احتیاط لازم ہے!

احتیاط لازم ہے!
احتیاط لازم ہے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی متعدد وارداتیں ہو چکی ہیں، ان میں قانون ہاتھ میں لیا گیا اور انسانی جانیں ضائع ہوئیں، فیصل آباد کے ایک گاﺅں میں اور پھر بادامی باغ لاہور میں تو کئی مکان بھی جل گئے تھے، یہاں کوٹ رادھا کشن میں بھی اِسی نوعیت کی واردات ہوئی ہے، جب دو میاں بیوی اسی قسم کے الزام میں زندہ جلا دیئے گئے۔ اب وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے سخت نوٹس کے بعد مقدمہ قتل درج ہوا اور قریباً50افراد گرفتار کئے گئے۔ تفتیش ہو رہی ہے، اس کے بعد ہی اصل حقائق بھی سامنے آئیں گے۔ اس واردات کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں، بھٹہ مزدوروں اور عیسائی انجمنوں نے اپنی اپنی جگہ احتجاج کا راستہ اپنایا ہے۔ اس واردات کو بھی حسب سابق مغربی ممالک کے میڈیا نے اچھالنا شروع کر دیا ہے اور مختلف الزامات عائد کئے جا رہے ہیں۔ابک بار پھر متعلقہ قانون کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔
جہاں تک اس واردات یا اس سے پہلے ہونے والے سانحات کا تعلق ہے تو ان پر بحث یا حجت کی ضرورت نہیں، اس حوالے سے تو یہی دریافت کیا جانا چاہئے کہ اصل واقعات اور محرکات سامنے کیوں نہیں لائے گئے کہ ایسے تمام حادثات دیہات یا اَن پڑھ قسم کے علاقوں میں ہوئے اور قانون کو براہ راست ہاتھ میں لیا گیا۔ صبح سیر کے بعد محفل میں آج یہی قصہ زیر غور تھا۔ الحمد للہ محفل والے سبھی پرہیز گار لوگ ہیں اور یہ بھی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہیں، لیکن سب حضرات پڑھے لکھے اور سمجھدار ہیں، اس لئے بحث سنجیدگی لئے تھی۔
یہ حسن اتفاق ہے کہ ابھی چند روز قبل غازی علم الدین شہید کا عرس منایا گیا ہے اور بات بھی ان کے حوالے سے ہو رہی تھی، منور بیگ پروفیسر اور انکم ٹیکس پریکٹیشنر ہیں۔ ان کا مطالعہ بھی وسیع ہے، بلکہ کتابیں خریدنے اور پڑھنے کے عادی ہیں، وہ علم الدین شہید کے ہاتھوں راج پال کے جہنم واصل ہونے کی بات کر رہے تھے کہ اس کمبخت پر پہلے تین حملے ناکام ہو چکے تھے تاہم غازی علم الدین شہید کامیاب ہو گیا، اس واردات کے بعد کی روایت اور حکائت یہ ہے کہ علم الدین کا مقدمہ چلا تو اس وقت کی انگریز سرکار مسلمانوں کے خلاف ہندوﺅں کو راضی رکھنے کی پالیسی پر گامزن تھی، چنانچہ اس مقدمہ میں ملزم کو موت کی سزا دی گئی جسے پریوی کونسل تک نے بحال رکھا، حالانکہ واقعات پر بحث کر کے یہ ثابت کرنے کی پوری کوشش کی گئی کہ مقتول نے اشتعال پیدا کیا تھا اور یہ قتل مذہبی جذبات مجروح کرنے کی وجہ سے ہوا اور سوچا سمجھا نہیں، وقتی جوش کے تحت کیا گیا جرم ہے۔عدالتوں نے یہ موقف تسلیم نہیں کیا تھا۔ اہل محفل نے ہماری اس بات سے اتفاق کیا کہ علم الدین کو غازی اور شہید کا مرتبہ اور مقام یوں ملا کہ وکلاءحتیٰ کہ قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی طرف سے بھی مشورہ دیا گیا وہ اقبال جرم کی بجائے صحت جرم سے انکار کر دے، لیکن علم الدین نے یہ نہ کیا اور قبول کر کے کہ اس نے ہی قتل کیا ہے، پھانسی کے پھندے کو چوم لیا۔

مرزا منور بیگ نے کہا کہ اس دور سے متعلق انگریزوں، ہندوﺅں اور سکھوں کے ساتھ مسلمان مصنفوں کی کتابیں پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت توہین کا کوئی قانون نہیں تھا۔ اس کے علاوہ یہ بھی طے ہے کہ اس وقت کے مسلمانوں نے بہت احتجاج بھی کیا تھا، لیکن آج یہ صورت حال نہیں ہے آج تو توہین رسالت کا قانون موجود ہے، اس کے اطلاق کا طریق کار بھی طے ہے، اس لئے اب کسی کو بھی خود قانون کو ہاتھ میں لینے کا کوئی حق نہیں پہنچتا، ہم نے تائید کی کہ یہ درست ہے، ایک خاتون آسیہ بی بی کی مثال موجود ہے جس کے خلاف مقدمہ درج کر کے چلایا گیا، اسے سزائے موت کا حکم ہوا اس کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے،اس معاملے میں بھی احتجاج ہوا تھا، لیکن مقدمہ درج ہونے اور گرفتاری کے باعث بڑھ نہ سکا، چنانچہ اب اگر کسی کو شکایت ہوتی ہے تو وہ ثبوت کے ساتھ مقدمہ درج کرا سکتا ہے۔
کوٹ رادھا کشن کے اس مقدمہ کی بھی مکمل تفتیش کے بعد رپورٹ سامنے آئے گی، تو حقائق کا علم ہو گا۔ بہرحال بادی النظر میں یہ دہرے قتل کا معاملہ ہے اور یقینا کسی سازش کے تحت ایسا کیا گیا ہے تاکہ حکومت کو مسائل کا شکار کیا جا سکے، اس سلسلے میں مکمل غیر جانبداری سے تحقیق اور تشخیص ہونا چاہئے کہ اصل حقائق کیا ہیں، یقینا اس میں بھی کوئی بھید ضرور نکلے گا، حکومت کو اس معاملے میں منفی پروپیگنڈے اور احتجاج کا بھی دھیان رکھنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ احتجاج کرنے والوں سے ذمہ دار لوگ بات کر لیں اور ان کو یقین دلائیں انصاف ہو گا اور مجرم بچ نہیں سکیں گے۔
ایسے معاملات میں علماءکرام کا بہت بڑا کردار ہے۔ ان کو غور کرنا چاہئے کہ ایسا کیوں ہو رہا، بلکہ ان کے لئے لازم ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کی مذمت کریں اور اصرار کریں کہ مروجہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ علماءمحترم کا کردار بہت اہم ہے ان کو دیکھنا ہو گا کہ ان کے کسی عمل سے فساد تو نہیں ہو گا،ا س کے علاوہ مفکرین اور مفسرین نے دین کے معاملات میں بہت احتیاط کی ہدایت کی ہوئی ہے، اس لئے ہمیں کسی ایسے فرد کے کسی بھی بہانے سے بہیمانہ عمل کی حمایت نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی کسی کو ہیرو بنانا چاہئے، معاملات عام مسلمانوں کے عقائد اور رسم و رواج کے مطابق چلنا چاہئیں اور قانون کو اپنا عمل کرنے دینا چاہئے۔


مزید :

کالم -