بھارت کی کھلی منڈی میں یورینیم کی خرید و فروخت کی خبریں ،جنوبی کوریا کی عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

 بھارت کی کھلی منڈی میں یورینیم کی خرید و فروخت کی خبریں ،جنوبی کوریا کی عوام ...
 بھارت کی کھلی منڈی میں یورینیم کی خرید و فروخت کی خبریں ،جنوبی کوریا کی عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی

  

سیول (رضا شاہ) جنوبی کوریا کے مختلف مکاتب فکر کے لوگوں میں بھارت میں کھلی منڈی میں یورینیم کی خریداری کی خبر کے بعد سے انتہائی تشویش پائی جا رہی ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتوں سے علم ہوتا ہے کہ ہندوستان کتنا غیر محفوظ ملک ہے اور دنیا کیلئے کتنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ ہندوستان دوسروں پر الزام تراشی کرتا ہے لیکن اس طرح کے معاملات ہندوستان کے جھوٹوں سے پردہ اٹھانے کیلئے کافی ہیں۔

 یاد رہے کہ بھارت سے چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے کہ ہندوستان کے مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی سکواڈ کے ذریعہ 2 افراد کو 7 کلوگرام قدرتی یورینیم کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دہشتگرد اور عام ہندوستانی شہری ایٹمی دھماکہ خیز مواد بنانے کے لئے کسی بھی ہندوستانی شہر کی کھلی منڈی سے یورینیم کو ممکنہ طور پر خرید سکتے ہیں۔ سات کلو گرام یورینیم جوہری بلیک مارکیٹ میں لاکھوں ڈالر کی لاگت کی ہے۔ بھارت ایٹمی ٹیکنالوجی کی غیر قانونی تجارت اور ریاستی اور غیر ریاستی اداروں کے لئے بدنیتی پر مبنی غیر قانونی جوہری مواد کی سپلائی کے لئے ایک اہم جگہ کے طور پر ابھرا ہے۔ انڈیا ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ ضبط شدہ یورینیم تجزیہ کے لئے بھابھہ ایٹمی ریسرچ سنٹر (بی اے آر سی) کو بھیجی گئی ہے۔ یورینیم ایک انتہائی دھماکہ خیز اور تابکار مادہ ہے جو ایٹمی ہتھیار بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ یورینیم کو دہشت گرد بھی ایٹمی دھماکہ خیز مواد بنانے کے لئے استعمال کرسکتے ہیں۔ ہندوستانی حکام ابھی تک اس بات کا پتہ نہیں چلا سکے کہ دو گرفتار افراد نے اتنی بڑی مقدار میں یورینیم کہاں سے حاصل کی اور اس یورینیم کا ممکنہ خریدار کون ہے اور کون سے ریاستی حکام یورینیم سمگلنگ میں ملوث تھے۔

مزید :

بین الاقوامی -