ذرا زبان سنبھال کر۔۔۔۔ 

ذرا زبان سنبھال کر۔۔۔۔ 
ذرا زبان سنبھال کر۔۔۔۔ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم

 زمانہ قدیم میں بادشاہوں کی اولاد کی تربیت و تعلیم کے لیے خاص اتالیق مقرر کیے جاتے تھے ۔ شہزادوں کو گفتگو چال چلن کے باقاعدہ آداب سکھاۓ جاتے تا کہ ان کے خاص انداز سے ان میں اور رعایا میں فرق بھی واضح رہے ۔ کہا جاتا ہے شہنشاہ اکبر نے بھی اپنے شہزادے جہانگیر کے لیے ان تمام تربیتی معاملات کا بڑا اہتمام کر رکھا تھا ایک دن مغل شہزادہ جہانگیر اپنی دھن میں مست اپنے ہم مزاج لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہا تھا۔

تھی تو یہ ایک طرح سے نجی محفل جس میں شاہی محل کے چند خواجہ سرا ءبھی موجود تھے ۔ دوران گفتگو شہزادے نے ایک خواجہ سرا ءکو فارسی میں گدھا کہہ دیا۔ خواجہ سراء کو اس میں اپنی توہین محسوس ہوئی تو اس نے شہنشاہ وقت سے شکایت کر ڈالی ۔ یقیناً بادشاہ جس کو اولاد کی تربیت کی فکر تھی اس نے خواجہ سرا ءکی اس شکایت کو سنجیدہ لیا ۔ خاندانی لوگ ویسے بھی ان باتوں کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔ بادشاہ نے شہزادے کو دربار میں طلب کیا اور اس بارے میں پوچھا تو شہزادے نے ندامت سے سر جھکاتے ہوۓ اپنا جرم تسلیم کیا اور عرض کی جہاں پناہ ہمارا قطعاً ارادہ نہیں تھا کہ  اس شاہی خدمت گزار کی دل آزاری کرتے بس دوران گفتگو زبان پھسل گئی ۔ ہم اپنی اس غلطی پر نادم ہیں اور معذرت چاہتے ہیں۔

اس وقت بادشاہ نے 2بہت بڑے تاریخی جملے بولے ۔ کہا کہ بادشاہ اور کمہار میں فرق ہونا چاہیے۔ اگر آپ کو اپنی 2 تولے کی زبان پر قابو نہیں ہے تو لاکھ کوس وسیع سلطنت پر کیسے قابو رکھو گے؟

دانا لوگ کہتے ہیں۔بادشاہت زبان سے شروع ہوتی ہے اور زبان پر ہی ختم ہوتی ہے چاہے آپ کسی سلطنت کے بادشاہ ہیں یا کسی دل  کے بادشاہ ہیں ۔ جب بھی گفتگو کریں زبان سنبھال کر گفتگو کریں اس سے پہلے کہ کسی اور کو یہ جملہ کہنا پڑے ۔ آپ جب بولتے ہیں تو لفظ آپ کا تعارف کروا رہے ہوتے ہیں ۔

ایک فقیر سے کسی بادشاہ نے کہا تھا میں بادشاہ ہوں تو فقیر نے کہا تم کلام کرو پہچان ہم خود لیں گے ۔

یاد رکھیں آپ کا دل آپ کا دماغ ایک برتن کی مانند ہے اور اس برتن میں جو کچھ ہو گا وہی باہر نکلے گا ۔ انسانی دماغ ایک اکاؤنٹ کی طرح ہے اس میں سے نکلنے والا ہر لفظ ایک کرنسی کی مانند ہےجس قدر خوبصورت الفاظ آپ اپنی گفتگو کا حصہ بنائیں گے آپ اتنے تربیت یافتہ خاندانی رئیس امیر شمار ہوں گے ۔ آپ کے لفظ محض لفظ نہیں بلکہ آپ کے پورے قبیلے کا تعارف ہیں ۔ کوشش کریں اپنے دماغ کی ڈکشنری میں اچھائی ۔ ادب و آداب سے بھرپور الفاظ ذخیرہ کریں ۔قرآن پاک  میں ہے ایک دوسرے کا مذاق نہ اڑاؤ، غیبت نہ کرو، بدگمانی نہ کرو، کسی دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو، کسی کا نام بگاڑ کر نہ بلاؤ۔ آپ کو کسی سے ایک لاکھ درجے کا اختلاف بھی ہو تو الفاظ کا چناؤ مناسب کریں ۔  الفاظ کا چناؤ آپ کی شخصیت کے ان پہلوؤں کا تعارف ہوتا ہے لہٰذا اپنی شخصیت کے ہر پہلو کا بہترین تاثر چھوڑیں ۔ 

نوٹ : ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں 

مزید :

بلاگ -