حکومت ٹیکس ریونیو کو بہتر کرنے کیلئے براہ راست ٹیکس پر توجہ دے: محمد شکیل منیر

حکومت ٹیکس ریونیو کو بہتر کرنے کیلئے براہ راست ٹیکس پر توجہ دے: محمد شکیل منیر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (کامرس ڈیسک) اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر محمد شکیل منیر نے کہا کہ پاکستان کا ٹیکس ریونیو ابھرتی ہوئی مارکیٹوں میں سب سے کم ہے جس کی اہم وجہ براہ راست ٹیکس کی بجائے بلواسطہ ٹیکس پر انحصار کرنا ہے لہذا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ٹیکس آمدن میں اضافہ کرنے اور معیشت میں استحکام لانے کیلئے بلواسطہ کی بجائے براہ راست ٹیکس کوبہتر کرنے پر توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں حکومتوں نے زیادہ تر بلواسطہ ٹیکسوں پر انحصار کیا ہے جس کی وجہ سے ٹیکس ریونیو میں بہتری آنے کی بجائے عوام پر زیادہ بوجھ پڑا ہے لہذا اب اس روش کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشہ پانچ سالوں میں براہ راست ٹیکس کا کل ٹیکس آمدن میں حصہ 38سے39فیصد تک رہا ہے جبکہ باقی تمام ٹیکس ریونیو بلواسطہ ٹیکسوں سے حاصل کیا جاتا رہا ہے جس سے معیشت کو فائدہ پہنچنے کی بجائے عوام کیلئے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ براہ راست ٹیکس کا زیادہ حصہ بھی بلواسطہ طریقے سے وصول کیا جاتا ہے کیونکہ ودہولڈنگ اور ایڈوانس ٹیکس کا حصہ کل براہ راست ٹیکس میں 90فیصد سے زیادہ ہے جبکہ صرف ودہولڈنگ ٹیکس کا براہ راست ٹیکس میں حصہ اب 65فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیلز ٹیکس کا حصہ کل ٹیکس ریونیو میں تقریبا 44فیصد تک ہے جس سے کاروبار کی لاگت اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا یہ اعداد و شمار اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت براہ راست ٹیکس کو بہتر کرنے میں ابھی تک ناکام رہی ہے جبکہ بلواسطہ ٹیکسوں سے معاشرے کے خاص طور پر کمزور طبقات پر مالی دباﺅ بہت بڑھ گیا ہے اور اکثریت کی قوت خرید کم ہونے سے کاروباری سرگرمیوں پر بھی منفی اثر پڑا ہے ۔محمد شکیل منیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بلواسطہ ٹیکسوں پر زیادہ انحصار کرنے کی بجائے براہ راست ٹیکس کوبہتر کرنے کی کوشش کرے اور ٹیکس ریٹس کو کم کر کے ٹیکس کے دائرہ کار کو وسعت دینے پر توجہ دے ۔
جس سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح بہتر ہو گی اور ٹیکس ریونیومیں بھی اضافہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس نظام میں انقلابی اصلاحات لائے بغیر حکومت ٹیکس اہداف کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیچیدہ ٹیکس نظام کو آسان بنائے اور ایک ایسا ٹیکس نظام تشکیل دینے کی کوشش کرے جو سب کیلئے منصفانہ و شفاف ہواور جس پر عمل درآمد کرنا آسان ہو ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک منصفانہ ٹیکس نظام فارمل اکانومی کو فروغ دینے، ٹیکس ریونیو کو بہتر کرنے، اقتصادی ترقی کی رفتار کر تیز کرنے، کاروباری سرگرمیوں کو ترقی دینے اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو گا۔

مزید :

کامرس -