ڈینگی کا خاتمہ.... شہباز شریف کی محنت کا ثمریا معجزہ!

ڈینگی کا خاتمہ.... شہباز شریف کی محنت کا ثمریا معجزہ!

  



دنیا کے بیشترممالک میں ڈینگی کی وبا تیس سے چالیس سال پرانی ہے ۔ کئی ایسے ممالک ہیں جو ابھی تک اس وائرس پر قابو نہیں پا سکے، مگرپنجاب حکومت کی کارکردگی ملاحظہ ہوکہ ایک ہی سال میں ہی ڈینگی کو مار بھگایا۔ ڈینگی تدارک کے لئے اب تک کئے جانے والے اقدامات قابل ستائش ہیں۔ اخباری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس ڈینگی زدگان کی تعداد 17 ہزار 5 سو 42 تھی، جن میں سے 298 افراد انتقال کر گئے ۔اس سال مختلف ہسپتالوں میں صرف124 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے اور الحمد للہ کوئی موت واقع نہیں ہوئی ۔یہ ایک خوش آئند بات ہے ۔خادم اعلیٰ اور ان کی ٹیم کی شبانہ روز محنت سے آخر مچھر پر قابو پا لیا اور یہ کام مردانہ وار کیا گیا۔اب تک کئے گئے اقدامات میں سری لنکا کے ماہر ڈاکٹروں کی پنجاب آمد اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوششیں، پاکستانی ڈاکٹروں اور عملے کی تربیت کے لئے تھائی لینڈ کے سینئر سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر مشترکہ کاوشیں، ڈینگی سکواڈ کا قیام، فری ڈینگی کٹس کی تقسیم، آگاہی سیمینار، مذاکرے، ٹی وی پروگرام، ڈاکومنٹری فلموں کی نمائش، درجنوں سکولوں کے ہزاروں بچوں کو ڈرامہ عینک والا جن کے جادو گروں اور جنوں کی مدد سے ڈینگی سے حفاظتی اقداما ت، اس سے بچا¶ کے طریقے، ڈینگی واک، حفاظتی تدابیر اختیار نہ کرنے والے درجنوں ٹائر شاپس مالکان ، ہوٹلوں اور کئی فیکٹریوں میں لاروے کی افزائش اور موجودگی پر مقدمات کا اندارج پنجاب حکومت کے اہم اقدامات ہیں جو کسی طرح بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کم نہیں تھے ۔ اتنے زبردست اقدامات اپنی جگہ ،لیکن اس کے برعکس وہ انتظامات جو اس کے ساتھ ازحد ضروری تھے، ان کی طرف کسی کی توجہ نہیں گئی، اگر وہ بھی کر لئے جاتے تو شاید اس سال جو ڈینگی مریضوں کی تعداد سینکڑوں میں چلی گئی ہے انشاءاللہ آئندہ یہ نہ ہونے کے برابر ہو گی یا مستقل طو رپر ختم بھی ہو سکتی ہے ۔

 و ہ اقدامات جن پر توجہ نہیں دی گئی، ان میں سر فہرست بازاروں میں مچھر مارنے والے وہ سپرے ہیں، جن کی قیمت نوے روپے سے بڑھ کر چار سو پچاس روپے تک جاپہنچی ہے، اسی طرح جسم کے کھلے حصوں پر لگانے والا لوشن بھی سوروپے سے بڑھ کردو سوروپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اس طرح کوائل میٹ اور مچھر دانیوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہیں ،بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ مافیازڈینگی کی آڑ میں گزشتہ سال اتنی دولت کما چکے ہیں کہ اس سال بھی ناجائز دولت کمانے کے خواب دیکھ رہے ہیں ۔ لیبارٹریوں، ہسپتالوں ، ڈاکٹروں ، مچھر مار سپرے اور ادویات بنانے والوں کی ہر ممکن کوشش اور دعا ہے کہ یہ وبا پھر سر اٹھائے، لوگ خوفزدہ ہو ں اور اپنی جانیں بچانے کے لئے منہ مانگی قیمت لیبارٹریوں اور ڈاکٹروں کو ادا کریں۔ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ڈاکٹروں اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ایک مخصوص گروہ نے عوام میں ڈینگی کے بارے میں خوف و ہراس پیدا کیا ۔ اگر دیکھاجائے تو دل کے مریضوں کی تعداد بھی کسی سے کم نہیں ،مگر اس میں خوف کا عنصر شامل نہیں ،اس لئے کہ ہارٹ اٹیک کے بعد کارڈیالوجی یا دیگر تمام ہسپتالوں میںدل کے امراض کا مکمل علاج موجود ہے ۔ بائی پاس ہو یا انجیو گرافی پیس میکر لگانا ہو یا ای ٹی ٹی ہرمرض کا علاج آسانی سے ہو جاتا۔ دل کے دورے سے مرنے والے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے ،جبکہ ڈینگی کے مرض سے مرنے والوں کی تعداد نہایت کم ہے۔

 مختلف چینلوں پر خبروں ، مذاکروں ، ٹاک شوز یا پرنٹ میڈیا میں یہ تو شائع ہو جاتاہے کہ ہسپتالوں میں آنے والے ڈینگی کے مریضوں کی تعدادمسلسل بڑھ رہی ہے، یہ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ شرح اموات نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہسپتالوں میں آنے والے ڈینگی کے تمام مریض بفضل تعالیٰ صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام میں تشہیری مہم کے ذریعے خوف کا عنصر ختم کیا جائے ۔ ہسپتالوں میں آنے والے ہر مریض کا پوری توجہ سے علاج کیا جائے ۔ ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈز میں تمام ادویات اورٹیسٹ بالکل مفت کئے جائیں ۔ مریض اس اعتماد کے ساتھ ہسپتال میں آئے کہ یہ مرض کوئی جان لیوا نہیں ہے، وہ ہسپتال سے یقینا صحت مند ہو کر گھر جائے گا۔ مریض کا خون حاصل کرنے کے بعدپلیٹ لیٹس یا دیگر رپورٹس فوری طور پر فراہم کر دی جائیں ۔ مریض کو آٹھ یا دس دن کا وقت نہ دیا جائے،بلکہ فوری علاج شروع کر دیا جائے۔ مریضوں کے لواحقین کو خوف زدہ نہ کیا جائے، بازار سے ادویات کے حصول کے لئے خوار نہ ہونا پڑے، اگر یہ سب کچھ ہو جائے تو ڈینگی کا خوف کوئی خوف نہیں ہے۔

اب آتے ہیں اصل حل کی طرف ....گزشتہ برس ہر بڑے سرمایہ دار ، سیاستدان ، بیوروکریٹس یا اعلیٰ افسر نے ڈینگی کے خوف سے ضلعی انتظامیہ پر سپرے اور فوگنگ کا بے حد دبا¶ ڈالا، ڈینگی سکواڈ کی گاڑیاں سارا دن پٹرول پھونکتی وی آئی پیز کی کوٹھیوں میں ڈیوٹیاں سرانجام دیتی رہیں، یوں متوسط اور غریب طبقہ احساس کمتری کا شکار ہوتا رہا۔ یا ہی اچھا ہو خادم اعلیٰ جگہ جگہ سیل پوائنٹ قائم کر دیں، موبائل ٹیمیں تشکیل دیں، جو ڈینگی مار سپرے دو سال قبل کی قیمتوں میں فروخت ہو رہے تھے،حکومتی سبسڈی کے ساتھ نہایت ارزاں نرخوں پر فروخت کئے جائیں۔ اسی طرح کوائل اور مچھر مارادویات کی آسمانوں سے باتیں کرتی قیمتوں پر کنٹرول کیا جائے۔ فارما سیوٹیکل کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ قیمتیں 4سال قبل کی سطح پر لائیں ۔ وہ دکھی اور خوفزدہ عوام کو دونوں نہیں ،بلکہ چاروں ہاتھوں سے لوٹ کر ارب پتی بنتے جارہے ہیں۔ وہ صرف کمائی کرناچاہتے ہیں۔ سچے دل سے حکومتی کاوشوں میں اپنا کردار اد انہیں کررہے۔ خادم اعلیٰ نے گزشتہ برس جس طرح پینا ڈول کی ارزاں دستیابی اور ڈینگی ٹیسٹ سی بی سی کی قیمت 90روپے مقرر کر کے غریب مریضوں کی دعائیں حاصل کی ہیں، لگے ہاتھوں یہ کام بھی کرتے چلیں کہ شہر میں جگہ جگہ سیل پوائنٹ قائم کر کے نہایت ارزاں قیمتوں پر سپرے اور فوگنک کا سامان فروخت کیا جائے، تاکہ ہر گھر کا سربراہ وہ خرید کر گھر میں سپرے کرے۔

 اگر مہینے میں دو بار بھی مچھر مار سپرے ہو جائے تو گھر ڈینگی لاروے کی افزائش اور مچھروں کی پرورش سے محفوظ ہو جائے گا، یوں ہر فرد اپنے طور پر وزیراعلیٰ کی مچھر مار مہم میں شامل ہو جائے گا،جسے اپنے ہاتھ سے کئے ہوئے سپرے پر اعتماد اور یقین بھی ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں یا ڈرگ انسپکٹروں کو خصوصی اختیارات دئیے جائیں جو ڈینگی سے متعلقہ ادویات بلیک یا مہنگی فروخت کرنے ، ذخیرہ کرنے ، دونمبر ادویات یا سپرے تیار کرنے والوں کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں۔ ان اقدامات سے امید واثق ہے کہ آئندہ برس پنجاب میں نہ صرف ڈینگی کا خوف ختم ہو جائے گا ،بلکہ اس سے شرح اموات زیر و فیصد تک آ جائیں گی۔ سکولوں میں لگائے جانے والے نعرے بھی ”تھوڑی سی احتیاط ڈینگی سے نجات.... ڈینگی سے ڈرنا نہیں، لڑنا ہے “۔ ڈینگی قابل علاج مرض ہے، نہایت فائدہ مندثابت ہو رہے ہیں۔ لمبے چوڑے مذاکروں تقریروں اور ڈاکومنٹری فلموں کی نمائش کی بجائے یہ فقرے انقلابی تبدیلیاں لاسکتے ہیں، ان کو زبان زد عام کیاجائے، یہی علاج ہے، یہی شفاءہے۔ گزشتہ برس جو ممالک ہمیں تربیت دینے آ رہے تھے، آج وہ ہم سے مشورے مانگ رہے ہیں کہ وزیر اعلی صاحب یہ فرمائیے ڈینگی پر یہ کنٹرول واقعی آپ کی محنت کا ثمر ہے یا کوئی معجزہ ہے۔  ٭

مزید : کالم