حسینہ کی آتش ِ انتقام کے شعلے

حسینہ کی آتش ِ انتقام کے شعلے
حسینہ کی آتش ِ انتقام کے شعلے

  

ہمارے برادر ملک بنگلہ دیش کی حکمران محترمہ حسینہ واجد کے انتقام کی آگ دہک رہی ہے اور اس کے ہولناک شعلے بہت بلند ہورہے ہیں، یوں لگتا ہے کہ محترمہ عالمی صیہونیت کی خوشنودی اور بھارت کے لبھورام کے دل میں جگہ بنانے کے لئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دورتک جانے کا عزم کئے ہوئے ہیں، اگر ان کا کوئی خیرخواہ ہو اور مَیں توان کا اور بنگلہ دیشی مسلمانوں کا خیر خواہ ہوں اس لئے انہیں صبر اور حوصلہ مندی سے کام لینے کا مشورہ دوں گا کہ خود شیخ مجیب الرحمن کی فراخ دلی سے سب بنگالیوں کے لئے عام معافی کا جو اعلان ہوا ہوا تھا اس پر عمل کریں اور محض اپنے والد گرامی کے فرمان کا پاس کرتے ہوئے چالیس سال پہلے کے مردے نہ اکھاڑیں۔

ایک بات دنیا بھر کے حقوق انسانی کے علمبرداروں سے کہوں گا کہ جس طرح وہ دنیا بھر کے مظلوموں کے حقوق کا ڈھنڈوراپیٹتے اور انہیں ”ظالم مسلمانوں“ کے پنجے سے چھڑانے (جیسا کہ ایک پاکستانی خاتون آسیہ کو چھڑانے) کے لئے زمین اور آسمان کے قلابے ملادیتے ہیں اور واویلا کرتے ہیں اسی طرح (یااس سے کچھ کم ہی سہی) بنگلہ دیش کے ان بے گناہ اور مظلوم مسلمانوں کے حق میں بھی ایک آدھ لفظ ہی کہہ دیں !آخر وہ بھی تو انسان ہی ہیں؟

دنیا بھر کے جاگتے سوتے مسلمانوں سے بھی ایک لفظ کہنا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ عالمی صہیونیت کی خفیہ سازشوں اور مغربی صلیبیوں کی منافقانہ حیلہ گری نے ہمیں نڈھال کردیا ہے اور ہمیں اسلام کا نام لینے کے قابل بھی نہیں چھوڑا مگر ابھی بھی ہماری راکھ میں چنگاریاں ہیں جن کے سہارے ہم زندہ ہیں، اس لئے حوصلہ مندی سے مگر نہایت دردمندی سے پرامن انداز میں کسی چوک میں کھڑے ہوکر ہم رونے کی قدرت تو رکھتے ہیں !ہمیں رونے سے تو کوئی نہیں روک سکتا !اگر ہم چور کو پکڑ نہیں سکتے تو دنیا بھر کے سامنے ”چورچور“ کہہ کر اس کی طرف انگلی سے اشارہ تو کرہی سکتے ہیں، چپ کرکے ظلم سہتے جانا اور کچھ بھی نہ کہنا بھی تو مسلمان کی شان نہیں ہے۔

مظلوم کے حق میں نہ بولنا بھی ظلم سہنا ہے بلکہ ظلم کرنے کے مترادف ہے ، اگر ہم یونہی بے تدبیری سے دشمن کے اشاروں پر اور محض چند ٹکوں کی خاطر صرف دہشت اور فساد پھیلاتے رہے مگر حق کی خاطر زبان بھی نہ ہلاسکے اور چب سادھ لی تو ہم پرانے یہودیوں سے بھی زیادہ ذلت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو جائیں گے اور ہزاروں سال تک ہماری آنے والی نسلیں اسی ذلت کی زندگی پر مجبور ہوں گی اگر یہودی تدبیر اور محنت سے صلیبی مغرب کو بھی اپنی ذگر پر لگاسکتے ہیں تو ہم عقل وتدبیر کے ساتھ اپنے حق پرست (جیسے بنگلہ دیشی مسلمان ہیں) بھائیوں کے حق میں رو بھی نہیں سکتے، کسی چوک میں کھڑے ہو کر پرامن انداز میں ”چورچور“ کی آواز کیوں نہیں نکال رہے؟ مسلمانو!عقل وہوش کے ساتھ پرامن فضا میں کم سے کم رو ہی دو؟

 زندگی اور عزت کے آرزومند مسلمان پاکستانیو!اگر آج تم اپنے محافظ سپاہی کی حمایت کرنے والے بنگلہ دیشی مسلمانوں کے حق میں نہ بولے تو کل کو ہمارا محافظ سپاہی بھی کوئی نہیں ہوگا، کل تم کشمیری مسلمان کی حمایت چھوڑ کر کشمیر کا نام لینا بھی تمہارے لئے جرم قرار پا جائے گا، اٹھو اور نہ صرف آواز بلند کرو بلکہ پاکستان کی محافظ فوج کی حمایت کرنے والے ان بنگلہ دیشی مسلمانوں کے وکیل بن جاﺅ، بنگلہ دیشی عدالتوں میں ان کے مقدمے لڑو بلکہ عالمی عدالت انصاف میں بھی ان کا مقدمہ لے جاﺅ، دنیا کے منصف مزاج باضمیر انسان کا دامن بھی جھنجھوڑو، اٹھو، بولو، پاکستان کو قتل مت ہونے دو، یہ عورت دراصل پاکستان کو قتل کررہی ہے، قاتل کاہاتھ روکنا اور اسے عدالت میں لے جانا وارثوں کا فرض بھی ہوتا ہے اور حق بھی ، اگر آج نہ اٹھے تو آنے والے وقت میں پاکستان کا نام لینا بھی مشکل ہوجائے گا۔ یہ فیصلہ کن گھڑی ہے، یہ وقت ہے پاکستان کے فیصلہ کن دفاع کا۔

 اندراگاندھی نے اپنی ایک ہزار سالہ غلامی کا بدلہ لے کر بزعم خویش نظریہ پاکستان کو خلیج بنگالہ میں غرق کردیا تھا مگر یہ محترمہ پاکستانی فوج کی حمایت کا صرف انتقام نہیں لے رہی بلکہ ہماری بے مثال افواج کی توہین بھی کررہی ہیں۔ پاکستان کا نام لینے کو بھی جرم بنانا چاہتی ہیں، ہندو تو پہلے ہی برعظیم سے اسلام اور مسلمان کا نام ونشان مٹا کر اکھنڈ بھارت اور رام راج کا ایجنڈا رکھتا ہے، ہماری نسلیں اگر خدانخواستہ ہندو بھی بن گئیں تو بھی انہیں برہمن کے طبقاتی معاشرے میں پانچواں طبقہ بن کر رہنا پڑے گا کیونکہ چوتھا طبقہ دلت اور اچھوت کا ہے، ہماری نسلیں تو حملہ آوروں کی اولاد ہوں گی یا ہندو معاشرہ کے باغیوں کی ، اس ہولناک مستقبل سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے حسینہ واجد کے موقف کو مسترد کرو، آرایس ایس کے عزائم کو سمجھو جو مودی کی قیادت میںاب اصل ایجنڈا سامنے لارہی ہے، صرف مذمت کافی نہیں،جاگنے، سنبھلنے اور پوری قوت کے ساتھ اٹھ کر عملی اقدام کی ضرورت ہے ورنہ حسینہ کی آتش انتقام سب کجھ بھسم کروادے گی۔

مزید :

کالم -