ایک آسمان پہ اتنے چاند۔۔

   ایک آسمان پہ اتنے چاند۔۔
   ایک آسمان پہ اتنے چاند۔۔

  

 وطن عزیز میں اس بار بھی عید کے چاند کے حوالے سے  اختلاف کی روایت برقرار رہی اور خیبر پختونخوا میں ملک کے دیگر صوبوں سے الگ عید منائی گئی۔ شکر ہے کہ پختونخوا کی  صوبائی حکومت نے سیاسی گرما گرمی کے ماحول میں ”امپورٹڈ چاند نامنظور“کا نعرہ نہیں لگا دیا بلکہ خاموشی سے اپنا الگ چاند پہلے نکال کر محض روایت کو زندہ رکھنے پر ہی اکتفا کیا۔حیرت انگیز طور پر ہمارے افغان بھائیوں کی نظر بھی جنگ کے خاتمے کے بعد بہت تیز ہو گئی ہے کہ انہیں بھی اس بار عید کا چاند کچھ زیادہ ہی جلدی نظر آگیا۔چاند دکھائی دینے کے اختلاف کی اس مسلسل مشق نے بیرون ملک پاکستانیوں کو بھی پیچھے نہیں رہنے دیا اور وہ بھی ایک ملک میں رہتے ہوئے مختلف عیدیں کرتے ہیں۔ کچھ سعودی عرب میں چاند نظر آ جانے پر عید مناتے ہیں اور باقی اپنے اپنے مسالک کے اعلانات کے مطابق اپنا اپنا چاند نکال کر عید کر لیتے ہیں۔رویت ہلال پر اختلاف کوئی نیا معاملہ نہیں ہے لیکن پچھلی حکومت میں تو  سائنس اور ٹیکنالونی کے ایک وزیر رویت ہلال کو ہی غیر ضروری قرار دے کر اپنا سائنسی چاند نکالنا شروع ہو گئے تھے۔اس سلسلے میں ان کے دینی سمجھ بوجھ سے عاری بیانات نے اس مسئلے کو بہت زیادہ اجاگرکر دیا تھا۔ان کی گفتگو میں علماء کی تحقیر، دین بیزاری اور رویت کے شرعی احکامات سے کلیتاً روگردانی صاف جھلکتی تھی جس کا اظہار انہوں نے ایک بار ہفتہ قبل ہی اعلان سے کر دیا تھا کہ فلاں دن عید ہو گی اور اپنا ایک سائنسی کیلنڈر بھی نکالنے کا عندیہ دیا تھا جس کی رو سے  چاند کو پورے سال کی ہدایات جاری کر دی جانا تھیں کہ اس نے کب کب نکلنا ہے۔حیرت ہے کہ چاند پورا سال ہر مہینے نکلتا ہے لیکن جو سنسنی رمضان المبارک کے چاند پر میڈیا کے ذریعے پھیلائی جاتی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ ہمارے یہاں چاند صرف اسی مہینے میں نکلتا ہے۔اس بار بھی اسی سنسنی خیزی کا عنصر حاوی رہا اور شاید اس میں مسائل کے بنیادی اسباب میں میڈیائی تشہیر بھی ہے۔ تمام چینلز کی چاند دیکھنے کی بریکنگ نیوز  کا ایک دلچسپ سفر شروع ہو جاتا ہے اور پورے سال میں واحد  موقع ہوتا ہے جب دینی طبقے کی طرف سے بھی کسی خبر کو  الیکٹرانک میڈیا پر اس قدر اہمیت دی جاتی ہے۔ اس بار صوبائی کمیٹیوں کے الگ الگ اعلانات کی میڈیا پر تشہیر سے مرکزی اعلان کی اہمیت بے سود ہو کر رہ گئی۔ اصولی اعتبار سے ہمارے میڈیا کو اس معاملے میں انتہائی ذمہ داری کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے لیکن کیا کریں انہوں نے بھی اسی اعلان کے بعد اپنے اپنے شیطان کھولنے ہوتے ہیں جنہیں اس مہینے میں بڑی مشکل سے روک کر رکھتے ہیں۔اس بار چاند نظر نہ آنے کا سب سے پہلا اعلان پنجاب کی صوبائی رویت ہلال کمیٹی کی طرف سے کیا گیا، اس کے بعد سندھ اور بلوچستان سے بھی چاند نظر نہ آنے کے خبریں دے دی گئیں تو اس کیساتھ ہی پختونخوا میں چاند کی شہادتیں موصول ہونا شروع  ہو گئیں  اور اسے بھی خبروں کا حصہ بنا کر پوری قوم کو عجیب مخمصے کا شکار کر دیا گیا۔یہ بات بھی غور طلب ہے کہ یہ اختلاف آخر  صرف عیدکے چاند پر ہی کیوں ہوتا ہے جبکہ چاند تو ۱۲ مہینے نکلتا ہے۔کیسی عجیب صورتحال ہے کہ اگر ایک صوبے میں سو سے زائد شہادتیں موصول ہو گئیں  تو مرکز کے پاس وہ کون سا آلہ ہے جس کے سبب وہ ان شہادتوں کو رد کر سکے اور اگریہ شہادتیں درست نہیں اور کسی بھی وجہ سے اختلاف کو برقرار رکھنے کی روایت کا تسلسل ہے تو اس کو روکنے کا کوئی مربوط اور مضبوط لائحہ عمل کیوں طے نہیں کیاجا سکا۔اگر حکومتی سطح پر مرکزی کمیٹی موجود ہے جس کے اعلان کو ہی حتمی سمجھا جاتا ہے تو  پھر صوبائی سطح  کے ہر اعلان کو میڈیا پر دکھا نے کی آخر کیا منطق ہے اور جب تمام صوبوں کے الگ الگ اعلانات کو بریکنگ نیوز کے طورپر دکھا کر  لوگوں کی ذہن سازی کر دی گئی تو پھر مرکزی اعلان کی سوائے منہ دکھائی کے کیا اہمیت رہ جاتی ہے؟حکومت کو اس حوالے سے اپنی رٹ قائم کرنے کی ضرورت ہے    اور سوائے مرکزی رویت ہلال کے اعلان کے کسی بھی سطح پر اس حوالے سے پھیلائے جانے والے اختلاف کو میڈیا پر دکھائے جانے کی سخت پابندی ہونی چاہئے۔صوبائی رویت ہلال کمیٹیاں اپنے اعلانات میڈیا کو دینے کی بجائے صرف مرکزی کمیٹی کو روانہ کریں اور ان کی تشہیر کسی بھی سطح پر نہیں ہونی چاہئے۔میڈیا کو اس حوالے سے ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے کسی بھی  انفرادی اعلان کو نشر کرنے سے گریز کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔من حیث القوم یہ ایک افسوسناک المیہ ہے کہ ہم اپنے زمینی اختلافات کو آسمانی سرحدوں تک لے گئے ہیں۔ نہ صرف ملکی  سطح بلکہ یورپ و دیگر ممالک میں بسنے والے مسلمانوں کے مختلف عیدیں منانے کی روش  نے ہماری بے ترتیبی  اور کج فہمی کو دوسرے مذاہب کے سامنے کھول کر رکھ دیا ہے۔حکومت اگر میڈیاکو  اس بات کا پابند بنا دے کہ مرکزی  رویت ہلال کمیٹی کے سوا کسی بھی اعلان کی تشہیر کسی پیمانے پر کسی صورت نہیں کی جائے گی تو شاید چاند نکلنے کی تعداد کم ہو سکے ورنہ ایک آسمان پر وقفے وقفے سے  سیاسی، مسلکی اور اختلافی چاند نکلتے رہیں گے۔

مزید :

رائے -کالم -