احمد سلیم کی ناقص تحقیق:”گجرات پیڈیا“

احمد سلیم کی ناقص تحقیق:”گجرات پیڈیا“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گجرات یونیورسٹی نے2010ءمیں ضلع گجرات کی تاریخ لکھوانے کے لئے اردو اور پنجابی کے ممتاز لکھاری جناب احمد سلیم کی خدمات حاصل کیں۔ ڈاکٹر امجد علی بھٹی کو ان کاریسرچ اسسٹنٹ مقرر کیا گیا۔ اس ریسرچ ورک پر ریویو کے لئے ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں آیا، جس کے اراکین میں سید شبیر حسین شاہ، شیخ عبدالرشید، ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ، ڈاکٹر اظہر محمود چودھری، عارف علی میر ایڈووکیٹ اور ڈاکٹر ممتاز احمد ایسے اصحاب علم و دانش کے اسمائے گرامی شامل تھے۔ مجھے گجرات سے جو محبت ہے اس کے تحت مَیں نے احمد سلیم سے کہا: گجرات کے حوالے سے مَیں کچھ نہ کچھ مواد جمع کرتا رہا ہوں، اگر وہ آپ لوگوں کے کام آ جائے تو مجھے خوشی ہو گی، چنانچہ وہ میرے غریب خانے پر تشریف لائے اور دس کتابیں لے گئے۔
معلوم ہوا کہ روائتی قسم کی تاریخ لکھنے کے بجائے گجرات پر انسائیکلو پیڈیا طرز کی کتاب”گجرات پیڈیا“ کے عنوان سے تیار کی جا رہی ہے۔2012ءمیں مذکورہ ریسرچ ورک کی پہلی جلد (صفحات590:) شائع ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ باقی دو جلدوں کا لوازمہ بھی تیار ہو چکا ہے۔ پہلی جلد عمدہ گیٹ اپ پر چھپی تھی، بظاہر کچھ معقول طرز ہی کی کتاب لگی، لیکن بغور مطالعہ سے حیرت ہوئی اور پریشانی بھی۔
حیرت ان فاضل مرتبین پر آئی کہ جنہوں نے معلوم نہیں کیسے یہ سمجھ لیا کہ کون چھان پھٹک کرے گا، جو پیش کر دیں گے، اس پر داد کے ڈونگرے ہی برسیں گے۔ پریشانی اس حوالے سے لاحق ہوئی کہ مستقبل کا مو¿رخ اس کتاب کے مندرجات کو اپنی تحقیق کا ماخذ بنائے گا تو اس کا لکھا کتنا بااعتبار ہو گا۔امجد علی بھٹی کے بارے میں تو کوئی بڑی خوش فہمی نہ تھی، کیونکہ انہوں نے چند سال پہلے ڈکٹر راما کرشنا لاجونتی کی انگریزی کتاب ”پنجابی صوفی پوئٹس“ کو اردو میں منتقل کرتے ہوئے جس ”لیاقت“ کا ثبوت دیا تھا اس پر مجھے باقاعدہ کالم لکھ کر علمی برادری کو بتانا پڑا تھا کہ علمی دنیا میں اب کیا گُل کھلائے جا رہے ہیں۔
امید تو احمد سلیم سے تھی کہ وہ کوئی ڈھنگ کا کام کر دیں گے، آخر سو کے لگ بھگ کتابوں کے مصنف اور مرتب ہیں۔ ”گجرات پیڈیا“ کے مندرجات کے حسن و قُبح کی ذمہ داری بہرحال انہی پر عائد ہوتی ہے، لیکن انہوں نے جس لاپروائی اور غفلت کا ثبوت دیا ہے وہ افسوسناک ہے۔ مجھ سے جو دس کتابیں لے گئے تھے ان میں سے صرف پانچ مجھے موصول ہوئیں اور وہ بھی بار بار کی یاد دہانیوں کے بعد۔ باقی پانچ کی واپسی کا وعدہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہنوز وعدہ، وعدہ ہی ہے۔ کتابوں کا صدمہ تو کوئی بڑا صدمہ نہیں،اصل صدمہ تو کام کے غیر معیاری ہونے کا ہے۔ کئی حلقوں کی طرف سے جب اعتراضات سامنے آئے تو یونیورسٹی انتظامیہ نے باقی دو جلدیں شائع کرنے کا پروگرام معرضِ التوا میں ڈال دیا۔ باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی نے اس ”علمی خدمت“ کے صلے میں فاضل مرتبین کو14لاکھ روپے ادا کئے ہیں۔

کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ ”پیڈیا“ کی وہ ساری کمیاں بیشیاں معرضِ بحث میں لائی جائیں، جن کی وجہ سے سارے کام کا اعتبار ساقط ہو گیا ہے۔ البتہ چند کا ذکر قارئین کی نذر کیا جاتا ہے۔
اہل ِ علم جانتے ہیں کہ رئیس الاحرار حضرت سید عطاءاللہ شاہ بخاری ؒ گجرات شہر کے ایک نزدیکی گاﺅں ناگڑیاں کے رہنے والے تھے۔ تحریک آزادی کے حوالے سے اُن کی خدمات ہماری ملی تاریخ کا ایک تابناک باب ہیں۔ ان کی شخصیت گویا گجرات کے ماتھے کا جھومر ہے۔ اس عظیم رہنما پر گجرات پیڈیا میں ایک کالم لکھا گیا ہے وہ اتنا سطحی اور سوقیانہ ہے کہ اس پر مرتبین کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لکھتے ہیں:
”ضلع گجرات کے گاﺅں ناگریاں سے تعلق رکھنے والے مولوی عطاءاللہ شاہ کی قوم سید بخاری تھی۔ ان کے والد کا نام ضیاءاللہ شاہ تھا۔ اس خاندان کا آبائی علاقہ کشمیر تھا۔ عطاءاللہ نے اپنی زندگی کے ابتدائی21سال پٹنہ میں اپنے نانا کے ساتھ گزارے، جہاں انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں وہ امرتسر چلے گئے اور وہاں مدرسہ نعمانیہ کے مولوی غلام مصطفی سے اپنی مذہبی تعلیم جاری رکھی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ پرانا جیل خانہ کوچہ میں امام مسجد بن گئے۔ عطاءاللہ کا پہلے پہل سیاسی کردار تحریک خلافت کے دوران سامنے آیا۔ ان کا جوش خطابت بہت بڑا سیاسی ہتھیار تھا اور وہ خطرناک اور عوامی جذبات بھڑ کانے کی صلاحیت رکھنے والے مقرر کی حیثیت سے معروف ہوئے۔اس وقت کی فرنگی حکومت کی نظر میں ان کی برطانوی راج مخالف جوشیلی تقریریں ہندوستانی مسلمانوں میں برطانوی راج کے خلاف مزاحمت کا نیا ولولہ ابھارنے کا ذریعہ سمجھی جاتی تھیں۔ انہیں ان تقاریر پر حکومت برطانوی ہند کی طرف سے کئی بار خبردار کیا گیا اور پہلی بار انہیں بندے ماترم ہال امرتسر میں خلافت کے معاملے پر برطانوی راج مخالف تقریر کرنے پر سخت وارننگ دی گئی۔ وہ خلافت کے معاملے پر عوامی ہڑتالوں میں سرگرم کردار ادا کرتے رہے۔ انہوں نے حکومت ِ وقت کی بار بار وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے نہ صرف امرتسر میں خلافت کی حمایت اور برطانوی راج کی مخالفت میں تقاریر کا سلسلہ جاری رکھا، بلکہ دوسرے اہم سیاسی مراکز کا بھی دورہ کر کے خطاب کیا اور حکومت ِ برطانیہ اور حکام کے خلاف کھلم کھلا موقف کا اظہار شروع کر دیا۔ دسمبر1920ءمیں وہ گجرات آ گئے اور یہاں مسلم نیشنل ہائی سکول قائم کیا۔1921ءمیں خیر الدین مسجد امرتسر میں برطانوی راج کے خلاف جوشیلی تقریر پر اُن کے خلاف انڈین پینل کوڈ کی دفعہ124کے تحت مقدمہ قائم ہوا اور انہیں تین سال اور تین ماہ قید کی دو الگ الگ سزائیں سنائی گئیں۔
(Punjab political who is who: Superintendent govt of Punjab)
(ص 218-219:)

اس نوٹ کا عنوان ہے:”مولوی سید عطاءاللہ شاہ بخاری“۔ گویا کسی گلی محلے کے مولوی صاحب پر نوٹ لکھا جا رہا ہے۔ شاہ صاحب پر اب تک سینکڑوں مضامین اور کتابیں لکھی گئی ہیں، چنانچہ ان کی تاریخ پیدائش و وفات اور ان کی زندگی کے دیگر کوائف کا حصول بہت آسان تھا، لیکن نوٹ لکھنے والے نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی۔ شاہ صاحب کی زندگی کا بڑا حصہ انگریز حکومت کی جیلوں میں گزر گیا، لیکن نوٹ لکھنے والے کا کہنا ہے کہ حکومت انہیں وارننگ ہی دیتی رہتی تھی، البتہ ایک دفعہ انہیں تین سال اور تین ماہ کی قید کی سزا سنا دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معلومات کا جو ماخذ بتایا ہے اس نام کی کوئی کتاب ہی دنیا میں موجود نہیں۔ شاہ صاحب کے والد کا نام ضیاءاللہ شاہ نہیں، سید ضیاءالدین تھا۔ سکول کا نام بھی غلط لکھا ہے۔کتاب کے فاضل مرتبین نے شاہ صاحب کو تو آدھے پونے کالم پر ٹرخا دیا ہے، لیکن گجرات یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے بارے میں چار صفحات قلمبند کئے ہیں۔ ظاہر ہے جس شخص کے قلم سے لاکھوں روپے کے چیک جاری ہونے تھے اس کی خوشامد تو از بس ضروری تھی۔
قیام پاکستان کی تحریک کا آغاز قرارداد پاکستان (مارچ1940ئ) کی منظوری کے بعد ہوا اور 14اگست کو مسلمانان برصغیر نے اپنے خواب کی تعبیر پاکستان کی صورت میں پا لی۔ ماضی ¿ قریب کی اس شاندار جدوجہد میں اہلِ گجرات بھی پوری طرح شریک تھے۔ اس حوالے سے معلومات کا حصول کوئی ایسا مشکل کام نہ تھا لیکن ”پیڈیا“ کے فاضل محققین نے محنت سے اس حد تک پہلو تہی کی کہ گجرات ہی کے ایک صاحب ِ علم شخصیت جناب عارف علی میر ایڈووکیٹ نے اس اعتبار سے زبردست شکوہ کیا ہے، لکھتے ہیں:
”گجرت اور تاریخ آزادی کے حوالے سے جس قدر جامع اور تفصیلاً معلومات کے فراہم کئے جانے کا گجرات پیڈیا کی ذمہ داری تھا، وہ پذیرائی اس موضوع کو نہ مل سکی، شاید آئندہ کی جلدوں میں اس موضوع کو پذیرائی ہو سکے۔ گجرات اور تحریک آزادی کے تحت بالخصوص تحریک مسلم لیگ و دیگر سیاسی جماعتوں و شخصیات کے عملی کردار پر معلومات نہ ہونے کے برابر ہیں.... راقم ممبر ریویو کمیٹی برائے گجرات پیڈیا ہونے کی حیثیت سے اس کمی اور معلومات کی کم فراہمی کا ذمہ داری اس بناءپر نہیں ہو سکتا کہ ہمارے ادارہ المیر ٹرسٹ لائبریری و مرکز ِ تحقیق و تالیف کی جانب سے کتابوں کی بوریاں ہر دو نامور محققین (احمد سلیم اور ڈاکٹر امجد علی بھٹی) کو برائے حوالہ جات مہیا کی گئی تھیں جس کا اقرار ہر دو نامور سکالرز نے پیڈیا کے مقدمہ میں بھی کیا ہے۔
(”تحریک آزادی اور گجرات“ص241:)
گجرات پیڈیا کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ اس میں اکثر و بیشتر شخصیات کی تواریخ پیدائش و وفات نہیں دی گئیں۔ اگر وہ شخصیات صدیوں کے فاصلے پر ہوں تو مانا جا سکتا ہے کہ ایسی کمی بیشی کا کوئی درمان نہیں، لیکن اگر وہ پچھلی صدی کی نہایت معروف قومی شخصیات ہوں تو پھر بھی ان کے کوائف زندگی پیش کرنے کے لئے تحقیق نہ کی جائے تو بہت افسوس کی بات ہے۔
کمال کی بات یہ ہے کہ سروس انڈسٹریز کے چیئرمین احمد سعید چودھری جو ماشاءاللہ حیات ہیں، ایک تو ان کا نام محمد سعید چودھری درج کر دیا ہے اور دوسرے نہایت اہتمام سے ان کی تاریخ وفات بھی بتا دی ہے۔
عصر حاضر کے مو¿رخین کو خبر ہونی چاہئے کہ تاریخ رقم کرنے کا یہ ایک بالکل ”نواں نکور“ اسلوب دریافت ہوا ہے!

مزید :

کالم -