چین نے صنعتیں سستی لیبروالے ممالک میں منتقل کرناشروع کردیں

چین نے صنعتیں سستی لیبروالے ممالک میں منتقل کرناشروع کردیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


لاہور ( کامر س رپورٹر )یورپ کی طرز پر چین نے بھی اپنی صنعتیں سستی لیبر اور کم پیداواری اخراجات کے حامل ممالک میں منتقل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس امر کا انکشاف پاک چائینہ جوائینٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے گزشتہ روزچین کے شینڈونگ شیفنگ گروپ کے جنرل مینیجر مسٹر یوان لی اوربزنس مینیجر مسٹر ٹونی نیو کے ساتھ ایک ملاقات کے بعد جاری شدہ اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی مذکورہ اقتصادی منتقلی کے عمل میں پاکستان کیلئے لاتعداد مواقع موجود ہیںاور پاکستان اپنی افرادی قوت کوصنعتی مہارتوں سے لیس کر کے اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ ٹیکسٹائل، گارمنٹس ، شوز اور ہیٹ بنانے والے کارخانوں سمیت چین کی تقریباََ ایک تہائی صنعت اپنے کارخانے پہلے ہی بیرون ملک منتقل کر چکے ہیں۔شاہ فیصل آفریدی نے بتا یا کہ پاکستان سب سے بڑی لیبر فورس رکھنے والے ممالک کی فہرست میں نویں نمبر پر ہے۔لیبر فورس سروے 2013-14 کے مطابق پاکستان کی لیبر فورس57,24 ملین کارکنوں پر مشتمل ہے جس میں سے 3.40 ملین افراد بے روزگار ہیں جبکہ باقی میں سے بیشتر اپنی اصل مہارتوں سے مختلف نوکریوں پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی لیبر فورس کو ہنر مند اور ہنر مندلیبر کو مزید معیار ی بنا کر اپنے انسانی وسائل کی بر آمدات کے ذریعے عالمی منڈیوں سے خطیر زر مبادلہ کما سکتا ہے۔پاک چین جوائینٹ چیمبر کے صدر نے کہا کہ چین، پاکستان کی افرادی قوت کو اپنی صنعتوں کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت کی فراہمی کا بندوبست کرنے کو بھی تیا ر ہے۔

انہوں نے بتا یا کہ اس ضمن میں فنی تربیت کے چینی اور پاکستانی اداروں کے درمیان کار آمد اشتراک عمل کو ممکن بنا یا جاسکتا ہے۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ عالمی صنعتی منتقلیوں کی روشنی میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان ، ٹے وٹا جیسے فنی تعلیم کے قومی اداروںکے تنظیمی ڈھانچے اور نصاب میں بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ضرری ترامیم کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ’ٹیو ٹا©‘ (TEVTA) اوسطاََ ایک لاکھ دس ہزار سے ایک لاکھ بیس ہزار تک طلبا کر داخلہ دینے کی سکت رکھتا ہے جبکہ مارکیٹ میں دس لاکھ سے زائد کی ڈیمانڈ ہے۔ لہٰذاہ حکومت کو فور ی طور پر اس شعبہ میں مزید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔قبل ازیں شیڈونگ شیفنگ گروپ کے جنرل مینیجر مسٹر یوان لی نے شاہ فیصل آفریدی کے ساتھ اپنی ملاقات کے دوران بتا یا کہ چین کی 40 فیصد صنعت اپنے کارخانے بیرون ملک منتقل کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔اور جن ملکوں میں یہ کارخانے منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے ان میں بنگلہ دیش، فلپائن اور ویت نام کے علاوہ پاکستان سر فہرست ہیں۔

مزید :

کامرس -