امریکہ کا افغانستان سے انخلاء سے قبل  مزید طیارے بھیجنے کا فیصلہ، بمبار جہاز بھی شامل

امریکہ کا افغانستان سے انخلاء سے قبل  مزید طیارے بھیجنے کا فیصلہ، بمبار جہاز ...
امریکہ کا افغانستان سے انخلاء سے قبل  مزید طیارے بھیجنے کا فیصلہ، بمبار جہاز بھی شامل

  

  واشنگٹن(آئی این پی) پینٹاگون کے جوائنٹ چیف چیئرمین مارک ملی  نے کہا ہے کہ   امریکہ نے افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کی بحفاظت اپنے ملکوں کو واپسی کے لیے بمبار اور لڑاکا طیاروں کی نئی کھیپ بھیج رہا ہے،تازہ کھیپ میں چھ بمبار اور 12 ایف-18 جنگی طیارے شامل ہیں،  امریکی فوج کسی دوسرے ملک میں بھی افغان فورسز کی تربیت کر سکتی ہے۔ 

  امریکی میڈیا کے مطابق پینٹاگون کے جوائنٹ چیف چیئرمین مارک ملی کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ افغانستان سے نکلنے والی افواج کے تحفظ  کے لیے چھ بی  52 بمبار طیارے اور ایک درجن ایف-18 جنگی طیاروں کو بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مارک ملی کا مزید کہنا تھا کہ بمبار اور لڑاکا طیاروں کی یہ کھیپ صدر جوبائیڈن کے حکم کے تحت 11 ستمبر تک افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے عمل کے دوران فوج اور غیر ملکی کنٹریکٹرز کی حفاظت کے لیے تعینات کیے جائیں گے۔ 

طالبان کے افغان فوج پر حملوں میں تیزی اور ملک کے مستقبل سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں پینٹاگون کے جوائنٹ چیئرمین نے کہا کہ امریکی فوج کسی دوسرے ملک میں بھی افغان فورسز کی تربیت کر سکتی ہے جب کہ افغان فضائیہ کے لیے اضافی مدد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ امریکا کی جانب سے طیاروں کی مزید کھیپ بھیجنے کا فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب طالبان نے متنبہ کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے یکم مئی کے بجائے فوجیوں کے انخلا کی تاریخ میں 11 ستمبر تک کی توسیع کے بعد اب وہ بھی معاہدے کی غیرملکی فوجیوں کو نشانہ نہ بنانے کی شق کے پابند نہیں رہے ہیں۔

مزید :

بین الاقوامی -