قرار دیاگیا ہے۔ وزیر خارجہ نے اس ضمن میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرارداد کی خوش اسلوبی سے منظوری کے لئے نیویارک میں دونوں ممالک کے درمیان اشتراک عمل جاری رکھنے کے لئے کہا۔

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے زور دیا کہ اسلام کی مقدس ہستیوں کی بے ادبی کا رویہ دنیا بھر کے ڈیڑھ  ارب سے زائد مسلمانوں کی دل شکنی اور ان کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ وزیر خارجہ نے نشاندہی کی کہ ایسے اقدامات آزادی اظہار کے جائز حق کے زمرے میں نہیں آتے، عالمی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اظہار کی آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی لاگو ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ نے اجاگر کیا کہ مسلمان مذہب یا عقائد کی بنیاد پر تشدد پر اکسانے اور پرتشدد واقعات کی دوٹوک طورپر مذمت کرتے ہیں اور اس جذبے کا سب کو احترام کرنا چاہئے۔

وزیر خارجہ نے زور دیا کہ او آئی سی مل کرکام کرے تاکہ عالمی برادری کو نبی اکرمﷺ اور قرآن پاک کے لئے تمام مسلمانوں کی محبت وعقیدت کے گہرے جذبے اور وابستگی کے بارے میں سمجھایا جا سکے۔ وزیر خارجہ نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے تہذیبوں کے درمیان مکالمے کی ضرورت ہے تاکہ بین المذاہب ہم آہنگی، تحمل وبرداشت اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ مل سکے۔ 

مزید :

قومی -