"سٹےٹس کو" کا خاتمہ

"سٹےٹس کو" کا خاتمہ

  

امریکہ کے سابق صدر فرینکلن روز ویلٹ نے ایک دفعہ کہا تھا کہ میں دنیا کے حالات پر پریشان ہوں کہ وہ اتنے خطر ناک کےسے ہو گئے اور جو دکھا ئی دے رہا ہے، وہ سچ تب ہی مانا جاے گا جب بدلتے ہوئے سماجی حالات کو نئے معنی دئیے جا ہیں گے۔

اب اگر ان کے جملے پر غور کیا جاے تو اس کا مطلب یہی نکلتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ نظام کو بھی بدلا جاے ،یعنی کہ " سٹےٹس کو" توڑاجائے۔ پاکستان کے تمام شعبوں میں عرصہ دراز سے سٹےٹس کو کی سی پوزیشن چلی آرہی تھی۔عام فہم زبان مےں ” سٹےٹس کو“کے معنی موجودہ پوزےشن کو برقرار رکھنا نکلتا ہے۔پاکستان میں کرپشن اور زنگ آلود فرسودہ نظام کو تبدیل نہ کرنا ہی ” سٹےٹس کو“ ہے۔انگریزی زبان کا یہ لفظ اپنے اندر وسیع معنی سموتا ہوا نظر آتا ہے۔اس ” سٹےٹس کو“ کی ذمہ دار مختلف حکومتیں اور بیوروکریسی رہی ہیں ۔اس نظام کو بدلنے کی صورت میں ان کو حاصل تمام استحقاق ختم ہونے کا اندےشہ ہمیشہ سے رہاہے اور جس طرح سے پاکستان کے عوام کو رعایا بنایا گیا ہے، اس کا خاتمہ بھی اس نظام کی تبدیلی میں ہی پنہاں ہے۔

 تمام دنیا کے دساتیرکی طرح جب 1973کے آئین پاکستان کی تشکیل کی گئی تھی تو اس بات کا خاص خیال رکھا گیا تھا کہ بدلتے وقت اور حالات کے ساتھ آنے والی سماجی و معا شرتی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لئے اس آئین میں بھی تبدیلیاں کی جا سکےں ۔ان تبدیلیوں کے لئے ایک طرےقہ کار وضع کر دیا گیا تھا اور کچھ تبدیلیوں کے لئے 1973 میں ہی آئین پاکستان مےں وقت کا تعین کر دیا گیا تھا کہ اتنے وقت کے بعد اس میں خود بخود ہی تبدیلیاں آ جائیں گی۔ ان میں سرفہرست صوبوں کی خود مختاری تھا۔اس آئین کی تشکیل کے 4 سال بعد ہی ملک میں آئین کو منسوخ کر کے مارشل لاءلگا دیا گیا تھا ۔اس کا ہی نتیجہ آج تک ” سٹےٹس کو“ کی شکل میں قوم کے سامنے رہا ہے اور اس نے ہی آج تک عوام کو محکوم بنا کر چند مخصوص طبقوں کو شرف حکمرانی بخشاہو ا ہے، جس کا نتیجہ عوام کا استحصال اور عوامی دولت کی لوٹ کھسوٹ ہے۔

جمہوریت کااپناایک مخصوص حسن و خوبصورتی ہو ا کرتی ہے اور اس کا یہ حسن و خوبصورتی ہی قوموں کی ترقی کا باعث بنا کرتی ہے۔عوام کے چنی ہوئے نمائندے ،جنہوں نے دوبارہ عوام کے پاس جانا ہوتا ہے اوران کا عوام کے پاس واپس جانے کا ڈر ہی ان کو عوام کے مفادات کے تحفظ پر مجبور کئے رکھتا ہے۔ عوام کے مفادات کے منافی کوئی عمل ان کو عوام کی نظروں میں ذلیل و خوار کر دیتا ہے اور انتخابات میں ان کو عوام عبرت ناک انجام سے دوچار بھی کر سکتے ہیں۔عوام کی رائے کا مسلسل دباﺅ سےاستدانوں کو عوامی امنگوں کے حامل منصوبے اور پالیسیاں بنانے کا محرک بنا کرتا ہے۔یہی جمہوریت کی اصل خوبصورتی و روح ہے جو عوامی نمائندوں کوسٹےٹس کو“ کو برقرار کرنے سے روکنے کا باعث ہو سکتی ہے۔

یہ جمہوریت کا ہی کمال ہے کہ آج آزاد عدلیہ ملک میں ہونے والی تمام خرابیوں کے خلاف سےنہ سپر ہے اور اس کے ثمرات بھی عوام تک پہنچ رہے ہیں ۔جمہوریت کا تسلسل کسی بھی نظام کو جمود کا شکار نہیں ہونے دیتا اور جمہوریت کی موجودگی اس بات کی ضامن ہوا کرتی ہے کہ عوام کے فیصلے عوام کے لئے....آج پاکستان سے ” سٹےٹس کو“ ٹوٹ رہا ہے، بلکہ ٹوٹ چکا ہے، جس کی تازہ مثال کچھ ریٹائرڈ جرنےلوں کی کورٹ مارشل کے لئے فوج میں ان کے عہدوں پر بحالی ،سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی چےف سمیت طاقتور ترین سےاستدانوں کو 1990ءکے الیکشن چرانے کے الزام میں تحقیقات کا سامنا کرنا ہے ۔ لاہور میں میاں شہباز شرےف کے داماد کی ایک غریب بیکری ملازم کی مار پیٹ کے معاملے پر گرفتاری ۔کیا ” سٹےٹس کو“ کی موجودگی میں یہ سب ممکن تھا؟´´ آزاد عدلیہ ،آزادذرائع ابلاغ ،آزاد الیکشن کمیشن اورجمہوریت کی موجودگی میں فرسودہ نظام چل نہیں سکتا ہے ۔

پچھلے 65 سال سے جو فرسودہ نظام اور نا قص حکمت عملی حکمرانوں نے اپنا ئی ہو ئی تھی، اس کے بنیادی اسباب میں عوام کے ساتھ ساتھ عدلیہ کا متحرک نہ ہو نا اوربار بار جمہوریت کی پامالی بھی ہے ۔نظرےہءضرورت کی طرح کی مصلحتےں آڑے آتی رہی ہیں ۔ملک میں بار بار لگنے والے مارشل لاءاس ” سٹےٹس کو“ کا سب سے بڑا سبب گردانے جا ئیں گے، جنہوں نے اس ملک کواس کی اساس سے ہی دور کر دےا تھا۔آج اگر 2008ءسے لے کر 2012ءتک کے جمہوری سفر کا تقابلی جائزہ لیں تو یقین کریں کہ ہم نے تبدےلی کی جانب سفر بہت تیزی سے طے کیا ہے اور ملکی بدترین معاشی حالت کو ایک طرف رکھ کر اگر ہم دیکھیں تو آصف علی زرداری اور مےاں نواز شریف کا اس تبدیلی کی جانب تیزی سے سفر میں کلیدی رول ہے۔

پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) دونوں بڑی سےاسی جماعتیں گو کہ اقتدار میں ہیں، لیکن آصف علی زرداری نے اگر اپنی غلطیوں کے باوجود پانچ سال تک جمہوری حکومتوں کی موجودگی کو یقینی بنایا ہے اور سپریم کورٹ کے فیصلوں پر بالآخر سرنگوں کیا ہے تو میاں نواز شرےف کو بھی اس بات کا کریڈٹ نہ دینا زیادتی ہو گا ۔ انہوں نے بھی ماضی کی طرح کوئی ایسا قدم نہیں اٹھایا کہ جس سے جمہوریت کو نیقصان پہنچ سکی اور طالع آزما پھر سے جمہوریت کا بستر گول کرنے آن پہنچیں ۔

آج ہمیں سیاست دانوں سمیت عدلیہ کا بھی شکر گزار ہونا ہو گا، جس نے کمال جرات کے ساتھ عوام کو تبدیلی کا راستہ دکھانے پر بہت محنت کی ہے اور عوام کو اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کی جانب راغب کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔آج ملک پاکستان میں ”اسٹےٹس کو“ ٹو ٹ چکا ہے اور اب عوام کی باری ہے کہ اپنا فرض ادا کریں اور تبدیلی کا عمل پورا کریں۔عوام کو اپنے حقوق کا مطالبہ صرف سےاستدانوں سے ہی نہیں کرنا ہوتا ،بلکہ ” سٹےٹس کو“ کو ختم کرنے میں افسرشاہی کا خاتمہ کرنے کے لئے عوام کو بھی اپنا فرض ادا کرنا ہو گا۔ حقےقی تبدیلی ہی ” سٹےٹس کو“ ختم کر سکتی ہے اور حقیقی تبدیلی جمہوریت ہی میں پنہاں ہے۔    ٭

مزید :

کالم -