ہمارا انجام کیا ہو گا؟

ہمارا انجام کیا ہو گا؟

  

 گیہوں اور چاول کی قیمت میں کمی کے کو ئی آثار نہیں ہیں ۔ اس کے برخلاف ماہرین ماحولیات کی مانیں تو کرہ ارض کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے اور بالخصوص رات کا اوسط عالمی درجہ حرارت زیادہ ہو جانے کی وجہ سے چاول کی اوسط عالمی پیداوار ہر سال کم ہو تی جارہی ہے اور خشک سالی و سیلاب گےہوں کی اوسط عالمی پیداوار میں مسلسل کمی کا سبب بن رہے ہیں۔ مثلاََ آسٹریلیا میں سیلاب اور چین میں خشک سالی کے سبب گےہوں کی پیداوار ہر سال کم ہورہی ہے۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تباہی کے اس براہ راست اثر کی وجہ سے دُنیا میں گےہوں اور چاول کی قیمتوں میں کمی کے کوئی آثار نہیں ۔ اس کے بر خلاف آنے والے دنوں میں دنیا کا پیٹ بھرنے والی ےہ دونوں بنیادی اشیامزید مہنگی ہو نے والی ہیں ۔ ملک میں بد عنوانی، ذخیرہ اندوزی ، لالچ اور ہوس کے بڑھنے کی وجہ سے غربت کے خاتمہ کے آثار مزید معدوم ہو تے جارہے ہیں ۔ خودکشی کر نے والے کسانوں کی تعداد میں کمی کے راستے میں اور بھی رکاوٹیں ہیں ۔ مثلا سود کی شرح میں غیر اعلان شدہ اضافہ ،قدرتی وسائل کی لوٹ اور خوردہ کاروبار دونوں پر ملٹی نےشنل کارپوریشنوں کا بتدریح غلبہ۔ سود کا معاملہ یہ ہے کہ پہلے شرح سود سالانہ ہو تی تھی، یعنی سود سال میں ایک بار لگتا تھا، پھر چھ ماہی اور سہ ماہی سے ہو تے ہو ئے سود کا حساب (Calculation) ماہانہ تک پہنچا ۔ اب روزانہ کے حساب سے سودبڑھتا رہتا ہے اور اب توقرض لیتے ہی سود کاحساب گھنٹے ، منٹ اور سیکنڈ سے کیا جانے لگا ہے۔ قدرتی وسائل کی لوٹ کا معاملہ یہ ہے کہ جنگل پہاڑ جھیلیں اور تالاب سب دھیرے دھیرے ملٹی نےشنل کارپوریشنوں کی ملکیت ہو تے جارہے ہیں۔ خوردہ بازار پر قبضے کا معاملہ یوں ہے کہ اب ملٹی نےشنل کمپنیوں کے شاپنگ مالزجیسے ادارے خوردہ فروشی کے کاروبار پر بھی دھیرے دھیرے قابض ہو تے جارہے ہیں۔ جےنےاتی طور پر تبدیل شدہ (Genetically Modified) بیجوں کے ذریعہ پیداوار میں وقتی طور پر لبھاونے اضافے کی قیمت زمین کی قدرتی قوت نمو کے خاتمے کی صورت میں اور کےمیاوی دواوں کی وجہ سے ز یر زمین پانی کو زہریلا بنا کر ادا کی جارہی ہے ۔ ہمارے یہاں چاول کم از کم 100 روپےفی کلو اور گےہوں کم از کم 20روپے فی کلو بکتا ہے، لیکن موبائل کا سم کارڈ مفت ملتا ہے ! اور یہاں حالت یہ ہیں کہ ایمبولینس یا پولیس کے مقابلے میں وہ اطالوی پزا یا امریکی برگر جس کا آپ نے فون پر آرڈر دیا ہو تا ہے۔ آپ کے گھر جلدی پہنچ جاتا ہے ، چاہے آپ پر دل کا دوڑہ پڑ رہا ہو یا ڈاکوآپ کے گھر میں گھس آئے ہوں۔ اکیسویں صدی میں ہمارا حال یہ ہے کہ کچھ طالب علم جن کے مارکس نہ ہونے کے برابر ہوں وہ کوٹہ سسٹم کے تحت اچھے تعلیمی اداروں میں داخلہ پا جاتے ہیں، لیکن 75یا 80 فیصد والے ہونہار طالب علم محرو م رہ جاتے ہیں۔ہم وہ قوم ہیں کہ ہمارا ایک ارب پتی ایک کرکٹ ٹیم کو خرید نے میں کروڑوں خرچ کر دیتا ہے، لیکن کسی خیراتی ادارے کو چند لاکھ روپے ڈونیٹ نہیں کر تا ۔ ہمارے یہاں کرکٹ کی ٹیموں کی نیلامی کروڑ وںروپوں میں ہوتی ہے، جبکہ اگر اعداد و شمارکا حساب کیا جائے تو ریکارڈ ہمارے سامنے آ جائے گا کہ ہمارے یہاں درجنوں کسان روزانہ خودکشی کر تے ہیں اور خودکشی کا سبب  ا بھوک ہو تا ہے یا سودی قرض !ہمارے یہاں جوتے تو ایئر کنڈیشنڈ شورو م میں فروخت ہو تے ہیں، لیکن وہ سبزیاں جو ہم کھاتے ہیں گندے اور غلیظ فٹ پاتھوں پر بکتی ہیں! سوال یہ ہے کہ ہم کدھر جارہے ہیں؟ ہمارا انجام کیا ہو گا؟ ٭

مزید :

کالم -