مقبوضہ بیت المقدس میں تیز رفتار کار ریلوے اسٹیشن میں گھس گئی ایک شخص ہلاک ،14 زخمی

مقبوضہ بیت المقدس میں تیز رفتار کار ریلوے اسٹیشن میں گھس گئی ایک شخص ہلاک ،14 ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


یت المقدس(اے این این)مقبوضہ بیت المقدس میں تیز رفتار کار ریلوے اسٹیشن میں گھس گئی، کار کی ٹکر سے ایک شخص ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے، کار ڈرائیور کا لوگوں کر راڈ سے وار،پولیس فائرنگ سے ڈرائیور ہلاک ہو گئے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق تیز رفتار کار ریلوے اسٹیشن میں گھس گئی، لوگوں کو ٹکر مارنے کے بعد ڈرائیور کار سے نکلا اور لوگوں پر لوہے کے راڈ سے وار کرنے لگا، جس مزید 3 افراد زخمی ہو گئے، موقع پر موجود پولیس اہلکاروں نے فائرنگ کر کے حملہ آور کو ہلاک کر دیا، زخمیوں کو طبی امداد کیلئے فورا اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

ایمنسٹی کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میںیہ بات زور دیکر کہی گئی ہے کہ بھارتی فوج کو3نومبر کے روز اسکے اہلکاروں کی فائرنگ سے فیصل یوسف بٹ اور معراج الدین ڈار کی ہلاکت اور دو نوجوانوں کے زخمی ہونے سے متعلق واقعہ کی تحقیقات کے سلسلے میں کشمیر پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کرنا چاہئے۔بیان کے مطابق اگر ٹھوس ثبوت حاصل ہو ںتو ملوث اہلکاروں کے خلاف سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جانا چاہئے اوراہلکاروں کو قانونی کارروائی سے بچانے کے لئے آرمڈ فورسز سپیشل پاﺅرس ایکٹ کا استعمال نہیں کیا جانا چاہئے۔ایمنسٹی نے اس واقعہ پرفوج کی طرف سے جاری کئے گئے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ فوج کے مطابق گاڑی روکنے کے اشارے کے باوجود نہیں رکی جس کے نتیجے میں فوج کو گولی چلانی پڑی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے معاملے کی نسبت ایف آئی آر درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہے جبکہ فوج نے بھی واقعہ کی کورٹ آف انکوائری کے احکامات صادر کرتے ہوئے کہا ہے کہ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے 1990سے پیش آئے ایسے واقعات کو دستاویزی شکل بھی دی ہے جن میں سال2013میں گاندربل میں ایک18سالہ نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ بھی شامل ہے جس کے بارے میں فوج نے پولیس تحقیقات میں تعاون فراہم کرنے سے انکار کیااور کورٹ آف انکوائری کے دوران ثابت ہونے کے باوجوداپنے اہلکاروں کوانسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے جوابدہ بنانے میں ناکام ہوگئی۔ایمنسٹی کا مزیدکہنا تھا کہ کورٹ آف انکوائری بعض اوقات صرف فوجی اہلکاروں کی آرا پر مبنی ہوتی ہے اور نہ صرف پولیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے برعکس ہوتی ہے بلکہ ماضی میں ان کے ذریعے سیکورٹی فورسز کو قانونی تحفظ بھی فراہم کیا گیا۔بیان کے مطا بق ایمنسٹی انٹر نیشنل بھارتی حکومت پر زور دیتی ہے کہ وہ سول حکام کے ہاتھوں پولیس تحقیقات کو اسکے منطقی انجام تک پہنچانے کو یقینی بنائے اور قصور واروں کے خلاف سول عدالتوں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق شفاف مقدمہ چلاکر انہیں کیفر کردار تک پہنچائے۔ایمنسٹی نے جموں کشمیر کے حکام پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بھارتی آئین اور بین الاقوامی قانون کے مطابق لوگوں کے زندگی کے حق کا احترام کرے۔تنظیم کی طرف سے جاری بیان میں یہ بات بھی زوردیکر کہی گئی ہے کہ فائر آرمز کا استعمال صرف عالمی قوانین کے مطابق ہواور اسے آخری حربے کے طور پر اس وقت استعمال کیا جائے جب عام زندگیوں کوتحفظ فراہم کرنے کیلئے ایسا کرنا انتہائی ضروری ہو۔

مزید :

عالمی منظر -