عمران خان اور ان کی تحریک انصاف

عمران خان اور ان کی تحریک انصاف
عمران خان اور ان کی تحریک انصاف

  

پاکستان کے سیاسی منظر پر آج سب سے زیادہ دلچسپی اور بحث کا موضوع عمران خان اور ان کی تحریک انصاف ہے ۔ ان کے حامی اگلے سال کے موسم بہار میں ایک نئی بہار پر یقین رکھتے ہیں ان کے مخالف ان کو خاص اہمیت دینے پر تیار نہیں کیونکہ ان کے نزدیک ناتجربہ کار عمران خان چند شہری حلقوں میں نواز لیگ کے امیدواروں کے ووٹوں میں چند ہزار کی کمی کردیں گے اور بس ...... لبرل حلقے عمران کو اس لیے ناپسند کرتے ہیں کہ وہ بنیاد پرستوں کو اس بے رحمی سے مار دینے کے حامی نہیں ہیں جس بے رحمی سے بنیاد پرست اپنے مخالفین کو کچلتے ہیں ۔ جو لوگ کسی سیاسی جماعت کے اندھا دھند پیروکار نہیں ہیں وہ خاموشی سے حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور صبح شروع ہونے سے پہلے ٹیموں کو نیٹ پریکٹس کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں ان تمام مکاتب فکر کی سب سے زیادہ توجہ تحریک انصاف پر ہے کیونکہ دیگر بڑی جماعتوں کی سیاسی قوت ، سیاسی نظریات اور کارکردگی عوام کے سامنے ہے ، جبکہ عمران خان اور ان کی جماعت بیشتر لوگوں کے نزدیک ایک معمہ ہے ۔

 دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ سال ہا سال سے کام کرنیوالے نظریاتی لوگوں کی بڑی تعداد بھی ان سے ناخوش ہے ،کیونکہ ان کے بقول عمران اپنے اصل نظر یے سے ہٹ کر پرانے گھاگ سیاستدانوں کے نرغے میں پھنس چکے ہیں یہی ناراضگی لے کر محترمہ شیریں مزاری نے پارٹی کو چھوڑ دیا ۔ میں ذاتی طور پر کئی اور صاحبان کو بھی جانتا ہوں جو کنارے پر بیٹھے ہیں ۔ دوسری طرف خواجہ ہوتی گوجر نوالہ کے بھنڈر اور سرگودہا کے لک صاحبان ہیں جنہوں نے پارٹی اس لیے چھوڑی کہ عمران خان نے ان عشروں کے تجربہ کار سیاستدانوں کو وہ پذیرائی نہ بخشی جو ان کا حق تھا اور عمران کے نزدیک نہ تجربہ کار پارٹی کارکن ہمارے لیے زیادہ اہم ہیں ۔ میں ان درجنوں سینئر سیاستدانوں ، سابقہ ارکان اسمبلی ، سابق وزراءکو جانتا ہوں جو ابھی تک پارٹی میں کھڑے ہیں لیکن چیئرمین کے رویے سے خوش نہیں ہیں ۔سیاسیات کے طالبعلم کیلئے یہ انتہائی دلچسپ موضوع ہے کہ عمران خان دراصل کون ہےں ، ان کی سوچ کیا ہے کیا ان کو پاکستان کے زمینی حقائق کا علم نہیں ہے یا ان کو روایتی سیاست کے داﺅ پیچ کے متعلق مشورہ دستیاب نہیں ہے ۔ کیا وہ پرانے سیاستدانوں کو دور کرکے نئے چہروں کو میدان میں اتارکر میچ کھیلیں گے یا کوشش کرینگے کہ ہر حلقہ کے اول یا دوئم نمبر کے سیاستدانوں کو ملا کر الیکشن میں حصہ لیں گے ۔

 کیا ان کو علم نہیں ہے کہ آج پاکستان کے معاشرے میں اقدار اور وطن سے محبت کے جذبات کی وہ شدت نہیں ہے جو 1970 میں تھی کیونکہ اس وقت وہ نسل موجود تھی جس نے پاکستان کو وجود میں آتے ہوئے دیکھا تھا اور اس وقت معاشرہ میں خود غرضی اس سطح پر نہیں تھی جہاں پہنچی ہوئی ہے کیا انہیں علم نہیں کہ معاشرے کے اندر ووٹ دینے کے معیارات کیا ہےں ، خوشی ، غمی میں شرکت ، نوکریوں کی بندر بانٹ ، ایف آئی آر کے اندراج و تفتیش کے رخ کا تعین ، محکمہ مال ، تعلیم ، صحت ، زراعت ، خوراک انہار میں سیاسی آڑھتیوں کی ضرورت اور عام آدمی کی ان لوگوں کی غلامی کیایہ اتنی پیچیدہ چیزیں ہیں کہ عمران خان اس عمل کو سمجھنے سے قاصر ہیں ؟مانا کہ کرکٹ دور تک وہ بابو طبقے کے فرد تھے لیکن کیا پچھلے سولہ سالوں سے انہوں نے معاشرتی اور سیاسی عمل کے متعلق کچھ نہیں سیکھا جبکہ انہوں نے اس دور میں بے تحاشا مطالعہ پاکستان اور پاکستان کے طول وعرض میں کروڑوں نہیں تو لاکھوں لوگوں سے بالمشافہ ملاقاتیں کیں ۔ پھر مسئلہ کیا ہے کہ ان کے ساتھ ماضی سے چلے آرہے پرانے ساتھی بھی ناخوش ہیں اور گذشتہ ایک سال میں ان کی پارٹی میں آنیوالے بھاری بھر کم سیاستدان بھی مطمئن نہیں۔

 یہ ایسی صورتحال ہے جس سے مجھے کیوبا کے سابق مرد آین فیڈل کا سترو کی زندگی یاد آرہی ہے ۔ لاطینی امریکہ کے نہایت چھوٹے سے ملک کیوبا کی دنیا بھر میں پہچان کا سب سے بڑا ذریعہ فیڈل کا سترو کی شخصیت ہے ۔ میں یہاں پر فیڈل کے نظریات کے میرٹ یا ان کی خوبیوں اور خامیوں پر یا ان کی کیوبا کیلئے خدمات پر بحث نہیں کرنا چاہتا بلکہ 1959سے لیکر جولائی 2006 تک اس ملک پر بلا شرکت حکمرانی کرنیوالے کا سترو کی نظریاتی ایچ اور اس میں اس طویل عرصے کے دوران آنے والے اتار چڑھاﺅ کے متعلق اور اس کی عمران خان کے نظریات سے مماثلت کے حوالہ سے بات کرنا چاہتا ہوں ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ 1959 سے قبل کا سترو کے پیشرو حکمران بیٹسٹا کےخلاف سیاسی اور عسکری جدوجہد کرتے ہوئے ایسے لمحات بھی آئے کہ کاسترو کے سوا ان کے تمام ساتھی قتل ہوگئے ۔ یکم جنوری 1959 کو کاسترو کے صرف 800 مسلح ساتھیوں نے کیوبا کی تیس ہزار فوج کو شکست دی ۔

 یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا کہ کاسترو نے اپنی جدوجہد کے دوران ایک مرحلے پر خود کش حملہ آوروں کا پورا جتھا تیار کیا جو حکومت کی ملٹری تنصبات اور چھاﺅنیوں پر خود کش حملے کیا کرتا تھا ۔ کاسترو پر ہمیشہ نظریات سے انحراف کا الزام لگا کرتا تھا ۔ کمیونسٹ ان پر نظریات سے دور ہونے اور ریفار مسٹ ان پر کمیونسٹ نظریات سے چمٹے رہنے کا الزام لگایا کرتے تھے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ 47 سال تک دھڑلے سے حکمرانی کرنیوالے کاسترونے اس عرصہ میں اپنے سب سے بڑے دشمن امریکہ کے درجنوں صدور بھگتا دیے ، سوویت یونین کے عروج سے لیکر اس کے انہدام تک کوئی اہم ترین بین الاقوامی تبدیلی ان کے راج کو کمزور نہ کرسکی ۔ چھیاسی برس کا بابا آج بھی بھائی کو اقتدار منتقل کرکے موج کی زندگی گزار رہا ہے ۔واپس عمران خان کی طرف آتے ہیں ۔ عمران کے پرانے ساتھی بھی ناخوش اور بھاری بھر کم سیاستدان بھی غیر مطمئن ،کیا پرابلم عمران خان میں ہے یا ان لوگوں میں۔

 میرے الفاظ سے یہ مراد نہ لی جائے کہ پرانے یا نئے لوگوں میں سے ہر ایک عمران سے ناراض ہے ، ایسے نئے اور پرانے یا نئے لوگوں کی تعداد کم نہیں ہے جنہوں نے خود کو لیڈر کے نظریات میں ڈھال کر کمٹڈ پارٹی ورکر بنا لیا ہے ، عمران سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو موجودہ حالات سے نکالنے کیلئے ایک باصلاحیت اور وطن سے محبت کرنیوالی ٹیم کی ضرورت ہے ۔میری رائے میں ان کی کسی شخصیت کی پذیرائی کا معیار صرف اور صرف ان کی شخصیت کی حب الوطنی اور ملک کیلئے کام کرنے کی صلاحیت ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ وسیم اکرم ، انضمام الحق اور سعید انور جیسے عظیم کھلاڑیوں کو کپتان نے کسی سفارش یا ماضی کی پرفارمنس کے بل بوتے پر کھلایا ۔ اس نے ان نوجوانوں کے اندر ٹیلنٹ کی چمک دیکھی اور پھر دنیانے دیکھا کہ ان کھلاڑیوں نے کیا کارکردگی دکھائی ، شوکت خاتم ہسپتال کی ٹیم کے اندر باصلاحیت منتظمین اور قابل اور ہمدرد میڈیکل پروفشنلز نے ہسپتال کو ملک کا قابل فخر ادارہ بنا دیا ہے ۔ سال ہا سال سے عمران خان کو لوگ سن اور پڑھ رہے ہیں لیکن اگر کوئی واقعی انہیں جاننا چاہتا ہے تو اکتوبر کے آخری ہفتے میں لاہور میں نوجوانوں میں سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی تقریب سے ان کا پندرہ منٹ کا خطاب سن لے ، آپ کو عمران خان کا حقیقی چہرہ نظر آ جائیگا ، وہ تقریر انٹر نیٹ پر مشہور سیاسی ویب سائٹس پر دستیاب ہے مجھے لگتا ہے کہ اب وہ کھل رہے ہیں ، امریکہ سے واپسی پر اسلام آباد ائیر پورٹ پر ان کے لبوں سے بھید کھل گیا ، کہا میرا کیا ہے ، میں تو ملنگ آدمی ہوں ، دکھ یہ ہے کہ امریکیوں نے ایک پاکستانی کے ساتھ مشتبوں والا سلوک کیا اور حکومت پاکستان خاموش رہی ۔

میانوالی جلسہ میں تقریر کا نصف حصہ فلسفہ توحید بیان کرنے میں صرف کردیا ،ایک ایسے وقت میں جب ہر مالدار آدمی نے کئی مسلح گارڈز رکھے ہوئے ہیں عمران خان کے ارد گرد بندوقوں اور پستولوں کی ایک جھلک تک نہیں ملتی۔مخلص دوست اور فیملی احتیاط کے مشورے دے دے کر تھک گئی لیکن نتیجہ صفر .... یہ بے خوفی کی انتہا ، یہ سکون ، یہ لاپرواہی ،یہ عدم توجہی ، یہ کیا ہے ، کیوں ہے ؟مجمع دوسو کاہو یا چار لاکھ کا ، کیمرہ کسی چھوٹے چینل کا ہو یا سی این این ، بی بی سی کا انٹرویو کرنیوالا عرب ہو یا بھارتی ، امریکی ہو یا پاکستانی ، سب کچھ وہی ہوگا ، وہی خیالات ، وہی الفاظ ، وہی نظریات ، پارٹی میٹنگ ہو یا کھانے کی میز ، ڈرائینگ روم ہو یا لاکھوں کا جلسہ ، وہی مزہ ، وہی انداز ، وہی اسلوب ، وہی بے تکلفی ...... دور کی کوڑی لانے والوں کا اصرار ہے کہ پاکستان میں امریکہ اور آرمی کے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا کئی لوگ تو مہینہ اور سال بھی بتاتے ہیں جب امریکہ نے ان کو اگلی بار کیلئے ٬٬اوکے ،، کیا تھا ۔ کئی لوگ جنرل (ر) پاشا کی ٬٬حب العمرانی ،، کے نظریے سے باہر نکلنے پر تیار نہیں ۔ یہ درست ہے کہ کوئی ہو شمند پاکستان امریکہ کے دشمن ہونے کا نعرہ بلند نہیں کرسکتا ، عمران بھی نہیں ہے کہ لیکن امریکہ کی تابع فرمانی کا عملی ثبوت مہیا کرنے والے سیاسی راہنماﺅں کے ہوتے ہوئے اگر امریکہ نے عمران کو ٬٬اوکے ،، کیا ہے تو پھر یا تو میری سفارتی اور بین الاقوامی سیاست کا علم صفر ہے یا امریکہ والوں کی مت ماری جاچکی ہے ۔

 ایسے وقت میں جب ماضی کے فوجی بادشاہ آج کل بائیس چوبیس سالہ نوجوان ٹی وی اینکرز کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوئے ہیں کیاواقعی فوج بھی آئندہ سیاست کا رخ متعین کرنے کی اہلیت رکھتی ہے ۔ میرا خیال ہے کہ اس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں ہے ۔وقت بدل چکا ہے ....... جواب بھی یہ سمجھتا ہے کہ تین درجن ٹی وی کیمرے ، فعال عدالتوں اور متحرک سول سوسائٹی کے ہوتے ہوئے سیاسی نقشوں کی لکریں اسلام آباد کے ڈرائینگ رومز میں کھینچی جائیںگی تو ایسی سوچ رکھنے والوں کو صرف ٬٬سلام ،، ہی پیش کیا جاسکتا ہے کاش ہم یہ سمجھ سکیں کہ ٹرپل اے کا سب سے پہلا لفظ اﷲ ،،ہے تدبیروں والوں کی بہت چلی ،اگر قوم صدق دل سے اجتماعی گناہوں پر تائب ہو تو یقین رکھیں کہ اﷲ کے ڈیزائین مکمل ہیں بعض لمحات تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں ، مارچ 2007 میں وقت کے بادشاہوں کے سامنے ایک عام سے آدمی کا حرف انکار .... خود اس آدمی سے پوچھ لیجئے کیا وہ لمحہ موجود تھا کہ پہلے سے طے شدہ عزم ....... قدرت نے جب کام لینا ہوتا ہے تو اردو زبان سے ناآشنا کمزور سا شہری بابو برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کے دلوں کے تار ہلا دیتا ہے اور پاکستان بن جاتا ہے ۔ اس مرتبہ گاڑی کسی کی ہوگی ، بریانی کسی اور کے کیمپ سے کھائیں گے اور مہر .....بیلٹ پیپر پر مہر کس خانے پر لگے گی ...؟کیا وہ عمل ہمارے لیے بس میں ہوگا ؟ اس مرتبہ شاید نہیں ۔شاید ہماری توبہ قبول ہونے کا وقت آگیا ہے ۔     ٭

مزید :

کالم -