شہیدِ اسلام :پروفیسر غلام اعظمؒ ! (5)

شہیدِ اسلام :پروفیسر غلام اعظمؒ ! (5)
شہیدِ اسلام :پروفیسر غلام اعظمؒ ! (5)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پروفیسر غلام اعظم نیک اور متقی انسان تھے۔ اس کے ساتھ نہایت بہادر اور نڈر مسلمان! دورِ جوانی سے عالمِ پیری تک مسلسل جدوجہد اور پورے عزم کے ساتھ اسلام کی سربلندی اور ملتِ اسلامیہ کی خیر خواہی میں زندگی کا ہر لمحہ بیتا۔ وہ سراپا خیر انسان تھے۔ ان کی زندگی میں کبھی دو رنگی نہ دیکھی گئی۔ بزدلی اور ہزیمت کا کوئی شائبہ تک اس عظیم انسان کی زندگی میں کہیں نظر نہیں آتا۔ وہ اقبال کے اس شعر کا حقیقی مصداق تھے۔
آئینِ جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
90سال کی عمر میں جیل جانے سے قبل اپنی یادگار تحریر ”بنگلہ دیش میں مظالم کی داستان“ لکھی۔ پروفیسر غلام اعظم صاحب نے اپنے اس تاریخی کتابچے میں لکھا: ”نومبر 2011ءمیں، میں 89 سال کی عمر کو پہنچ گیا تھا اور اب میں90 سال کے پیٹے میں ہوں۔ بڑھاپا سو بیماریوں کو ساتھ لاتا ہے اور میرے دائیں پاﺅں اور بائیں گھٹنے میں مسلسل تکلیف رہتی ہے۔ اس مرض پر قابو پانے کے لئے مجھے دن میں دو مرتبہ exercise کرنا پڑتی ہے جس کے لئے میں کسی دوسرے فرد کا سہارا لینے پر مجبور ہوتا ہوں۔ میں اکیلا چل پھر بھی نہیں سکتا لہٰذا میں دائیں ہاتھ میں بیساکھی کا سہارا لے کر اور اپنا بایاں ہاتھ کسی کے کندھے پر رکھ کر نماز کے لئے مسجد جاتا ہوں۔ اس حالت میں غیر ضروری طور پر کہیں آ جا بھی نہیں سکتا۔ پھر بلڈ پریشر اور دیگر متعدد بیماریوں کے حوالے سے مجھے روزانہ کئی بار باقاعدگی سے دوائیاں لینی پڑتی ہیں۔ اس حال میں بھی حکومت مجھے جیل بھیج رہی ہے۔ میں اس سے پہلے چار بار جیل جا چکا ہوں۔ مجھے جیل یا موت سے کوئی خوف نہیں۔
الحمدللہ میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے ڈرتا نہیں۔ میں شہید ہونے کی تمنا لے کر ہی اسلامی تحریک میں شامل ہوا تھا۔ اب اگر اس جھوٹے مقدمے میں مجھے پھانسی پر بھی لٹکا دیا گیا تو مجھے شہادت کا درجہ ملے گا، جو یقینا میرے لئے خوش قسمتی کا باعث ہوگا۔ اس عمر رسیدگی اور بیماریوں کی بھرمار کے ساتھ جیل میں میرا وقت کس طرح گزرے گا، اس کو میں اپنے اللہ پر چھوڑتا ہوں۔ آپ لوگوں کو یاد ہوگا کہ 11 برس پہلے یعنی 2000ءمیں رضاکارانہ طور پر جماعت اسلامی کے امیر کی ذمہ داری سے از خود فراغت لینے کے بعد میں نے کبھی کوئی سیاسی بیان نہیں دیا لیکن گذشتہ کچھ دنوں سے میرے خلاف میڈیا میں جو جھوٹا، بے بنیاد اور من گھڑت پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ اس سلسلے میں سچائی کو سامنے لانے کے لئے مجھے کچھ کہنا چاہیے۔ (صفحہ4-3)

میں پیدایشی لحاظ سے اس ملک کا باشندہ ہوں۔ 1922ءمیں لکشمی بازار ڈھاکہ میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوا۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان بھی ڈھاکہ ہی کے تعلیمی اداروں سے پاس کیا اور پھر ڈھاکہ یونی ورسٹی سے بی اے اور ایم اے (سیاسیات) مکمل کیا اور طلبہ سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ 1947ءاور1949ءمیں لگاتار دوبار میں ڈھاکہ یونی ورسٹی کی سٹوڈنٹ یونین کا جنرل سیکرٹری منتخب ہوا۔ میں فضل الحق مسلم ہال کی سٹوڈنٹس یونین کا سیکرٹری جنرل بھی رہا۔ نومبر1948ءمیں بنگلہ زبان کو بھی پاکستان کی قومی زبان کا درجہ دلانے کا میمورنڈم، میں نے خود اس وقت کے وزیراعظم پاکستان نواب زادہ لیاقت علی خاں کو پیش کیا تھا۔ اسی تحریک کی قیادت کرنے کی وجہ سے 1952ءاور 1955ءمیں دو دفعہ گرفتار ہوا اور جیل کاٹی۔ میں نے1954ءمیں جماعت اسلامی میں شمولیت اختیار کی اور یوں میری سیاسی زندگی کا باقاعدہ آغاز ہوا۔
متحدہ پاکستان میں 1955ءسے لے کر1971ءتک میں نے تمام جمہوری تحریکوں میں حصہ لیا۔ سی او پی (کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز)، پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ)، ڈی اے سی (ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی) کی سرگرمیوں میں میرا بڑا موثر کردار رہا۔ شیخ مجیب الرحمن اور دیگر سیاسی لیڈر شپ کے شانہ بشانہ میں نے جمہوریت کے لئے کام کیا۔ 1964ءمیں حکومت سے سیاسی اختلاف کے باعث میں گرفتار ہوگیا۔1970ءمیں جب عوامی لیگ نے عام انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی تو میں نے شیخ مجیب الرحمن اور اس کی پارٹی کو مبارک باد کا پیغام بھیجا ۔ (صفحہ4)
حکومت نے اب جو قدم اٹھایا ہے اس کے پیچھے کوئی نیک مقاصد نہیں بلکہ ناپاک سیاسی مقاصد ہیں۔ عوامی لیگ چاہتی ہے کہ جماعت اسلامی کی قیادت کو ختم کرکے ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ آیندہ الیکشن میں جماعت اسلامی کوئی مو¿ثر کردار ادا نہ کرسکے اور عوامی لیگ کو 2001ءکی طرح شرم ناک شکست کا سامنانہ کرنا پڑے۔ بغاوت کے اس مقدمے کو جس کالے قانون کے تحت آگے بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے، انٹرنیشنل لائیرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس میں 17 کمزوریاں پائی گئی ہیں۔ سونار گاﺅں ہوٹل ڈھاکہ میں وکلا کی اس تنظیم کی جو کانفرنس ہوئی ہے، اس میں بزرگ قانون دان جسٹس ٹی ایچ خان نے کہا تھا: ”یہ قانون سراسر جنگل کا قانون ہے۔ جس طرح کسی جانور کو باندھ کر ذبح کیا جاتا ہے، اس قانون کے تحت ملزمان کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔ انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل کے نام کے ساتھ انٹرنیشنل کا لفظ ہی ایک کھلا مذاق ہے کیونکہ اس کا کسی انٹرنیشنل معیار کے ساتھ دور دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی وزیراعظم شیخ حسینہ کو خط لکھ کرمتوجہ کیا ہے کہ اس قانون میں ترمیم کرکے اس کو حقیقی طور پر انٹرنیشنل معیار پر لایا جائے لیکن شیخ حسینہ حکومت نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی، کیونکہ اگر اس ٹریبونل کے قوانین کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق بنایا جائے تو جماعت اسلامی کے کسی لیڈر کو کوئی سزا نہیں دی جا سکے گی، کوئی جرم ثابت ہی نہیں کیا جا سکے گا اور جماعت کے ذمہ داران میں سے کوئی مجرم ہی قرار نہیں پائے گا۔ (صفحہ9)
13اکتوبر2010ءسونارگاﺅں ہوٹل ڈھاکہ میں بنگلہ دیش سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی ایک سیمی نار کا اہتمام کیا تھا۔ اس سیمی نار سے خطاب کرتے ہوئے انگلینڈ کے مشہور قانون دان اسٹیفن نے، جو انٹرنیشنل کرائمز کورٹ یوگوسلاویہ اور روانڈا کے وکیل بھی رہے ہیں، کہا تھا کہ جس قانون کے تحت یہ مقدمہ چلایا جا رہا ہے وہ بنگلہ دیش کے دستور اور انٹرنیشنل قانون کے سراسر خلاف ہے، لہٰذا انٹرنیشنل کمیونٹی اس کو غیر جانب دارانہ تسلیم نہیں کرے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ جنگی جرائم کے مقدمے کو انٹرنیشنل معیار کے مطابق کرنے کے لئے شفاف دلائل درکار ہوں گے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ججوں کے تقرر میں فریقین کی رضامندی شامل ہونا لازمی ہے اور ان ججوں کا عالمی معیار کاہونا بھی ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ انٹرنیشنل قانون میں اس بات کو بالکل واضح کیا گیا ہے کہ کسی شخص کو ایسے جرم کی سزا نہیں دی جا سکتی کہ جس کی نشان دہی قانون کے مطابق اس وقت نہ کی گئی ہو، جب کہ یہ جرم سرزد ہوا تھا۔
میں یہ بات ایک دفعہ پھر واضح الفاظ میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی انسانیت کے خلاف کوئی کام نہیں کیا۔ معاشرے کے ایک خاص گروہ کے لوگ جو اندھا بن کر اور خودغرضانہ سوچ کے تحت، مجھے سیاسی اور سماجی طور پر نیچا دکھانے کے لیے، گذشتہ 40 سال سے گھناﺅنا پراپیگنڈا پھیلا رہے ہیں، ان کا مقصد سادہ لوح عوام کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ سمیٹنا ہے۔ انسانیت کے خلاف، اگر میں سرگرم رہا ہوتا تو اس لمبے عرصے میں کسی نہ کسی عدالت میں میرے خلاف کوئی مقدمہ ضرور درج ہوتا۔ 1973ءمیں شیخ مجیب حکومت نے غیرقانونی طور پر میری شہریت ضبط کی لیکن 1994ءمیں سپریم کورٹ کے فل بنچ نے اپنے متفقہ فیصلے کے ذریعے میرا یہ حق مجھے واپس دلایا کیونکہ میرے خلاف لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوئے تھے۔ عجیب تماشا یہ ہے کہ اب نئے سرے سے انھی پرانے الزامات کو دہرایا جا رہا ہے۔ (صفحہ9۔10)
میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ میں جیل، ظلم، اذیت اور موت سے نہیں ڈرتا۔ موت اٹل ہے۔ اس سے فرار ممکن نہیں۔ ہر ایک کو، ایک نہ ایک دن اس دنیا سے رخصت ہونا ہی ہوتا ہے۔ میرا اللہ پر ایمان اور آخرت پر یقین ہے اور میں تقدیر کو بھی مانتا ہوں۔ میرا یہ بھی ایمان ہے کہ مشیت الٰہی کے خلاف کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اللہ اپنے بندوں کے بارے میں جو بھی فیصلے کرتا ہے وہ یقینا کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، لہٰذا مجھے موت کی دھمکیوں کی بالکل پروا نہیں۔ مجھے اپنے آپ پر اعتماد ہے کہ میں نے ہمیشہ عوام کے مفاد کے لئے کام کیا ہے۔ کبھی بھی ان کے مفادات کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا۔ ایسا لگ رہا ہے اور جس انداز سے یہ عدالتی کارروائی چلائی جا رہی ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ انتہائی فیصلہ پہلے ہی سے کرلیا گیا ہے اور اب محض الزام تراشی کے ذریعے اس کے حق میں فضا تیار کی جا رہی ہے۔ اپنی 50 سالہ سیاسی زندگی میں، میں نے ملک میں بہت سارے سفر کیے ہیں۔ میں عوام ہی میں رہاہوں۔ میں نے اپنے اخلاق سے لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لئے مجھے معلوم ہے کہ یہ حکومت میرے خلاف جو بھی الزام لگا رہی ہے عوام اس کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر یہ لوگ مجھے پھانسی بھی دیتے ہیں، جو ان کی خواہش ہے، تو بھی ہمارے عوام مجھے اللہ کی راہ کا ایک سپاہی سمجھیں گے۔“ (صفحہ15۔ 16) (ماخوذ از کتابچہ ”بنگلہ دیش میں ظلم کی داستان“ مطبوعہ ادارہ معارف اسلامی ، لاہور)
پروفیسر صاحب کے اپنے قلم سے لکھا گیا کتابچہ جس کے کچھ حصے اوپر نقل کیے گئے ہیں، ایک ایسی عبارت ہے جو سچائی، حقائق اور مضبوط دلائل پر مشتمل ہے۔ پروفیسر صاحب آج ہمارے درمیان موجود نہیں مگر ان کی یادیں کبھی دل سے محو نہیں ہوسکتیں۔ ان کی تحریر کردہ بیسیوں کتب ان کے چاہنے والوں کی تربیت کا سامان کرتی رہیں گی۔ وہ پلٹ کر نہیں آئیں گے مگر ان سے محبت کرنے والے ان سے جاملیں گے۔ اللہ اس عظیم بندہ¿ مومن کی قربانی کو قبول فرمائے اور اس کے صدقے اہلِ حق کو آزمائشوں کی اس طویل سیاہ رات سے نجات دلائے۔
ہر گز نہ میرد آنکہ دلش زندہ شد بعشق
ثبت است برجریدہ¿ عالم دوامِ ما



مزید :

کالم -