کیا سیاسی طوفان واقعی ٹل گیا؟

کیا سیاسی طوفان واقعی ٹل گیا؟
کیا سیاسی طوفان واقعی ٹل گیا؟

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

طوفان ٹل جائے تو سکھ کا سانس لینا عین فطری بات ہے، مگر طوفان کی شدتوں کو نہیں بھولنا چاہیے۔ان اسباب پر بھی نظر رکھنی چاہیے جو اس طوفان کا باعث بنے، تاکہ مستقبل میں ایسے طوفانوں کو اٹھنے سے پہلے دبایا جا سکے۔خیال تو یہی تھا کہ موجودہ حکومت بھی دھرنوں کے طوفان سے بخیر و عافیت گزرجانے کے بعد اپنے معمولات کو بدل ڈالے گی۔نئی شروعات ہوں گی اور جمہوریت کی جن خامیوں کے باعث اس نظام کو بدبودار اور گلا سڑا کہا جاتا ہے، ان سے چھٹکارے کی عملی کوششیں کی جائیں گی، لیکن ابھی تک اس ضمن میں کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔بس سارا زور اس بات پر صرف کیا جا رہا ہے کہ جس طرح ڈاکٹر طاہر القادری نے دھرنا ختم کر دیا ہے، اسی طرح عمران خان بھی دھرنا ختم کر دیں۔ کیوں ختم کر دیں؟ اس حوالے سے خاموشی ہے، بس یہی کہا جا رہا ہے کہ ان کا سارا عمل چونکہ جمہوریت اور آئین کے خلاف ہے، اس لئے انہیں اب اپنے رویے میں تبدیلی لا کر نظام کا حصہ بن جانا چاہیے۔ عمران خان کو دھرنا ختم کرنے پر راضی کرنے کی بے سود کوششوں کی بجائے حکومت اگر اس پہلو پر توجہ دے کہ عمران خان کے دھرنوں سے جنم لینے والی فضا کو کیسے اپنے حق میں تبدیل کیا جا سکتا ہے تو کہیں بہتر ہو گا، کیونکہ اصل مدعا وہ ہے، جس نے عمران خان کو عوام کی نظر میں قابل قبول بنا رکھا ہے۔
محرام الحرام گزر گیا ہے اور اب پھر نئے سرے سے سیاسی سرگرمیوں میں جان پڑ گئی ہے۔عمران خان نے اس مہینے میں کئی جلسوں سے خطاب کا پروگرام بنا رکھا ہے،جبکہ30نومبر کو اسلام آباد کے دھرنے میں بھی عوام کو شرکت کی کال دے رکھی ہے۔ایسے میں کوئی کیسے کہہ سکتا ہے کہ حالات نارمل ہو گئے ہیں یا حکومت ہر قسم کی پریشانیوں سے آزاد ہو گئی ہے؟ بے یقینی کی فضا تو اب بھی موجود ہے اور بہت کم لوگوں کو اس بات سے اتفاق ہو سکتا ہے کہ ملک میں سب اچھا ہو چکا ہے؟سب اچھا ہر گز نہیں ہوا، بلکہ بقول سراج الحق خطرات اب بھی منڈلا رہے ہیں۔عوام کو ریلیف دینے کے لئے اگرچہ پٹرول سستا کیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی بجلی کے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے لینے کی یہ تکنیک حکومت کو کوئی فائدہ نہیں دے سکتی۔اگر حکومت نے دھرنے والوں کے دباﺅپر تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے تو اسے جان لینا چاہیے کہ یہ دباﺅ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ عمران خان نے تو تیل کی قیمتوں میں مزید کمی اور بجلی کی قیمتوں میں فوری کمی لانے کے لئے 30نومبر سے پہلے کی ڈیڈ لائن دے دی ہے۔اب ایسے میں اگر حکومت پھر اس دباﺅ کے تحت فیصلے کرتی ہے تو اس کا کریڈٹ حکومت کو ملنے کی بجائے دھرنے والوں کو ملے گا اور عمران خان کی طاقت اور مقبولیت مزید بڑھتی جائے گی۔
ایسی خبریں آتی رہی ہیں کہ وزیراعظم محمد نوازشریف حکومتی کارکردگی بڑھانے کے لئے کابینہ میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔یہ اچھی بات ہے ، مگر اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔عوام اپنے اردگرد کے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اس کے لئے ضروری ہے کہ پولیس اور پٹوار کے نظام میں تبدیلی لائی جائے۔دفتری سسٹم کو عوام دوست بنا کر کرپشن کی گرم بازاری ختم کی جائے۔بیورو کریسی کے بے محابا اختیارات پر قدغن لگائی جائے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ لوگوں کو سستا اور فوری انصاف فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ ابھی تک حکومت نے اس ضمن میں کوئی قدم نہیں اٹھایا،یوں لگتا ہے کہ حکومت کی ترجیحات میں یہ نکات شامل ہی نہیں۔صحت کی سہولتوں کا بھی فقدان ہے اور سرکاری ہسپتال مریضوں کے لئے ڈراﺅنا خواب بنتے جا رہے ہیں۔یہ سب باتیں اس لئے زیادہ اہمیت کی حامل ہیں کہ دھرنوں کی وجہ سے عوام میں شعور بیدار ہو چکا ہے۔اب وہ صرف گورننس نہیں، بلکہ گڈ گورننس چاہتے ہیں۔
عمران خان جس تبدیلی کی بات کررہے ہیں، اس کا تعلق اسی حوالے سے ہے اور عوام میں انہیں جو پذیرائی مل رہی ہے ،وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام میں اس استحصالی نظام کی تبدیلی کا خیال پوری طرح پروان چڑھ چکا ہے۔میرے نزدیک یہ بات انتہائی خوش فہمی کے زمرے میں آتی ہے کہ سب کچھ پہلے کی طرح درست ہو جائے گا اور جمہوریت اپنی پہلی ڈگر پر چلتی رہے گی۔مَیں آج کل ٹی وی چینلوں پر وزراءاور حکومتی جماعت کے ارکان اسمبلی کی جب یہ گفتگو سنتا ہوں کہ دھرنوں کی سازش ناکام ہو چکی ہے اور جمہوریت کو لاحق خطرات اپنی موت آپ مر گئے ہیں، تو مجھے ان کی خوش گمانی پر حیرت ہوتی ہے۔وہ نجانے کس ترنگ میں یہ کہہ رہے ہیں، حالانکہ حکومت کے لئے حالات پہلے سے زیادہ مشکل ہو چکے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کے پاس اب کوئی عذر باقی نہیں کہ وہ ایک اچھی پرفارمنس نہ دے سکے۔اسے اچھی پرفارمنس کے ذریعے ہی خود کو منوانا ہے۔ دوسری طرف نہ صرف عمران خان ،بلکہ اب تو بلاول بھٹو زرداری بھی حکومت کی خراب کارکردگی پر اسے تنقیدکا نشانہ بنا رہے ہیں۔گویا حکومت پر مسلسل ایک دباﺅ موجود ہے۔اس دباﺅ سے وہ کیسے نکلتی ہے؟ بات بہت اہم ہے۔
 کیا صرف وزراءکے بیانات سے حکومت اپنی کارکردگی کو اس حد تک منوانے میں کامیاب رہے گی کہ لوگ مطمئن ہو کر بیٹھ جائیں۔نہ صاحب نہ، اس قسم کے اقدامات سے حکومت پانچ سال پورے کرنے کے امکانات پر نظرثانی کرے، کیونکہ جب تک زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور ان کی روشنی میں حکومت اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کرتی، اس وقت تک جمہوریت مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ حکومت ۔بادی النظر میں مملکت کو چلانے کے لئے ایک نیا عمرانی معاہدہ ناگزیر ہو چکا ہے۔اس حقیقت کو جس قدر جلد تسلیم کر لیا جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔اس وقت وطن عزیز میں ان گنت بے چینیاں اور انتشار موجود ہیں۔کہیں نئے صوبوں کی باتیں ہو رہی ہیں اور کہیں قوم پرستی کے نام پر حقوق مانگے جا رہے ہیں۔کہیں انتخابات میں دھاندلی کا رونا رویا جا رہا ہے اور کہں اس بات پر مڈبھیڑ جاری ہے کہ حکومت اور اپوزیشن نے اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کیسے آگے بڑھنا ہے؟بظاہر حکومتی حلقے یہ تاثر دے رہے ہیں کہ کسی لندن پلان کے ذریعے حکومت کے خلاف سازش تیار کی گئی تھی جو عوام کی بھرپور حمایت اور سیاسی جماعتوں کی یک جہتی کے باعث ناکام بنا دی گئی۔گویا اب صرف عمران خان ایک مسئلہ رہ گئے ہیں، جسے حل کر لیا گیا تو باقی سارے کام سیدھے ہو جائیں گے۔
یہ درست ہے کہ اس وقت حکومت کے خلاف سب سے بڑا چیلنج اسلام آباد کا جاری دھرناہے۔اس میں لوگ کتنے آتے ہیں، یہ مسئلہ بھی پس پردہ چلا گیا ہے، اس کی جگہ یہ سوال اہم ہے کہ حکومت کیا وفاق کی چار اکائیوں کو مطمئن کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے؟بظاہر اس کا جواب نفی میں ہے۔سندھ کی حکومت وفاقی حکومت سے نالاں نظر آتی ہے۔اسی طرح خیبرپختونخوا کی قیادت بھی اپنے حقوق کے لئے وفاقی حکومت سے مطالبات جاری رکھے ہوئے ہے۔بلوچستان کی حکومت اگرچہ وفاقکی رضا کارانہ حمایت یافتہ ہے، مگر یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ صوبہ بلوچستان مضبوط اور پُرامن ہے۔ان حالات میںضروری ہے کہ حکومت ملک میں قومی ایشوز پر اتفاق رائے پیدا کرے۔بد قسمتی سے موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں ایسے کسی شخص کا فقدان نظر آتا ہے، جو اس مشن کی تکمیل کر سکے۔یہاں تو یہ حال ہے کہ ایک عمران خان حکومت سے سنبھالا نہیں جا رہا۔کوئی ایسا راستہ حکومت کو سجھائی ہی نہیں دے رہا کہ جس کے ذریعے 90روز سے جاری دھرنا ختم کرایا جا سکے۔عمران خان کے مطالبات اپنی جگہ ، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ حکومت نے کبھی سنجیدگی سے ان کے مطالبات سننے کی کوشش ہی نہیں کی۔اب سراج الحق بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کی ذمہ داری سیاسی بحران ختم کرنا ہے، لیکن وہ مذاکرات کے لئے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔
یہ سب باتیں اس صورت حال کو طشت ازبام کرتی ہیں کہ ابھی ٹھہراﺅ کے حالات نہیں ہیں۔ایک ہیجان ہے کہ جو مختلف شکلوں میں جاری ہے۔ملک میں سیاسی استحکام کو واپس لانا ہے تو اس کے لئے صحیح معنوں میں اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ عمران خان سے مذاکرات کرنے ہوں گے۔اس وقت حکومت کے سب سے بڑے حریف وہی ہیں، اب اگر انہیں صرف تضحیک کا نشانہ بنا کر ایسے بیانات دیئے جاتے رہیں کہ عمران خان اپنی ضد چھوڑیں اور اپنی شکست تسلیم کرلیں تو مجھے نہیں لگتا کہ سیاسی صورت حال نارمل ہو سکے گی۔سیاسی طوفان کبھی ٹلا نہیں کرتے، بلکہ انہیں ختم کرنا پڑتا ہے۔بدقسمتی سے اس نکتے پر حکمران جماعت بالکل بھی سوچنے کو تیار نہیں، البتہ سیاسی بحران ختم ہونے کی گردان ضرور کی جا رہی ہے۔

مزید :

کالم -