قومی کرکٹ ٹیم اور کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ترقیاں 

قومی کرکٹ ٹیم اور کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ترقیاں 
قومی کرکٹ ٹیم اور کھلاڑیوں کی رینکنگ میں ترقیاں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


پاکستان کے دورے پر موجود ذیادہ تجربہ نا رکھنے والے کھلاڑیوں پر مشتمل کیوی کرکٹ ٹیم نے پانچ ٹی ٹونٹی  میچوں کی سیریز دو،دو کے مقابلے سے سے برابر کرنے کے بعدد ون ڈے سیریز میں ابھی تک چار،صفر کی بڑی شکست سے دوچار ہو چکی ہے اور آج ہونے والے آخری ون ڈے میں قومی کرکٹ ٹیم کے پاس موقع ہے کہ وہ یہ میچ جیت کر کیوی ٹیم کو وائٹ واش شکست سے دوچار کرکے ایک نئی تاریخ رقم کرے اور اپنی ٹیم رینکنگ کو مزید تقویت بخشتے ہوئے اسے مستحکم اور محفوظ بنائے۔ٹی ٹونٹی میچز دو،دو کی بنیاد پر ختم ہونے کے بعد کیوی ٹیم سے سخت مقابلے کی توقع تھی کیونکہ پہلے دو ٹی ٹونٹی میچ قومی ٹیم کے جیتنے کے بعد یہی امید تھی کہ قومی ٹیم ٹی تونٹی سیریز اپنے نام کرے گی لیکن ایک میچ بارش کے باعث مکمل نا ہونے والے دو میچز کیوی کے جیتنے کے بعد اس امید پر پانی پھر گیا اور سیریز برابری کی بنیاد پر اختتام پذیر ہو گئی۔جبکہ ون ڈے سیریز میں قومی کرکٹ ٹیم نے شاندار انداز میں کم بیک کرتے ہوئے ناصرف پانچ میچوں کی سیریز میں چار،صفر کی فیصلہ کن برتری حاصل کر لی ہے بلکہ آج ہونے والے آخری میچ کو جیت کر وائٹ واش کا سنہری موقع ہاتھ سے نہیں گنوانا چاہئے۔کیویز نے اس دورے میں شاندار کھیل سے شائقین کرکٹ کے دل جیت لئے اور دنیا بھر میں پاکستان ایک پر امن ملک ہے کے پیغام کو پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہم بطور پاکستانی کیوی ٹیم کے پاکستان کا دورہ کرنے پر اور بلا خوف و خطر کھیلنے پر دل سے شکر گذار ہیں اور امید کرتے ہیں کہ اس دورے سے بھارت کی ہٹ دھرمی سے تعطل کا شکار نظر آنے اور پاکستان کی سرزمین پر منعقد ہونے والے  ایشیاء کپ کا انعقاد ممکن ہو سکے گا جس کے بعد قومی ٹیم کو بھارت میں ہونے والے  ایک روزہ ورلڈ کپ کھیلنے کے لئے پروانہ مل سکے گا۔


اب بات کرتے ہیں قومی کرکٹ ٹیم کی عالمی رینکنگ میں ہونے والی ترقی کے ساتھ کھلاڑیوں کی ترقی کے حوالے سے تو یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ بابر اعظم اس وقت رینکنگ میں کرکٹ ِ اعظم یعنی پہلی پوزیشن پر براجمان ہو چکے ہیں اس کے پیچھے ان کی انتھک محنت اور شاندار پرفارمنس کا عنصر موجود ہے جہاں ابھی تک جھول نظر نہیں آیا اور وہ مسلسل عالمی کرکٹ میں رنز کر رہے ہیں اور تیز ترین پانچ ہزار رنز کرنے والے بلے بازوں میں بھی فہرست ہیں اس کے ساتھ کم میچز میں یہ کارنامہ سر انجام دینے والوں میں بھی سرفہرست ہیں۔اس کے ساتھ اگر بات کی جائے فخر زمان کی تو انہوں نے بھی اپنی محنت اور فارم سے نمبر دو کی پوزیشن سنبھال لی ہے اور دنیا بھر کے بڑے بلے بازوں کو نیچے کے نمبرون پر دھکیل دیا ہے۔لیکن فخر زمان کو اپنی پُل شارٹ پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ فخر زمان کی پُل شارٹ کافی کمزور ہے اور انہیں اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے اس میں بہتری سے ان کی کرکٹ میں مزید نکھار آئے گا اور انہیں آؤٹ کرنا ہر باؤلر کا خواب ہو گا۔بات کرتے ہیں امام الحق کی تو پانچویں پوزیشن پر موجود امام الحق کو اگر چوتھامیچ کھلا دیا جاتااور وہ سکور کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو شاید وہ اس وقت تیسری پوزیشن حاصل کرلیتے اور اگر انہیں آج کا میچ کھلا دیا جائے اور وہ ایک لمبی تھری فگر اننگ کھیلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو قومی ٹیم کی پہلی پوزیشن کے ساتھ بلے بازوں کی بھی پہلی تین پوزیشن پر ہمارا قبضہ ہوتا۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرکٹ میں ابھی بھی مناپلی جاری ہے اور ایک سیٹ اور ان فارم بلے باز کو باہر بٹھا کر اس کی رینکنگ کو ڈسٹرب کرنے کے لئے کچھ بھی کیا جاسکتا ہے۔یہ بات بابر اعظم کو سوچنا چاہئے کہ ایک ان فارم بلے باز کو باہر بٹھا کر اس کی رینکنگ کا بیڑہ غرق نہیں کرنا چاہئے بلکہ اسے چانس دیان چاہئے تا کہ اس کی کارکردگی میں اس طرح نکھار آئے اور اس کے اعتماد میں اضافہ ہو۔شان مسعود نے گذشتہ میچ میں اچھی اننگ کھیلی اور جس طر ح انہیں آؤٹ قرار دیا گیا وہ ان کے ساتھ نا انصافی تھی لیکن اس طرح بھی ہو سکتا تھا کہ امام الحق اور فخر اووپننگ کرتے اور تیسرے یا چوتھے نمبر پر شان مسعود کو بھیجا جا سکتا تھا۔لیکن خیر اب سیریز جیت چکے ہیں اور وائٹ واش کیوی ٹیم کے دروازے پر دستک دے رہی ہے لہذٰا قومی کرکٹ ٹیم کو یک جان ہو کر اس میچ کوق جیتنا ہو گا اور وائٹ واش سے دوچار کرنا ہو گا ورنہ یہ شنہری موقع پھر ہاتھ آنے میں بہت دیر لگے گی۔

مزید :

رائے -کالم -