لکیر پیٹنا بند کریں

لکیر پیٹنا بند کریں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

ایسے حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ لوگوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا ہے۔ عام لوگوں کی بات چھوڑیں، خاص لوگوں کی عقل پر بھی پردہ پڑ گیا ہے۔ خوفزدہ، ہراساں، حیران، پریشان لوگ دم بخود ہیں کہ ملک میں آخر ہو کیا رہا ہے؟ پاکستان اور بھارت کی سرحد واہگہ پر ہونے والا دھماکہ اپنی نوعیت میں پہلا نہیں تھا۔ کراچی، کوئٹہ، پشاور اور لاہور بار بار نشانہ بنائے جارہے ہیں، حکومت اور پولیس ہے کہ عوام دشمن عناصر کو تلاش ہی کرتی رہ جاتی ہے۔ سوائے دقیانوسی، گھسے پٹے بیانات کے عوام کے ہاتھ کچھ نہیں آتا۔ ایک سے بڑھ کر ایک ایجنسی ہیں، بجٹ کی خطیر رقم ان پر خرچ کی جاتی ہے، لیکن ان کی کارکردگی آنسو بہانے کے سواکچھ اور نہیں۔ پورے ملک میں نظر دوڑائیں، ہر طرف ایک ایسی صورت حال نظر آئے گی جسے کسی بھی حال میں اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بیماریاں، عجیب عجیب نام کے وائرس اور دہشت گردی کی وجہ سے دہشت زدہ عوام کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ حکمران طبقہ ہو یا حکمران، اراکین قومی ا سمبلی ہوں یا صوبائی اسمبلی یا سینٹ، عام لوگوں کے حالات سے ایسے لاتعلق ہیں کہ کچھ بھی ہوجائے ،بس ایک بیان یا مذمتی بیان دے کر تصور کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی۔ عوام کے نمائندوں کے اسی رویہ نے عوام کو ملکی حالات سے بدظن تو کیا ہی تھا، لیکن لا تعلقی بھی پیدا کر دی ہے۔
ایبولا وائرس، نگلیریا ، پولیو، ہیپاٹائٹس، گردوں کی بیماریاں، امراض قلب وغیرہ ایسی بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے اوسان خطا ہیں۔ لسانیت اور فرقہ واریت کے نتیجے میں پے در پے قتل، جنونیت کے باعث غیر مسلمانوں کے قتل کی ایک کے بعد دوسری وارداتیں عام لوگوں کے ہاتھ پاﺅں ٹھنڈے کرنے کے لئے ہی کافی ہیں۔ یہ سب کچھ ہی کیا کم ہیں کہ دہشت گردی نے بھی ہمارا پیچھا کیا ہوا ہے۔ اندروں ملک بجلی کا بحران ختم ہی نہیں ہو پا رہا ہے۔ ملک میں پیداواری صلاحیتیں تقریبا ناپید ہیں۔ بے روز گاری میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے۔ اشیائے ضرورت اور تعیش کی سمگلنگ اتنی عام ہے کہ چین کا سامان بھی سمگلنگ ہو کر درآمد ہو رہا ہے۔ بھارت کا کپڑا اور دیگر سامان دوکاندار بڑے فخر کے ساتھ تعارف کراتے ہوئے فروخت کر رہے ہیں۔ ملک کے کسی کونے میں چلے جائیں ، باڑہ مارکیٹوں میں کاروبار عروج پر ہے۔ حد تو یہ ہے کہ بڑے اور چھوٹے شہروں میں ایران سے سمگل کیا ہوا پیٹرول کھلے عام فروخت ہو رہا ہے۔ ہر قسم کا اسلحہ مع گولیاں جب چاہیں، جہاں چاہیں ، میسر ہے۔ خود کش حملے، ریل گاڑیوں میں دھماکے، پلک جھپکتے ہی لوگوں کو ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ امریکہ، بھارت، افغانستان ، ایران ، غرض سبھی پاکستان سے شاکی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان سے کیا غلطی سر زد ہو گئی ہے کہ مختلف بیماریوں اور دہشت گردی نے عوام کو دہشت زدہ کر دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ پڑوسی نالاں ہیں۔ دنیا کا سب سے طاقت ور ملک ہمارے ہر قدم پر شک کا اظہار کرتا ہے۔ سرکار ہے کہ کسی بھی معاملہ کا درست تدارک کرنے میں کامیاب نہیں ہے۔ موجودہ حکومت کا ہی معاملہ نہیں ہے ،بلکہ سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے۔ سول انتظامیہ ہو یا پولیس یا کوئی اور محکمہ، اس کے افسران ہیں کہ انہیں ادراک ہی نہیں کہ پاکستان کو خطر ناک چیلنجوں کی صورت میں درپیش جن مصائب کا سامنا ہے انہیں کس طرح حل کیا جانا چاہئے۔ وزراءہیں کہ انہوں نے بیانات کو فٹ بال بنایا ہوا ہے ۔ گیند ادھر ادھر پھینکتے رہتے ہیں۔ عام لوگ روز مرہ کی ضروریات بھی پوری نہیں کر پارہے ہیں۔ ان کے بچے تعلیم سے محروم ہیں، حکومت کو بھی احساس نہیں ہے کہ یہ ناخواندہ لوگ اس ملک میں کیا کر رہے ہوں گے۔ علاج معالجہ کی سہولتوں کا تصور کرنا ہی ان لوگوں کے لئے محال ہو گیا ہے۔

جرائم پیشہ افراد کی سرگرمیاں ہولناک ہیں۔ دولت مند لوگ تو ملک میں مہنگے تریں ہسپتال میں علاج کر الیتے ہیں، لیکن عام لوگ موت کو گلے لگانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ عام لوگوں کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔ سرکاری ملازمین بھی یہ شکایت کرتے ہیں کہ انہیں علاج کی بروقت سہولتیں حاصل نہیں ہیں۔ حیدرآباد میں دھماکہ خیز مادہ کو ضائع کرنے والے تربیت یافتہ ایک اہل کار اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران حال ہی میں ایک ہاتھ ضائع کر بیٹھے تھے۔ حیدرآباد میں جب علاج نہیں ہو سکا تو انہیں کراچی منتقل کیا گیا۔ کراچی میں ایک غیر سرکاری ہسپتال نے سلیم وسطرو کو اس لئے ہاتھ نہیں لگایا کہ ہسپتال میں پیسے جمع نہیں کرائے گئے تھے۔ ان کے ساتھیوں اور رشتہ داروں نے آپس میں چندہ جمع کرکے ہسپتال میں پیسے جمع کرائے تو ڈاکٹروں نے کاروائی شروع کی، لیکن تاخیر ہو چکی تھی اور سلیم انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کے سربراہ نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان کے بعد ایک اور اہل کار نے استعفی دے دیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کا عملہ حکمرانوں کی خدمت پر ہی مامور رہتا ہے۔
دو روز قبل ہی انسداد پولیو سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں ہوا ۔ حکومت کی جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ملک بھر سے پولیو کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ میڈیا پر خبر چلتی رہی کہ وزیراعظم نے ملک بھر سے 6 ماہ میں پولیو کے خاتمے کی ڈیڈ لائن دی ہے ۔ وزیراعظم ہاﺅ س کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ وزیر اعظم نواز شریف نے پولیو کے جلد از جلد خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا کوئی ڈیڈ لائن نہیں دی ہے۔ وزیراعظم بھی ڈیڈ لائن دینے سے ہچکچاتے ہیں۔ ایبولاوائرس کے ممکنہ خطرے کے پیش نظر حکومت سندھ نے 27 رکنی سٹیئرنگ کمیٹی قائم کر دی۔ کمیٹی کے سربراہ سیکریٹری صحت ہوں گے۔ عالمی ادارے پاکستان میں ایبولا وائرس پھیلنے کے ممکنہ خطرے سے پیشگی آگاہ کر چکے ہیں۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ کمیٹی ایبولا وائرس کا کوئی بھی کیس سامنے آنے پر ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے فوری طور پر ایکشن میں آئے گی اور تشخیص سے لے کرعلاج تک کے تمام مراحل میں معاونت کرے گی۔ اس تماش گاہ میں ایسا اکثر نہیں ہوتا ہے کہ حکومت اور اس کے اہل کار کوئی خاص کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں۔ یہاں تو سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹتے کا رواج پڑ گیا ہے۔ ذمہ داران لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں اور عوام سر پیٹتے رہتے ہیں۔ ایک اہم افسر نے واہگہ پر خود کش حملے کے بعد پہلی پریڈ کے موقعہ پر کہا کہ سرحد کے اس پار سانپ سونگھ گیا تھا۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ سانپ تو ہمیں سونگھ گیا ہے، جن ملکوں میں قانون کو طاق میں اور اس پر عمل در آمد کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے وہاں ہی سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹی جاتی ہے۔

مزید :

کالم -