ماؤنٹ ایورسٹ پر دنیا کا بلند ترین موسمیاتی سٹیشن

ماؤنٹ ایورسٹ پر دنیا کا بلند ترین موسمیاتی سٹیشن
ماؤنٹ ایورسٹ پر دنیا کا بلند ترین موسمیاتی سٹیشن

  

چینی سائنسی محققین نے ابھی حال ہی میں بدھ کے روز 8,800 میٹر سے زائد بلندی پر ایک خودکار موسمیاتی مانیٹرنگ سٹیشن قائم کیا ہے، جو اسے چین۔نیپال سرحد پر واقع ماؤنٹ ایورسٹ ( چینی نام کوہ چومولانگما) پر اپنی نوعیت کا دنیا کا بلند ترین مقام بناتا ہے۔ نئے موسمیاتی اسٹیشن کے علاوہ ماؤنٹ ایورسٹ پر آٹھ ایلیویشن گریڈینٹ میٹرولوجیکل سٹیشن بھی قائم کیے گئے ہیں۔ماہرین کے نزدیک اس موسمیاتی اسٹیشن کی مدد سے سامنے آنے والا موسمیاتی ڈیٹا سائنسی تحقیق اور کوہ پیمائی کی سرگرمیوں میں انتہائی معاون ثابت ہو گا۔ 

اس سائنسی مہم کو  "ارتھ سمٹ مشن 2022" کا نام دیا گیا ہے جس میں شامل چینی ٹیم نے چار مئی کو 8,848 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر  کیا۔ ٹیم  کے ارکان دو ٹکڑیوں میں یہاں تک پہنچے۔مشن نے بدھ کی صبح ٹیم کے تیرہ کوہ پیماؤں کے ساتھ 8,000 میٹر سے زائد بلندی پر اپنی پہلی پیش قدمی  کی، اور ان میں سے پانچ نے چین۔نیپال  سرحد پر 8,800 میٹر کی بلندی پر دنیا کا سب سے بلند آٹومیٹک میٹرولوجیکل اسٹیشن تعمیر کیا۔یوں اس اسٹیشن نے پہاڑ کے جنوب میں 8,430 میٹر کی بلندی پر واقع اُس اسٹیشن کی جگہ لے لی ہے، جسے 2019 میں برطانوی اور امریکی سائنسدانوں نے قائم کیا تھا۔چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے تحت فعال  تبت پلیٹیو ریسرچ  انسٹی ٹیوٹ کے مطابق یہ دنیا کا سب سے بلند مقام بن چکا ہے۔

یہ امر قابل زکر ہے کہ 270 سے زائد ارکان کے ساتھ سولہ ٹیمز نے 28 اپریل کو مہم کا آغاز کیا تھا۔ تاہم مشکل موسمی صورتحال اور شدید حالات کے باعث  تمام محقیقین کی بجائے صرف 13 کوہ پیماؤں نے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی کو سر کرنے کا حتمی مرحلہ کامیابی سے مکمل کیا۔

یہ پہلا موقع ہے کہ چین  کی سائنسی تحقیقات سطح سمندر سے 8000 میٹر کی بلندی پر مکمل  کی گئی ہیں۔1950 کی دہائی سے، چین نے ماؤنٹ ایورسٹ پر چھ سے زیادہ سائنسی تحقیقات کی ہیں۔ ایورسٹ کی موجودہ سائنسی مہم کل 5 سائنسی مشنز  پر مشتمل ہے ۔یہ اب تک کی وسیع ترین کوریج ،جامع ترین سائنسی ریسرچ اور سب سے بڑی تحقیقی ٹیم پر مشتمل جدید ترین آلات سے لیس چینی ایورسٹ سائنسی ریسرچ مہم ہے۔اس دوران تحقیقی ٹیم نے پہلی بار اعلیٰ درستگی کے حامل ریڈار کا استعمال کرتے ہوئے  برف کی موٹائی کی پیمائش کی، اور مزید تحقیق کے لیے نمونے اکٹھے کیے ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم آئندہ ایک ماہ تک آلودگی،  گلیشیر اور برفانی جھیلوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ  گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی نگرانی کرے گی۔گلیشیر میں آنے والی تبدیلیوں کے مطالعے کا مقصد گلوبل وارمنگ کے اثرات کو واضح کرنا ہے، جو کہ موسمیاتی تبدیلی پر عالمی ردعمل کو بڑھانے کے لیے فائدہ مند ہے۔ مختلف بلندیوں پر متعدد خودکار موسمی اسٹیشنز کی مدد سے یہ معلوم کیا جا سکے گا کہ گلیشیئرز کے کون سے حصے پگھلنے کے لیے حساس ہیں یوں یہ آٹھ موسمیاتی اسٹیشن مل کر انتباہی نظام یا وارننگ سسٹم کے طور پر کام کریں گے .

اس تحقیق کی بدولت ماونٹ ایورسٹ کے علاقے میں عالمی اور علاقائی انسانی سرگرمیوں کے اثرات کا مشاہدہ کیا جا سکے گا۔تحقیقاتی ٹیم اپنے قیام کے دوران خون، پیشاب، تھوک، فضلہ اور دیگر نمونے جمع کرے گی، بلڈ پریشر کی پیمائش کرے گی، اور  نبض کی رفتار کو مانیٹر کرے گی ،تاکہ فالو اپ تحقیق کے لیے نمونے فراہم کیے جا سکیں۔یہی وجہ ہے کہ حالیہ سائنسی مہم میں سب سے زیادہ شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، انتہائی باصلاحیت سائنسی تحقیقی ٹیم کے ساتھ ساتھ جدید ترین آلات استعمال کیے گئے ہیں، یہ مہم 2017 میں چنگھائی۔تبت سطح مرتفع کا سروے شروع ہونے کے بعد سے سب سے بڑی مہم ہے۔"ارتھ سمٹ مشن 2022" کی ٹیم کے تیرہ ارکان ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر متعدد سائنسی امور کی انجام دہی کے بعد  کامیابی سے 5,200 میٹر کی بلندی پر واقع بیس کیمپ میں واپس پہنچ چکے ہیں اور مزید تحقیقات کو آگے بڑھایا جائے گا۔

چین کی اس کامیابی کو عالمی سطح پر بھی بھرپور سراہا گیا ہے اور ماؤنٹ ایورسٹ کے علاقے میں انتہائی بلندی پر  جامع سائنسی مہم کو جدید انسانی تاریخ میں ایک زبردست کارنامے سے تعبیر کیا گیا ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

  ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں۔

مزید :

بلاگ -